Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیس کی قلت سے مزدورطبقہ نقل مکانی پرمجبور

Updated: March 24, 2026, 11:58 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

مدنپورہ، گوونڈی اور دھاراویجیسے علاقوں سے شمالی ہندوستان کے مزدوروں کا بڑاطبقہ آبائی وطن کا رخ کررہاہے،جن بسیوں میں مزدورو ں کو ۳؍ سے۴؍ ہزار روپے میں مہینے بھر کا کھانا مل رہا تھا، اب انہیں اس کیلئے۹؍سے۱۰؍ ہزار روپےاداکرنے پڑرہےہیں

Migrant workers in Mumbai are once again having to make their own beds after Corona. (File photo)
ممبئی میں مہاجر مزدوروںکو کورونا کے بعد ایک بار پھر اپنا بوریا بستر باندھنا پڑرہا ہے ۔(فائل فوٹو)

گیس کی شدید قلت سے کھانے پینے کی اشیاء کے داموں میں ہونے والے ہوش رُبا اضافے سے بالخصوص مزدور طبقہ اور جھگی جھوپڑیوں کے مکین بہت پریشان ہیں۔ سلنڈر نہ ملنے سے بیشتر ہوٹلوں اور بسیوں کے بند ہونے سے مزدوروں کوکھانا ملنے میں دشواری ہو رہی ہے ۔جو کھانا انہیں۶۰؍ سے۷۰؍ روپے میں مل رہا تھا،اب سوا سو سے ڈیڑھ سو روپے میںمل رہاہے۔ ان دشواریوں کی وجہ سے مدنپورہ، گوونڈی اور دھاراوی وغیرہ علاقوں سے شمالی ہندوستان کے مزدوروں کا بڑاطبقہ آبائی وطن کا رخ کرنے پر مجبور ہے۔گوونڈی اور دھاراوی سے بالترتیب ۷۰؍ اور ۵۰؍ فیصد مزدور نقل مکانی کرچکے ہیں ۔
 مدنپورہ میں مقیم بہار کے دربھنگہ ضلع کے سماجی کارکن اور صغیرا فائونڈیشن کے جنرل سیکریٹری ابرار احمد شیخ نے جوبیگ کا کاروبار کرتے ہیں ، بتایا کہ ’’سلنڈر کی کمی سے مدنپورہ اور اطراف کے علاقوں میں برسرکار مزدوروں کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔متعدد کارخانے والے جو بلیک سے سلنڈر خرید کر ضروریات پوری کرتے تھے ، سلنڈر نہ ملنے سےوہ بھی شدید پریشان ہیں ۔ وہ اپنے کاریگروں کے کھانے پینے کا انتظام نہیں کر پا رہے ہیں۔ بیشتر ہوٹلوں اور بسیوں کے بند ہونے سے مزدور وں کیلئے پیٹ بھرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ اس لئے مجبوراً لوگ اپنے گائوں جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کر رہےہیں۔ ‘‘
  دھاراوی ٹرانزٹ کیمپ میں رہائش پزیر بہار فائونڈیشن کے سابق سیکریٹری احسان حسین کے مطابق ’’ گیس سپلائی متاثر ہونے سے دھاراوی کے متوسط طبقے کے خاندانوں اور مزدوروں کو سخت پریشانی کا سامنا ہے ۔سلنڈر نہ ملنے سے کئی گھروں میں کھانا پکانا مشکل ہو گیا ہے ۔ بیشتر اسکولوں میں چند دنوں بعد سالانہ امتحانات ہیں، والدین نے امتحانات کے بعد گاؤں جا نے کا پروگرام بنایا تھا، لیکن گیس کے موجودہ بحران سے کئی خاندان ابھی ہی گاؤں جانے پر مجبور ہیں، جبکہ کچھ جانے کی تیاری کر رہے ہیں ۔ اس صورتحال کا برا اثر بچوں کی تعلیم پر پڑ رہا ہے ۔ ہوٹلوں اور بسیوں میں کھانے کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں جو مزدوروں کی استطاعت سے باہر ہیں ۔ نتیجتاً، بہت سے مزدور اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں جس سے فیکٹریوں میں مزدوروں کی کمی ہونے سے کام متاثر ہو رہا ہے ۔دھاراوی کے تقریباً۴۰؍ سے ۵۰؍فیصد مزدورنقل مکانی کرچکے ہیں ۔ ‘‘ 
 انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’میرے ۳؍ بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن جو حالات ہیں ان میں بھی نقل مکانی سے متعلق سوچنے پر مجبور ہوں۔جن بسیوں میں مزدور ں کو ۳؍سے۴؍ ہزار روپے میں مہینے بھر کا کھانا مل رہا تھا ، اب انہیں اس کیلئے۹؍ سے۱۰؍ہزار روپےاداکرنے پڑرہےہیں۔ایسے میں غریب مزدور کیسے گزر بسر کرے ،اس لئے اُترپردیش اور بہار کے مزدور بڑی تعداد میں گائوں کارُخ کر رہے ہیں۔ ‘‘
 گوونڈی ،شیواجی نگر کے سماجی کارکن مطیع الرحمٰن کے بقول ’’ گوونڈی کےبیشتر علاقوں میں مزدور طبقہ آباد ہے۔ میں شیواجی نگر ، پلاٹ نمبر ۵؍ میں رہتا ہوں ۔ سلنڈر کی قلت سے مزدور طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کے تقریباً ۷۰؍ فیصد مزدور نقل مکانی کرچکے ہیں ۔سلنڈر نہ ملنے سے متعدد ہوٹلیں اور بسیاں بند ہوگئی ہیں ۔ بلیک میں ہزاروں روپے کا سلنڈر خرید کر جو ہوٹلیں اور بسیاں جاری ہیں ، ان میں کھانا بہت مہنگا ہوگیا ہے ۔ غریب اور پسماندہ طبقے کے مزدوروں کیلئے یہاں کھانا، کھانا ،ان کی استطاعت سے باہر ہے ۔اس لئے بڑی تعداد میں مزدور اپنے گائوں جا رہے ہیں۔ وہاں کم ازکم ان کے پاس کوئلے اور لکڑی کے چولہوں کا متبادل ہے۔ علاوہ ازیں انہیں ممبئی کی طرح طعام وقیام پر بڑی رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔‘‘
 مدنپورہ کےفاروق ٹکٹ کے مطابق’’ سلنڈر کی کمی سے مزدورں کو بڑی پریشانی ہو رہی ہے ۔ ہوٹلوں میں کھانے پینے کی اشیاء محدود ہوگئی ہیں ۔ محدود پکوان اور چائے وغیرہ کے نہ ہونے سے گاہکوں کیلئے متبادلات کی کمی ہوگئی ہے ۔مثلاً کچھ ہوٹلوں میں صرف ایک قسم کی چائے اور کھانے بنائے جا رہے ہیں جن گاہکوں کو ان کے علاوہ کچھ چاہئے ، انہیں صاف منع کر دیا جا رہا ہے ۔ان ساری پریشانیوں کی وجہ سے خاص طور پر مزدور طبقہ نقل مکانی کر رہا ہے ۔جس کی وجہ سے تتکال میں بھی ٹکٹیں ایک سے ۲؍ منٹ میں فل ہو جا رہی ہیں ۔ ٹرینوں میں بڑی بھیڑ ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK