ایران کے اسرائیل کے دو شہروںپر زبردست حملے میں ۱۵۰؍ سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے، اس حملے کی سنگینی کے حوالے سے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس رات کو’’ مشکل شام‘‘ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 9:02 PM IST | Tel Aviv
ایران کے اسرائیل کے دو شہروںپر زبردست حملے میں ۱۵۰؍ سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے، اس حملے کی سنگینی کے حوالے سے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس رات کو’’ مشکل شام‘‘ قرار دیا۔
ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کے دو قصبے عراد اور دیمونا میں۱۵۰؍ سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ یہ حملے اس وقت ہوئے جب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس رات کو ’’بہت مشکل شام" قرار دیا۔ان دو براہ راست میزائل حملوں نے رہائشی عمارتوں کے اگلے حصے پھاڑ دیے اور زمین میں بڑے گڑھے کھود دیے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی
دریں اثناء مگن ڈیوڈ ایڈوم کے ابتدائی امدادی کارکنوں نے بتایا کہ قصبہ عراد میں۸۴؍ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے۱۰؍ کی حالت تشویشناک ہے۔ اس سے چند گھنٹے قبل قریبی قصبہ دیمونا میں ۳۳؍ افراد زخمی ہوئے تھے۔ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کا کہنا تھا کہ دیمونا پر میزائل حملہ، جہاں ایک جوہری تنصیب موجود ہے،’’ نطانز‘‘ میں اس کی اپنی جوہری تنصیب پر ہونے والے حملے کا ’’جواب‘‘ تھا۔ جبکہ میزائیل سے تباہ شدہ علاقوں میںچمکتی ہوئی بتیوں والی فائر انجن (فائر بریگیڈ کی گاڑیاں) اور ہنگامی خدمات کے درجنوں اہلکار جائے وقوعہ پر موجود تھے۔تاہم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایران پر حملے جاری رکھے گا جسے انہوں نے ’’بہت مشکل شام‘‘ قرار دیا۔ نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، ’’یہ ہمارے مستقبل کی جنگ میں ایک بہت مشکل شام ہے۔ ہم پُرعزم ہیں کہ تمام محاذوں پر اپنے دشمنوں پر حملے جاری رکھیں گے۔‘‘
PRAY FOR ISRAEL
— MichaelRapaport (@MichaelRapaport) March 21, 2026
Initial reports of a mass casualty incident following a direct Iranian ballistic missile strike in Arad, Israel. At least 110 wounded, many are trapped behind rubble.
This is a massive incident. Please pray for those affected. pic.twitter.com/t1RVIGGn4Q
علاقے میں موجود فائر فائٹرز (آگ بجھانے والے اہلکار) نے بتایا کہ ’’دیمونا اور عراد دونوں جگہوں پر، انٹرسیپٹر (روکنے والے میزائل) چھوڑے گئے جو خطرات کو نہ روک سکے، جس کے نتیجے میں سینکڑوں کلو گرام وزنی وار ہیڈز والے بیلسٹک میزائلوں کے دو براہ راست حملے ہوئے۔‘‘اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرے گی۔ فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’فضائی دفاعی نظام نے کام کیا لیکن میزائل کو نہیں روک سکے، ہم واقعے کی تحقیقات کریں گے اور اس سے سبق سیکھیں گے۔‘‘مقامی فائر سروس (آگ بجھانے کی خدمت) نے بتایا کہ ’’عراد میں وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جہاں تین عمارتیں متاثر ہوئیں اور ان میں سے ایک میں آگ بھڑک اٹھی۔‘‘
بعد ازاں فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ (داخلی محاذ کمان) نے علاقے کے اسکولوں کو ہدایت دی کہ وہ کلاسز آن لائن منتقل کر دیں۔طبی عملے کے رکن ریاض ابو عجاج نے اپنی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حملے کی جگہ پر ’’وسیع پیمانے پر تباہی‘‘کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جائے وقوعہ پر بہت افراتفری تھی۔‘‘