Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایندھن کی فراہمی پرمودی کی قیادت میں ہنگامی میٹنگ

Updated: March 22, 2026, 11:49 PM IST | New Delhi

مشرق وسطیٰ  کے تیزی سے بدلتے حالات پر بین وزارتی اجلاس میں ملک میں  پیٹرولیم مصنوعات، رسوئی گیس، بجلی اور کھاد کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے پر اتفاق

The fuel supply chain was discussed at an inter-ministerial meeting led by Prime Minister Modi on Sunday.
اتوارکو وزیراعظم مودی کی قیادت میں بین وزارتی میٹنگ میں ایندھن کی سپلائی چین پر گفتگو کی گئی

 مشرق وسطیٰ میں پل پل بدلتے حالات اور اس کی بنا پر ایندھن  کے عالمی  بحران کےبیچ اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی نے  بین  وزارتی میٹنگ کی قیادت کی ۔پیٹرولیم  مصنوعات، رسوئی گیس، کھاد، بجلی اور دیگر کی عام آدمی تک   بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے منعقد ہونےوالی اس میٹنگ میں وزیر اعظم  نے سینئر وزراء کے ساتھ مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال   اور ملک پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔حکومتی ذرائع کے مطابق اجلاس کا مرکزی موضوع ملک بھر میں ایندھن کی  بلا تعطل فراہمی ،اس سے متعلق  لاجسٹکس کا استحکام اور تقسیم کو موثر اور یقینی بنانا تھا۔
  اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں مرکزی وزراء راجناتھ سنگھ (دفاع)، امیت شاہ (داخلہ)، شیوراج سنگھ چوہان (زراعت)، ایس جے شنکر (امور خارجہ)،  نرملا سیتارامن (مالیات)، جے پی نڈا (صحت)، پیوش گوئل (تجارت و صنعت) اور اشوینی ویشنو (ریلوے) شامل تھے۔مرکزی وزراء سربانند سونووال (بندرگاہ و جہاز رانی)، منوہر لال کھٹر (بجلی)، پرہلاد جوشی (خوراک و   صارفین  کے امور)، کے رام موہن نائیڈو (شہری ہوا بازی) اور ہردیپ سنگھ پوری (پیٹرولیم) نیز  قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال  اور وزیر اعظم کے    پرنسپل سیکریٹری پی کے مشرا اور شکتی کانت داس بھی میٹنگ  میں  موجود تھے۔ذرائع کے مطابق  میٹنگ میں  مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر خام تیل، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی و کھاد کے شعبوں کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ حکومت تمام ضروری اشیاء جن میں پیٹرولیم مصنوعات، کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا شامل ہے،  کیلئے پیشگی اقدامات کر رہی ہے۔ اجلاس میں مغربی ایشیا کے تنازع کے بعد عالمی صورتحال اور صارفین و صنعت کے مفادات کے تحفظ کیلئے  کئے  گئے اقدامات کا  جائزہ لیا گیا، جو حکومت کی ترجیحات میں شامل  ہیں۔
 یاد رہے کہ ۱۲؍  مارچ کو وزیر اعظم  نے کہا تھا کہ مغربی ایشیا کی جنگ نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے امن، صبر اور عوامی آگہی میں اضافہ ضروری ہے۔وزیر اعظم نے زور دیا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے مسلسل کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو  دورکرنے کیلئے کوششیں  مسلسل جاری ہیں۔‘‘  
  واضح رہے کہ ۲۸؍ مارچ کو ایران پر امریکہ اورا سرائیل کے ذریعہ جنگ تھوپے جانے کے بعد  ایران نے  آبنائے ہرمزکی ناکہ بندی کردی ہے۔  دنیا کیلئے ایندھن کا  ۲۰؍ فیصد حصہ یہاں سے گزرتا ہے۔ اس کی ناکہ بندی   سے سپلائی بری طرح  متاثر  ہوئی ہے۔  ہندوستان کے حالانکہ ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے ہیں مگر جنگ کے دوران مودی حکومت  کے  اسرائیل  و امریکہ حامی موقف کی بنا پر ہندوستان  کے تیل کے جہازوں کو بھی روک دیاگیاہے۔  اب تک یہاں  سے صرف ۲؍ ہندوستانی جہاز نکل سکے ہیں۔

new delhi Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK