Updated: May 07, 2026, 8:05 PM IST
| Madrid
گلوبل صمود فلوٹیلا نے کہا ہے کہ برازیلی کارکن Thiago Avila کی والدہ ٹریسا ریجینا ڈی ایویلا کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ اسرائیلی حراست میں تھے اور اپنی والدہ کے آخری لمحات میں ان سے رابطہ بھی نہ کر سکے۔ تنظیم نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا کہ وہ تنہائی اور رابطے کی پابندی کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ ایویلا اور فلسطینی کارکن Saif Abukeshek کو غزہ کے لیے انسانی امدادی مشن کے دوران بین الاقوامی پانیوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔
اسرائیلی حراست میں موجود برازیلی کارکن Thiago Avila۔ تصویر: ایکس
گلوبل صمود فلوٹیلا نے اسرائیلی حراست میں موجود برازیلی کارکن Thiago Avila کی والدہ کی موت پر شدید ردعمل دیتے ہوئے صورتحال کو ’’ناقابلِ تصور ظلم‘‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ۶۳؍ سالہ ٹریسا ریجینا ڈی ایویلا ای سلوا اس وقت انتقال کر گئیں جب ان کا بیٹا اسرائیلی جیل میں قید تھا اور نہ تو ان سے بات کر سکا اور نہ ہی ان کے آخری لمحات میں شریک ہو سکا۔ بیان میں کہا گیا کہ تھیاگو کو ابھی تک اپنی والدہ کی وفات کی اطلاع بھی نہیں دی گئی کیونکہ انہیں اہلِ خانہ اور حامیوں کے ساتھ رابطے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
تنظیم نے اسرائیلی حکام پر الزام لگایا کہ وہ قیدیوں کو تنہائی میں رکھ کر ان کے غم اور جذباتی تکلیف کو ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ گروپ نے کہا کہ اس صورتحال نے فلسطینی قیدیوں کے تجربات کی یاد تازہ کر دی ہے، جنہیں کئی دہائیوں سے اپنے خاندانوں سے دور رکھا جاتا رہا ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا نے فلسطینی کارکن محمود خلیل کا بھی حوالہ دیا، جن کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ انہیں بھی اپنی فیملی سے دور رکھا گیا اور اپنے بچے کی پیدائش کے وقت موجود رہنے سے محروم کر دیا گیا۔ اس سے قبل ایک اسرائیلی مجسٹریٹ عدالت نے تھیاگو اور فلسطینی کارکن سیف ابو کشک کی حراست میں مزید چھ دن کی توسیع کر دی تھی۔
تنظیم کے مطابق، عدالت نے ریاست کی درخواست کو جزوی طور پر ’’خفیہ شواہد‘‘ کی بنیاد پر منظور کیا، جنہیں نہ کارکنوں کو دکھایا گیا اور نہ ہی ان کے وکلاء کو مکمل رسائی دی گئی۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں کارکنوں کو غزہ کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والے انسانی امدادی مشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی بحریہ نے یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں صمود فلوٹیلا سے وابستہ جہازوں کو روک لیا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ۱۰۰؍ سے زائد کارکنوں کو کریٹ منتقل کر دیا گیا، جبکہ تھیاگو اور سیف ابو کشک کو اسرائیل لے جا کر شکما جیل میں رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: برازیل، اسپین کا اسرائیل سے صمود فلوٹیلا کے دو کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ
اس واقعے پر برازیل کے صدر لوئس سلوا نے بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مبینہ طور پر تھیاگو ایویلا کی حراست کو ’’غیر معقول‘‘ قرار دیا تھا۔ دوسری جانب اسپین اور برازیل کی حکومتوں نے جمعے کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ان کارکنوں کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا۔ صمود فلوٹیلا نے دونوں کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کارروائی کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان کے اختتام پر ٹریسا ریجینا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کی کہانی آپ کے بیٹے، آپ کی پوتی اور انصاف و آزادی کی ہماری جدوجہد کے ذریعے زندہ رہے گی۔‘‘