فرانس میں طلبہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان سیکڑوں ہائی اسکول بند کر دئے گئے،طویل اسکول اوقات اور ناکافی حالات کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے اسکولوں کو بلاک کر دیا ہے اور پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں، حراست میں لیے گئے۹۰؍ فیصد نابالغ ہیں۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 8:39 PM IST | Paris
فرانس میں طلبہ کے بڑھتے ہوئے احتجاج کے درمیان سیکڑوں ہائی اسکول بند کر دئے گئے،طویل اسکول اوقات اور ناکافی حالات کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ نے اسکولوں کو بلاک کر دیا ہے اور پولیس سے جھڑپیں ہوئی ہیں، حراست میں لیے گئے۹۰؍ فیصد نابالغ ہیں۔
حکام نے بتایا کہ جمعہ کو فرانس بھر میں تقریباً۴۰۰؍ ہائی اسکول ایک ہفتہ طویل احتجاجی تحریک کے باعث بند کر دیے گئے جس میں درجنوں عملے کے ارکان زخمی اور تقریباً۲۰۰۰؍ افراد گرفتار ہوئے ہیں۔یہ تحریک، جو گزشتہ ہفتے پیرس کے علاقے میں شروع ہوئی اور تیزی سے ملک بھر میں پھیل گئی، جس کے نتیجے میں نو عمر طلبہ کا اپنے اداروں تک پہنچنا مشکل ہوگیا اس کے علاوہ پولیس سے تصادم کی شکل میں ظاہر ہورہا ہے۔ واضح رہے کہ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کے اسکول کے اوقات بہت زیادہ طویل ہیں، اسکولوں میں حالات ناکافی ہیں، بشمول زیادہ گرم کلاس رومز، اور عملے کی بہت زیادہ غیر حاضری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین میں رہائشی بحران کے خلاف احتجاج، میڈرڈ میں ۳۰۰؍ سے زائد خیمے نصب
بعد ازاں حکومت کا کہنا ہے کہ طلبہ کی شکایات جائز ہیں لیکن تشدد کو مسترد کردیا۔وزیر تعلیم ایڈورڈ جیفری نے کہا کہ ’’ہائی اسکول کی طلبہ تحریک کو انتہائی پرتشدد گروہوں نے یرغمال بنا رکھا ہے‘‘، انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے۳۷۰۰؍ میں سے تقریباً ۴۰۰؍ ہائی اسکول جمعہ کو بند رہنے کی توقع ہے۔علاوہ ازیںبہت سے ہائی اسکولوں نے بھی فاصلاتی کلاسیز منعقد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، خاص طور پر جنوبی شہر مارسیل میں۔بی ایف ایم ٹی وی کو جیفری نے بتایا کہ تحریک کے آغاز سے اب تک کم از کم۶۵؍ عملے کے اراکین زخمی ہوئے ہیں، جن میں۴۰؍ ہائی اسکول کے پرنسپل شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا، ’’والدین کو واضح طور پر آگے بڑھنا چاہیے اور اپنے بچوں کو بتانا چاہیے کہ وہ احتجاج میں نہ جائیں۔اب جو اہمیت رکھتا ہے وہ یہ یقینی بنانا ہے کہ ہمارے بچے اب سڑکوں پر نہ نکلیں، کیونکہ وہ خطرے میں ہیں۔‘‘مزید برآںوزیر انصاف جیرالڈ ڈارمینن نے کہا کہ انہوں نے استغاثہ سے کہا ہے کہ وہ احتجاج کے دوران بچوں کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے لیے والدین کو ذمہ دار ٹھہرائیں اور مرمت کی ادائیگی کریں۔
ڈارمینن نے آر ٹی ایل کو بتایا،’’تحریک کے آغاز سے اب تک تقریباً ۲۰۰۰؍ افراد کو پولیس حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے۹۰؍ فیصد نابالغ ہیں۔