• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: طلبہ کے احتجاج میں شدت، ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد گرفتار، ۸۶؍ فیصد نابالغ

Updated: October 16, 2026, 2:10 PM IST | Paris

فرانس میں طلبہ نے ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی ناکہ بندی جاری رکھتے ہوئے حکومت پر مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔ پیرس پولیس کے مطابق، احتجاج کے دوران اب تک ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جن میں ۸۶؍ فیصد نابالغ ہیں، جبکہ سیکڑوں پولیس اہلکار اور محکمۂ تعلیم کے ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔

French police attempting to control students. Photo: X
فرانس پولیس طلبہ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

فرانسیسی نشریاتی ادارے بی ایف ایم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس میں طلبہ نے جمعرات کو بھی ہائی اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی ناکہ بندی جاری رکھی، جبکہ حکومت کو سنیچر کو ملک گیر مظاہرے سے قبل طلبہ کے مطالبات پر توجہ دینے کے لیے ایک بار پھر دباؤ کا سامنا ہے۔ وزیر تعلیم ایڈوارڈ گیفری نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً ۲۰۰؍ ہائی اسکولوں کے طلبہ اب بھی احتجاج میں سرگرم ہیں۔ وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے کہا کہ یہ احتجاج اب طلبہ کی تحریک جیسا نہیں رہا بلکہ ’’شہری تشدد کی تحریک‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے بعض علاقوں میں تشدد پر اکسانے کی ’’انتہائی افسوس ناک اپیل‘‘ کی مذمت بھی کی۔ لیکورنو نے کہا کہ اسکولوں کی عمارتوں سے متعلق مسائل پر علاقائی کونسلوں سے مشاورت کی جائے گی۔ انہوں نے مظاہروں کے اختتام پر پیش آنے والے پُرتشدد واقعات پر بھی تنقید کی۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ کے تقریباً ایک تہائی دولت مند شہری ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں: رپورٹ

گیفری نے بتایا کہ حکومت فرانس کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے پورے نظام کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ عمل ’پارکورسوپ‘ (Parcoursup) کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے، جو اعلیٰ تعلیم کے لیے درخواست دینے کا فرانسیسی پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اقدامات کا اعلان اکتوبر کے آخر تک متوقع ہے۔ جنوب مغربی فرانس کے شہر گراڈیگنان کے ایک ہائی اسکول کے دورے کے دوران انہوں نے کہا، ’’فیصلے کرنے کا وقت قریب آرہا ہے، لیکن فی الحال ہم اس معاملے پر کام کر رہے ہیں۔‘‘ گیفری نے مزید کہا کہ حکومت نے اسکولوں کے لیے جن ۳؍ ہزار متبادل اساتذہ کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، ان میں سے دو تہائی اساتذہ تعینات کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، خصوصی مشکلات کا سامنا کرنے والے ہائی اسکولوں کی تعداد گزشتہ جمعرات کے ۱۱۴؍ سے کم ہو کر اس جمعرات کو ۴۷؍ رہ گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موسمِ خزاں کی تعطیلات کے بعد جب کلاسیں دوبارہ شروع ہوں گی تو کوئی بھی ہائی اسکول ’’ریڈ زون‘‘ میں نہیں رہے گا۔

طلبہ کے نمائندوں کی جمعرات کی شام ۵؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر وزارتِ تعلیم میں گیفری سے دوبارہ ملاقات طے ہے۔ اس سے قبل ۸؍ اکتوبر کو ہونے والی ملاقات میں طلبہ کی تنظیموں ’لے لیسیئن‘ (Les Lyceens!) اور ’یونین سِنڈیکل لیسیئن‘ نے احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ احتجاج کا دائرہ پیرس کے مغرب میں واقع شہر جوئے اَن جوزاس کے کاروباری تعلیمی ادارے ’ایچ ای سی پیرس‘ تک بھی پہنچ گیا، جہاں تحریک شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ طلبہ نے ہائی اسکول کے طلبہ کی حمایت میں مظاہرہ کیا۔ لیون کے محکمۂ انتظامیہ نے جمعرات کی صبح طلبہ کے ایک مظاہرے پر پابندی عائد کر دی۔ حکام نے اس کی وجہ گزشتہ احتجاجی مظاہروں کے دوران عوامی نظم و ضبط میں مزید بگاڑ، کاروباری اداروں کو نقصان پہنچنے اور سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف تشدد کے خدشات کو قرار دیا۔ پیرس، مارسی اور لیون کے اطراف کئی اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ناکہ بندی جمعرات کو بھی جاری رہی۔

یہ بھی پڑھئے: انتھروپک کا انتباہ: اے آئی ماڈلز ۲۰۲۶ء کے اختتام تک انٹرنیٹ پر اپنی کاپیاں خود بنانے کے قابل ہوگے

پیرس پولیس کے مطابق، طلبہ کے احتجاج شروع ہونے کے بعد سے پیرس کے شہری علاقے میں ایک ہزار ۲۶۰؍ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں سے ۸۶؍ فیصد نابالغ ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ صورتحال کی رپورٹ کے مطابق، ان واقعات میں ۲۸۶؍ پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے ارکان کے علاوہ محکمۂ تعلیم کے ۱۳؍ ملازمین بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے کہا، ’’تشدد کے واقعات بار بار پیش آرہے ہیں اور ان کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔‘‘ اس نے مزید بتایا کہ ۱۳؍ اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران داخلی سکیورٹی فورسز کے ۷۱؍ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کے مطابق، بعض افراد نے سڑکوں سے پتھر اکھاڑ کر پولیس اہلکاروں اور جنڈارمری فورس کے ارکان پر پھینکے۔ متعدد اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال بھی لے جانا پڑا۔ دوسری جانب، پیرس کے شمال میں واقع سینٹ ڈینس کے ’پال ایلوار ہائی اسکول‘ کے عملے نے اسکول کے اندر ایک طالب علم کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کی ’’پُرتشدد‘‘ کارروائی کی مذمت کی ہے۔ عملے کا الزام ہے کہ گرفتاری کی مخالفت کرنے والے ملازمین کو پولیس اہلکاروں نے مارا پیٹا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK