معروف عربی ادیب و مہتمم ندوۃ العلماء مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کا انتقال ہوگیا، اس خبر کے آنے کے بعددینی، علمی و ادبی حلقے سوگوار، اکھلیش یادو ، مولانا ارشد مدنی سمیت ملک و بیرون ملک کی اہم شخصیات نے تعزیت کی۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 10:05 PM IST | Lukhnow
معروف عربی ادیب و مہتمم ندوۃ العلماء مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کا انتقال ہوگیا، اس خبر کے آنے کے بعددینی، علمی و ادبی حلقے سوگوار، اکھلیش یادو ، مولانا ارشد مدنی سمیت ملک و بیرون ملک کی اہم شخصیات نے تعزیت کی۔
ایشیا کی عظیم دینی درسگاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کےمہتمم و معروف عالم دین اور مشہور عربی ادیب مولانا ڈاکٹر سعید الرحمٰن اعظمی ندوی کا بدھ کی دوپہر محلہ مکارم نگر واقع رہائش گاہ پر انتقال ہوگیا۔ مولانا عرصہ سے علیل اور صاحب فراش تھے ۔ صبح ان کی طبیعت بہتر تھی ، ظہر کی نمازکےلئے بیدارنہیں ہوئے تو اہل خانہ کو تشویش ہوئی ، ڈاکٹر کو طلب کیا جنہوں نےتقریباً تین بجے مولاناکے انتقال کی تصدیق کی ۔ مولانا کی عمر تقریبا ۹۲؍سال تھی ، ان کی نماز جنازہ دارالعلوم ندوۃ العلماءمیں جمعرات کو صبح ۸؍بجے ادا کی جائےگی، جبکہ تدفین ڈالی گنج قبرستان میں عمل میں آئے گی ۔ پسماندگان میں دو بیٹے لطف الرحمٰن، عطاء الرحمٰن اور چھ بیٹیاں ہیں۔ عطاء الرحمٰن خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ، لکھنؤ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ مولانا کے انتقال کے بعد ناظم ندوۃ العلماء مولانا بلال حسنی ندوی، نائب مہتمم عبدالعزیز ندوی بھٹکلی اور سماجوادی پارٹی کے قومی صدر و سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے رہائش گاہ پہنچ کر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ وہیں جمعیۃ علماءہند کے صدر مولانا ارشد مدنی ، اسلامک سنٹر آف انڈیا کے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی کے علاوہ ملک و بیرون ملک کی اہم شخصیات نے تعزیتی بیانات جاری کئے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا شیوسینا کا نشان اُن کو دینا مناسب ہے جو دَل بدلی کے ملزم ہیں: سپریم کورٹ
مولانا سعید الرحمٰن اعظمی ندوی عربی زبان و ادب میں خصوصی مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے تدریس، تصنیف، تحقیق اور صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ معروف عربی مجلہ ’البعث الاسلامی‘ سے ان کی طویل وابستگی رہی اور وہ اس کے چیف ایڈیٹر کی ذمہ داری بھی انجام دیتے رہے۔ ان کی علمی زندگی کا ایک اہم حصہ طلبہ کی تعلیم و تربیت اور عربی زبان و ادب کے فروغ سے وابستہ رہا۔
مولانا کی ولادت ۱۴؍ مئی۱۹۳۴ء کو مئو (اعظم گڑھ) میں ہوئی۔ انہوں نے جامعہ مفتاح العلوم، مئو سے عالمیت اور فضیلت کی ڈگری حاصل کی ، اس کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے عربی ادب میں تخصص کیا۔مفکر اسلام مولانا علی میاں حسنی ندوی کے زیر تربیت رہے ۔ ۱۹۵۸ء میں عربی زبان و ادب میں مزید علمی استفادے کے لیے بغداد میں بھی قیام کیا اور وہاں معروف عالم و ادیب ڈاکٹر تقی الدین ہلالی مراکشی سے استفادہ کیا۔ندوۃ العلماءمیں استاد کی حیثیت سے ۱۹۵۵ءمیں اپنی خدمات شروع کیں ، اسی وقت ’ البعث اسلامی ‘کے شریک ایڈیٹر کے طور پر اپنی صحافتی خدمات شروع کیں ۔ ۱۹۷۹ءمیں البعث الاسلامی کے چیف ایڈیٹر بنائے گئے ۔وہیں ۱۹۵۹ءمیں پندرہ روزہ عربی رسالہ الرائد کےشریک ایڈیٹر مقررہوئے ۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ۱۶؍ لاکھ نئے پُراسرار ووٹرس کی شناخت خفیہ کیوں؟
