Updated: October 16, 2026, 11:18 AM IST
| London
برطانیہ کی معیشت پر گرتے اعتماد اور ٹیکس قوانین میں ممکنہ تبدیلیوں کے خدشات کے باعث تقریباً ۳۰؍ فیصد دولت مند شہری ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی سمیت کئی ممالک دولت مند افراد کے لیے متبادل منزلیں بن رہے ہیں، جبکہ برطانیہ کو سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔
برطانیہ کے وزیر مالیات جان ہیلی اور وزیر اعظم اینڈی برنہم۔ تصویر: آئی این این
برطانیہ کے تقریباً ہر تین میں سے ایک دولت مند شہری ملک چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق، معیشت پر اعتماد میں کمی اور مستقبل میں ٹیکس قوانین میں ممکنہ تبدیلیوں کے خدشات کے باعث خوش حال افراد یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ انہیں کہاں رہنا اور اپنی دولت کا انتظام کرنا چاہیے۔ گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ’سالٹس ویلتھ انڈیکس رپورٹ‘ کے مطابق، برطانیہ چھوڑنے پر غور کرنے والے دولت مند افراد کی شرح گزشتہ سال کے ۲۵؍ فیصد سے بڑھ کر ۳۰؍ فیصد ہوگئی ہے۔ ان میں سے ۸؍ فیصد افراد ملک چھوڑنے کے لیے عملی طور پر امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ ۲۲؍ فیصد کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اس پر غور کرسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ۷۰؍ فیصد افراد کا ملک چھوڑنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دولت مند افراد کے لیے برطانیہ کی معیشت اور ٹیکس نظام پر اعتماد اہمیت رکھتا ہے۔
سالٹس کی یہ تحقیق برطانیہ کے ۲؍ ہزار ایسے بالغ شہریوں کے سروے پر مبنی ہے جن کے پاس اپنی بنیادی رہائش گاہ کے علاوہ کم از کم ۲؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار پاؤنڈ (۳؍ لاکھ ۳۱؍ ہزار ۶۰۰؍ امریکی ڈالر) کے قابلِ سرمایہ کاری اثاثے ہیں۔ سالانہ سروے کے مطابق، دولت مند افراد میں برطانوی معیشت پر اعتماد کی شرح گزشتہ سال کے ۶۶؍ فیصد سے گھٹ کر ۵۶؍ فیصد رہ گئی ہے۔ اب ۴۰؍ فیصد افراد ممکنہ ٹیکس تبدیلیوں کو اپنی دولت کے لیے ایک اہم خطرہ سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: روس کے بڑے حملے میں یوکرین میں کم از کم۶؍ افراد ہلاک
برطانیہ کی دولت میں کمی
بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے تجزیے کے مطابق، برطانیہ چھوڑنے والے انتہائی دولت مند افراد کی مجموعی دولت ۱۶۰؍ ارب ڈالر ہے۔
لکشمی متل، دولت کا ذریعہ: آرسیلر متل، منتقل ہو رہے ہیں: سوئٹزرلینڈ اور متحدہ عرب امارات، دولت: ۴۰ء۸؍ ارب ڈالر۔
شراون بھارتی متل، دولت کا ذریعہ: بھارتی انٹرپرائزز، منتقل ہو رہے ہیں: متحدہ عرب امارات، دولت: ۲۳ء۳؍ ارب ڈالر۔
جان فریڈریکسن، دولت کا ذریعہ: فرنٹ لائن اور دیگر ادارے، منتقل ہو رہے ہیں: متحدہ عرب امارات، دولت: ۱۹ء۲؍ ارب ڈالر۔
محمد منصور، دولت کا ذریعہ: منصور گروپ، منتقل ہو رہے ہیں: مصر، دولت: ۱۸؍ ارب ڈالر۔
ایان اور رچرڈ لیونگ اسٹون، دولت کا ذریعہ: لندن اینڈ ریجنل پراپرٹیز، منتقل ہو رہے ہیں: موناکو، دولت: ۱۱ء۲؍ ارب ڈالر۔
ناصف ساویرس، دولت کا ذریعہ: اوراسکوم، منتقل ہو رہے ہیں: اٹلی اور متحدہ عرب امارات، دولت: ۹ء۶؍ ارب ڈالر۔
گیوم پوزاز، دولت کا ذریعہ: چیک آؤٹ ڈاٹ کام، منتقل ہو رہے ہیں: موناکو، دولت: ۶ء۸؍ ارب ڈالر۔
ٹرولس ہولچ پوولسن، دولت کا ذریعہ: بیسٹ سیلر، منتقل ہو رہے ہیں: ڈنمارک، دولت: ۵ء۳؍ ارب ڈالر۔
ایلن ہاورڈ، دولت کا ذریعہ: بریون ہاورڈ، منتقل ہو رہے ہیں: سوئٹزرلینڈ، دولت: ۵؍ ارب ڈالر۔
جان ریس، دولت کا ذریعہ: آئی نیوس، منتقل ہو رہے ہیں: موناکو، دولت: ۴ء۱؍ ارب ڈالر۔
این بیوفور، دولت کا ذریعہ: اِپسین، منتقل ہو رہی ہیں: سوئٹزرلینڈ، دولت: ۴؍ ارب ڈالر۔
کرس روکوس، دولت کا ذریعہ: روکوس کیپٹل مینجمنٹ، منتقل ہو رہے ہیں: یونان، دولت: ۴؍ ارب ڈالر۔
جیریمی کولر، دولت کا ذریعہ: کولر کیپیٹل، منتقل ہو رہے ہیں: سوئٹزرلینڈ، دولت: ۳ء۸؍ ارب ڈالر۔
