Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانگومیں خانہ جنگی کی تازہ لہر،۷۰؍ سے زائدافراد ہلاک، ۲؍لاکھ افرادبے گھر

Updated: December 13, 2025, 5:29 PM IST | Agency | New York/Kinshasa

ہزاروں افراد کو غذائی قلت کا سامنا،جنگجو اویرا شہر میں داخل ، علاقے میں خوف و ہراس ،لڑائی سے متاثرہزاروںافراد سرحد عبور کرکے برونڈی اور روانڈا میں پناہ لینے پر مجبور

People are migrating, worried about the civil war. Picture: INN
خانہ جنگی سے پریشان افراد نقل مکانی کررہے ہیں۔ تصویر:آئی این این
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی حصے میں تازہ ترین لڑائی نے۷۰؍ سے زیادہ شہریوں کی جان لے لی ہے۔ ۲؍لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور ہزاروں افراد کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
امدادی امور کے لئے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق صوبہ جنوبی کیوو میں ۲؍دسمبر کے بعد صورتحال میں شدید بگاڑ آیا ہے جہاں متعدد علاقوں میں جھڑپیں جاری ہیں۔ گزشتہ روز باغی مسلح گروہ ایم ۲۳؍ کے جنگجو اویرا شہر میں داخل ہو گئے جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اقوام متحدہ کے امن مشن مونوسکو نے بتایا ہے کہ دسمبر کے آغاز سے کانگو کی فوج اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں۷۴؍ شہری مارے جا چکے ہیں اور کم از کم۸۳؍افراد زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی سے متاثرہ ہزاروںافراد نے سرحد عبور کرکے برونڈی اور روانڈا میں پناہ لے رکھی ہے۔
جنوبی کیوو میں بے گھر ہونے والے بیشتر لوگ گنجان آباد عارضی پناہ گاہوں میں قیام پزیر ہیں جہاں انہیں تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات، صحت و صفائی کے ناقص انتظام اور بیماریوں کا سامنا ہے۔ بے گھر خواتین اور لڑکیوں کو ان جگہوں پر صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرات درپیش ہیں۔
عدم تحفظ کے باعث امدادی پروگرام، بشمول غذائی امداد اور صحت کی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے سلامتی کے مسائل کے پیش نظر پورے جنوبی کیوو میں اپنی امدادی کارروائیاں معطل کر دی ہیں جس سے۲۵؍ ہزار افراد ضروری غذائی امداد سے محروم ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ پناہ گزینوں کے میزبان خاندان خود بھی غذائی عدم تحفظ کی ہنگامی سطح کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اس کے باوجود وہ اپنے پاس موجود محدود خوراک بھی بے گھر افرادمیں بانٹ رہے ہیں۔
اویرا میں ڈبلیو ایف پی کی معاونت سے چلنے والے کم از کم۳۲؍ا سکولوں نے بے گھر خاندانوں کو ٹھکانہ دینے کے لئے تدریس روک دی ہے جس کے سبب۱۲؍ ہزار سے زیادہ بچے اسکولوں میں ملنے والی خوراک سے محروم ہو گئے ہیں جو ان کے لئے غذائیت کا واحد ذریعہ تھا۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر رسائی اور فنڈنگ بحال نہ ہوئی تو علاقے میں غذائی ذخائر چند ہفتوں میں ختم ہو سکتے ہیں۔فرحان حق نے کہا کہ اس بحران کے انسانی اثرات اب سرحدوں سے پرے پھیلنے لگے ہیں۔۵؍ سے۸؍ دسمبر کے درمیان تقریباً ۲۵؍ ہزار افراد برونڈی میں داخل ہوئے جبکہ روانڈا میں بھی مزید پناہ گزینوں کی آمد کی اطلاعات ہیں۔ دونوں ممالک میں امدادی شراکت دار اور حکام ہنگامی امداد بڑھا رہے ہیں جن میں گرم کھانا، صاف پانی اور صحت کی خدمات شامل ہیں۔گزشتہ ہفتے کانگو اور روانڈا نے امریکہ کی ثالثی میں ایک امن معاہدے پر دستخط کئے تھے جسے اقوام متحدہ نے اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا۔ترجمان نے بتایا ہے کہ جمہوریہ کانگو کیلئے اقوام متحدہ کے طلب کردہ امدادی وسائل میں سے۲۲؍ فیصد ہی مہیا ہو سکے ہیں۔ برونڈی میں بھی بڑے پیمانے پر امدادی وسائل کی ضرورت ہے۔انہوں نے تنازع کے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کریں، بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK