امریکی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین کے دورے پر موجود امریکی حکام کو الیکٹرونک جاسوسی اور ہیکنگ کے خدشات کے باعث اسمارٹ فونز اور دیگر ذاتی آلات استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
EPAPER
Updated: May 14, 2026, 2:01 PM IST | Beijing
امریکی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین کے دورے پر موجود امریکی حکام کو الیکٹرونک جاسوسی اور ہیکنگ کے خدشات کے باعث اسمارٹ فونز اور دیگر ذاتی آلات استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
امریکی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین کے دورے پر موجود امریکی حکام کو الیکٹرونک جاسوسی اور ہیکنگ کے خدشات کے باعث اسمارٹ فونز اور دیگر ذاتی آلات استعمال نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ متوقع سربراہی ملاقات کے دوران امریکی وفد نے دوبارہ کاغذی نوٹس اور مطبوعہ دستاویزات کے استعمال کو ترجیح دی۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ امریکی وفد کے اراکین کو سخت سیکوریٹی ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ بیجنگ میں اپنے ذاتی فونز یا معمول کے کمپیوٹرز ساتھ نہ لائیں تاکہ ممکنہ ہیکنگ یا جاسوسی سافٹ ویئر نصب ہونے کے خطرات سے بچا جا سکے۔کچھ حکام کو محدود ڈیٹا والے عارضی آلات استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ بعض نے ملاقاتوں اور نقل و حرکت کے دوران مکمل طور پر کاغذی دستاویزات پر انحصار کیا۔
یہ بھی پڑھئے:دلجیت دوسانجھ کی ’’میں واپس آؤں گا‘‘ کے ٹریلر کی ریلیز کی تاریخ سامنےآگئی
ماہرین کے مطابق یہ اقدامات واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان سائبر سیکوریٹی اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بڑھتی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں، جو حالیہ برسوں میں دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تنازع کا اہم محور بن چکی ہے۔ امریکہ کئی برسوں سے چین پر سرکاری اداروں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حساس انفراسٹرکچر کے خلاف الیکٹرونک جاسوسی کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، جبکہ چین ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو امریکی سائبر حملوں کا نشانہ قرار دیتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران واشنگٹن نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت ہواوے اور ٹِک ٹاک سمیت کئی چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کو عظیم لیڈر قرار دیا
دوسری جانب چین نے بھی غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر نگرانی سخت کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور سائبر سیکوریٹی کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری بڑھا دی ہے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جا سکے۔ یہ سخت سیکوریٹی اقدامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ٹرمپ اور شی جن پنگ کے درمیان اہم سربراہی ملاقات میں ایران جنگ، توانائی، تجارت، الیکٹرونک چپس اور عالمی معاشی تعلقات کے مستقبل جیسے حساس موضوعات پر بات چیت متوقع ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی چین کو امریکہ کے لیے سب سے بڑا جیو پولیٹیکل چیلنج قرار دے چکے ہیں، تاہم انہوں نے عالمی استحکام اور جنگوں سے بچاؤ کے لیے بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو حکمت عملی کے تحت چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