لیونیڈاس اور نکولس لازاری، دولت کا ذریعہ: لازاری انویسٹمنٹس، منتقل ہو رہے ہیں: قبرص، دولت: ۳ء۲؍ ارب ڈالر۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: ۱۳؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی زیر غور
گزشتہ سال اپریل میں برطانیہ کے نان ڈومیسائل ٹیکس نظام کے خاتمے نے بھی دولت مند افراد اور خاندانوں کے لیے ملک کی کشش سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ دولت مند افراد کی برطانیہ سے روانگی ان ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے جہاں ٹیکس قوانین نسبتاً نرم ہیں اور جو برطانوی دولت کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ افراد اپنی دولت رکھنے اور سرمایہ کاری کے لیے متبادل ممالک پر غور کررہے ہیں۔ ان میں متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، سنگاپور اور امریکہ شامل ہیں۔
متحدہ عرب امارات دولت مند افراد کی نقل مکانی کے لیے اہم مقامات میں شامل ہوگیا ہے۔ یہاں انفرادی آمدنی پر ٹیکس نہ ہونے، طویل مدتی رہائش کی سہولت، جدید بنیادی ڈھانچے، مستحکم مالیاتی مراکز اور سرمایہ کاروں و کاروباری افراد کے لیے سازگار ماحول کو اس کی کشش کی اہم وجوہات قرار دیا جاتا ہے۔
سوئٹزرلینڈ کی ٹیکنالوجی اور امیگریشن سے متعلق مشاورتی کمپنی ’سٹیزن ایکس‘ کی پیش گوئی ہے کہ برطانیہ ۲۰۲۷ء میں خالص طور پر ۵؍ ہزار ۷۰۰؍ کروڑ پتی افراد سے محروم ہوسکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ تاریخی معیار کے لحاظ سے ایک بڑی تعداد ہے، تاہم گزشتہ پیش گوئی کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کے بنیادی تخمینے کے مطابق، برطانیہ کو اس سے پہلے۸؍ ہزار ۶۰۰؍ کروڑ پتی افراد کا خالص نقصان ہوسکتا تھا، جو اس سال دنیا میں سب سے زیادہ ہوتا۔
دبئی میں قائم مشاورتی ادارے ’سوورین پی پی جی کارپوریٹ سروسز‘ کے مشرق وسطیٰ کے مینیجنگ ڈائریکٹر سائمن گورڈن کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا برطانیہ میں حالیہ ٹیکس تبدیلیاں اور مستقبل میں مزید تبدیلیوں سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال مستقل طور پر اس بات کو بدل دے گی کہ دولت مند خاندان کہاں رہنے، کاروبار چلانے اور اپنی دولت کا انتظام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ گورڈن نے ’دی نیشنل‘ کو بتایا کہ علاقائی تنازع کے باعث مارچ سے مئی کے درمیان متحدہ عرب امارات سے متعلق برطانیہ سے آنے والی پوچھ گچھ میں کمی آئی تھی، تاہم جون سے ان میں دوبارہ اضافہ ہوا اور ستمبر میں بھی یہ سلسلہ برقرار رہا۔ ستمبر میں برطانیہ سے موصول ہونے والی مجموعی کاروباری پوچھ گچھ میں متحدہ عرب امارات کا حصہ دوبارہ ۲۰؍ فیصد رہا۔ ان کے مطابق، یہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر یقینی حالات کے باوجود متحدہ عرب امارات طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے والے افراد کے لیے اہم انتخاب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی حمایت پر انڈونیشیا میں اینڈریا بوچیلی کے کنسرٹ کی منسوخی کا مطالبہ
ٹیکس قوانین میں تبدیلیوں سے بحث تیز
برطانیہ کے نئے نظامِ ٹیکس برائے غیر ملکی آمدنی اور منافع کے تحت، وہ اہل نئے باشندے جو مسلسل کم از کم ۱۰؍ برس تک برطانیہ کے ٹیکس رہائشی نہیں رہے، برطانیہ میں ٹیکس رہائش کے ابتدائی چار برسوں کے دوران مخصوص شرائط کے تحت اپنی اہل غیر ملکی آمدنی اور منافع پر ٹیکس میں رعایت حاصل کرسکتے ہیں۔ اس مدت کے بعد عموماً ان کی دنیا بھر سے حاصل ہونے والی آمدنی اور منافع پر ٹیکس عائد ہوتا ہے۔ وراثتی ٹیکس کے نظام میں بھی تبدیلی کرکے اسے رہائش کی بنیاد سے منسلک کردیا گیا ہے۔ متعلقہ قواعد کے تحت، کسی فرد کے گزشتہ ۲۰؍ ٹیکس برسوں میں سے ۱۰؍ برس برطانیہ کا رہائشی ہونے کے بعد بیرونِ ملک موجود اثاثے بھی عموماً وراثتی ٹیکس کے دائرے میں آسکتے ہیں۔ گورڈن کے مطابق، نان ڈومیسائل نظام کے خاتمے اور وراثتی ٹیکس کو رہائش کی بنیاد سے منسلک کرنے کے فیصلے نے بین الاقوامی نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کے ساتھ ان معاملات پر بات چیت کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔
