آسٹریلیا میں غزہ نسل کشی کے تین سال مکمل ہونے پر تمام شہروں میں فلسطین حامی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا، ان مظاہروں میں عوام نے اسرائیل پر اسلحہ پابندی کا مطالبہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:05 PM IST | Canberra
آسٹریلیا میں غزہ نسل کشی کے تین سال مکمل ہونے پر تمام شہروں میں فلسطین حامی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا، ان مظاہروں میں عوام نے اسرائیل پر اسلحہ پابندی کا مطالبہ کیا۔
آسٹریلیا کے شہروں میں بدھ کو فلسطین کے حامی مظاہرین جمع ہوئے، غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے آغاز کی تیسری برسی سے ایک دن قبل، منعقد کئے گئے ان مظاہروں میں عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر پابندیاں اور دو طرفہ اسلحہ پابندی عائد کرے۔میلبورن میں قائم ہیرالڈ سن نے رپورٹ کیا کہ تقریباً۷۰؍ کارکنان میلبورن میں اسٹیٹ لائبریری آف وکٹوریہ کے باہر دن بھر کی چوکسی کے لیے جمع ہوئے۔لائبریری کے احاطے میں فلسطینی جھنڈے لہرائے گئے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا ایک کٹ آؤٹ بھی دکھایا گیا جس میں ’’نسل کشی کا مجرم‘‘ لکھا ہوا تھا۔واضح رہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے نومبر۲۰۲۴ء میں غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر نیتن یاہو کی گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ عدالت نے انہیں مفرور کے طور پر درج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ستمبر میں مسجدِ اقصیٰ پر ۲۶؍ یلغار، ابراہیمی مسجد میں ۱۵۰؍ مرتبہ اذان پر پابندی
بعد ازاں لائبریری کی سیڑھیوں پر، مظاہرین نے تصاویر اور دیگر نمائشوں کے ساتھ ایک بڑا فلسطینی پرچم پھیلا دیا، جبکہ ایک بینر پر لکھا تھا،’’ہم باقی رہیں گے، ہم دوبارہ تعمیر کریں گے۔‘‘ منتظمین نے شرکاء سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ میں مارے گئے فلسطینیوں کا پرامن سوگ منائیں۔ہیرالڈ سن نے اجتماع کے دوران مختصر زبانی جھڑپوں کی اطلاع بھی ہے، تاہم منتظمین نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ کسی تنازع میں نہ الجھیں۔ جبکہ جوابی مظاہرین کے آنے کے بعد اضافی پولیس افسران تعینات کیے گئے۔ آسٹریلوی سرکاری نشریاتی ادارے اے بی سی نے رپورٹ کیا سڈنی میں، بدھ کی شام ٹاؤن ہال میںعلاحدہ فلسطینی حامی مظاہرہ طے تھا، جبکہ ایک اور اجتماع وولونگونگ میں منصوبہ بند تھا۔ ساتھ ہی اتوار کو آسٹریلیا بھر میں مزید فلسطینی حامی ریلیاں طے شدہ ہیں۔
الائنس آف آسٹریلین مسلمز (اے اے ایم) اور آسٹریلین نیشنل امامز کونسل (اے این آئی سی) نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر شیئر کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ تین سال کے اسرائیلی حملوں نے فلسطینیوں کے لیے قتل، تباہی، نقل مکانی، بھوک اور بے پناہ مصائب پیدا کئے ہیں۔گروپوں نے آسٹریلوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر ’’بامعنی پابندیاں‘‘ اور ’’ایک جامع دو طرفہ اسلحہ پابندی‘‘ عائد کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ آسٹریلیا براہ راست یا بالواسطہ طور پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں حصہ نہ لے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ نسل کشی کے ۳؍ سال: ۲۰؍ ہزار طلبہ، ۲۶۳؍ صحافی شہید: فلسطینی وزارت
علاوہ ازیں مظاہرین نے غزہ تک بلا روک ٹوک انسانی رسائی اور شہری انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے حمایت کا بھی مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ یہ مطالبہ آسٹریلیا اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعلقات کی جانچ کے درمیان سامنے آیا ہے۔ آسٹریلیا کے محکمہ خارجہ اور تجارت کے مطابق دونوں ممالک نے ۲۰۱۷ءمیں دفاعی صنعت کے تعاون پر مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے، جبکہ سالانہ اسٹریٹجک دفاعی مذاکرات۲۰۱۸ء میں شروع ہوئے تھے۔ جبکہ آسٹریلیا کااسرائیل کے زیر استعمال ایف-۳۵؍ جنگی طیاروں کی عالمی سپلائی چین میں بھی حصہ ہے، جس میں۷۰؍ سے زائد آسٹریلوی کمپنیوں کااس پروگرام میں پرزہ جات کا حصہ ہے۔ تاہم آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ براہ راست اسرائیل کو ہتھیار یا گولہ بارود فراہم نہیں کرتی۔
مزید برآںمسلم گروپوں نے کہا کہ ستمبر۲۰۲۵ء میں آسٹریلیا کی جانب سے ریاست فلسطین کو تسلیم کرنا ایک اہم قدم تھا لیکن اس کے بعد ٹھوس سیاسی اور سفارتی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔واضح رہے کہ فلسطینی اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر۲۰۲۳ء سے جاری غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی میں ۷۴۲۰۰؍سے زیادہ فلسطینی جاں بحق اور ۱۷۵۲۰۰, سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