علاوہ ازیںدارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریس کے دوران انہوں نے عربی زبان و ادب کی تعلیم کے ساتھ علمی و فکری تربیت میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ ۱۹۹۳ء سے۱۹۹۹ء تک وہ کلیۃ اللغۃ العربیۃ و آدابہا کے عمید رہے، جس کے بعد انہیں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی اہتمام کی ذمہ داری سونپی گئی۔ ۲۰۰۰ءمیں دارالعلوم ندوۃ العلماءکے مہتمم بنائے گئے اور اب تک عہدہ پر فائز رہے ۔عالمی رابطہ ادب اسلامی کے تاسیسی ممبر رہے۔ برسوں تک ندوۃ العلماءکی جامع مسجد کے امام و خطیب رہے ۔ انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی رکن اور چانسلر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن بھی رہے۔ وہیں متعدد دینی اداروں کو آپ کی سرپرستی حاصل رہی۔
ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں۱۹۹۴ءمیں صدر جمہوریہ ایوارڈ برائے عربی زبان وادب سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ بھی انہیں متعدد ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جن میں موسسۃ زائد بن سلطان آل نہیان (۲۰۰۸ء)، مولانا ابوالحسن علی حسنی ایوارڈ منجانب اسلامک سوشل اینڈ کلچرل فورم، ممبئی (۲۰۰۷ء) بھی شامل ہیں۔
علاوہ ازیں مولانا نے متعدد ممالک کے دعوتی اسفار کئے ، ان میں سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات ، کویت، پاکستان ، نیپال ، سنگاپور،برطانیہ ، بنگلہ دیش ، فیجی ، آسٹریلیا، عمان ، شام، عراق ، قطر ، جنوبی افریقہ وغیرہ ممالک شامل ہیں۔ مولانادرجنوں اردو اور عربی کتابوں کے مصنف تھے ، اردو کتابوں میں اسلام اور مغرب ، اسوۂ حسنہ کے آئینہ میں ، اسلامی ثقافت اور ندوۃ العلماء، مکاتیب مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی ، اسلامی معاشرہ اور اس کی تعمیری بنیادیں سمیت دیگر اردو اور عربی کتابیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ میں گیانیش کمار کے خلاف سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے کارکنان کا زبردست احتجاج
مولانا کی شخصیت علمی وقار، سادگی، تواضع، شفقت اور اخلاص کا مجموعہ تھی۔ ملک و بیرون ملک سے بڑی تعداد میں علماء، طلبہ اور علمی شخصیات نے ان سے استفادہ کیا۔ ان کی تحریری، تدریسی اور صحافتی خدمات نے عربی زبان و ادب اور اسلامی فکر کے میدان میں ایک مستقل علمی سرمایہ چھوڑا ہے۔ذمہ داران ندوۃ العلماءنے کہا کہ ادارہ نے ایک ایسے بزرگ عالم، استاد اور منتظم کو کھو دیا ہے جس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ادارے کی علمی و تربیتی خدمت میں گزارا۔مولانا کے ان کے انتقال پر علماء، اساتذہ، طلبہ اور مختلف دینی و علمی حلقوں کی جانب سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے۔