متحدہ عرب امارات پوچھ گچھ میں سرفہرست
گورڈن کے مطابق، اب موصول ہونے والی پوچھ گچھ میں رہائش، خاندان کی نقل مکانی، جانشینی کی منصوبہ بندی، کاروباری ملکیت اور مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے موزوں ملک کے انتخاب جیسے موضوعات زیادہ نمایاں ہیں۔سوورین پی پی جی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ سے موصول ہونے والی پوچھ گچھ میں متحدہ عرب امارات کا حصہ ۱۶ء۲؍ فیصد رہا، جو سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد آئل آف مین ۱۲ء۸؍ فیصد، پرتگال ۱۱ء۷؍ فیصد، جبرالٹر ۵ء۵؍ فیصد اور مالٹا ۴ء۳؍ فیصد کے ساتھ شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ سے متحدہ عرب امارات کے بارے میں موصول ہونے والی تقریباً ۶۰؍ فیصد پوچھ گچھ کمپنی قائم کرنے، کاروباری لائسنس حاصل کرنے یا دیگر تجارتی انتظامات سے متعلق تھی۔ مزید ۲۱ء۹؍ فیصد پوچھ گچھ رہائش، نقل مکانی یا ویزا کے بارے میں تھی، جبکہ ۱۳ء۹؍ فیصد کا تعلق دولت کے انتظامی ڈھانچوں، مثلاً ٹرسٹ، فاؤنڈیشن اور ہولڈنگ کمپنیوں سے تھا۔ گورڈن کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں بچت کسی معاملے پر ابتدائی گفتگو کا سبب تو بن سکتی ہے، لیکن صرف یہی چیز عموماً کسی شخص کو نقل مکانی کے فیصلے تک نہیں پہنچاتی۔ ان کے مطابق، متحدہ عرب امارات کا بین الاقوامی رابطوں کا نظام، کاروباری بنیادی ڈھانچہ اور مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقہ کی منڈیوں تک رسائی ان خاندانوں کے لیے پرکشش ہے جو اپنے کاروبار کے لیے ایک موزوں مرکز چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو نےشمالی مغربی کنارے کے پناہ گزین کیمپوں میں بے گھر فلسطینیوں کی واپسی مسترد کی
انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور سنگاپور دولت کے انتظام کے مستحکم شعبوں کے لیے معروف ہیں، جبکہ پرتگال اور مالٹا یورپ میں رہائش اور طرزِ زندگی سے متعلق سہولتوں کے خواہش مند افراد کو اپنی جانب راغب کررہے ہیں۔ ادارے کو برطانیہ سے موصول ہونے والی تمام پوچھ گچھ میں ۴۲؍ فیصد کا تعلق کاروبار یا کمپنی قائم کرنے سے تھا، جبکہ ۲۸ء۹؍ فیصد میں دولت کے انتظام یا وراثت کی منصوبہ بندی سے متعلق سوالات شامل تھے۔ گورڈن کے مطابق، گزشتہ چار برسوں کے دوران ادارے کو موصول ہونے والی مجموعی پوچھ گچھ میں برطانیہ سے آنے والی درخواستوں کا اوسط حصہ تقریباً ۱۹؍ فیصد رہا ہے۔ دوسری جانب، دنیا بھر میں دولت مند افراد کی نقل مکانی کا رجحان بھی نمایاں ہے۔ ’ہینلے اینڈ پارٹنرز‘ اور ’نیو ورلڈ ویلتھ‘ کی پیش گوئی کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں دنیا بھر میں ریکارڈ ایک لاکھ ۶۵؍ ہزار کروڑ پتی افراد اپنا ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک منتقل ہوسکتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے توقع ہے کہ وہ دولت مند افراد کو اپنی جانب راغب کرنے والے اہم ترین ممالک میں شامل رہے گا۔
برطانیہ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ ٹیکس اصلاحات کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو ملک میں برقرار رکھنے کی صلاحیت میں بھی توازن قائم کرے۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے لیے موقع یہ ہے کہ وہ ابتدائی دلچسپی کو مستقل سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں تبدیل کرے۔ گورڈن کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے لیے طویل مدتی چیلنج صرف دولت مند باشندوں کو اپنی طرف راغب کرنا نہیں، بلکہ ان کی ابتدائی ٹیکس اور رہائشی دلچسپی کو مستقل کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور خاندانی روابط میں تبدیل کرنا بھی ہے۔