وسطی غزہ میں ایک گھرکے ملبے سے۷؍ شہداء کی باقیات دریافت۔ بھاری مشینری کی قلت سے شدید دشواری۔
EPAPER
Updated: October 03, 2026, 2:10 PM IST | Agency | Gaza
وسطی غزہ میں ایک گھرکے ملبے سے۷؍ شہداء کی باقیات دریافت۔ بھاری مشینری کی قلت سے شدید دشواری۔
غزہ کےشہریوںنے شارع یرموک پر واقع ’تاج‘ رہائشی چوک کے ملبے سے طویل انتظار کے بعد نکالی گئی۱۰۵؍ شہداء کی لاشوں اور باقیات کو سپرد خاک کردیا ۔ اس دوران دیگر خاندان اب بھی اپنے پیاروں تک رسائی کے منتظر ہیں، جبکہ بھاری مشینری کی قلت اور اسرائیلی پابندیاں تلاش اور ملبہ ہٹانے کے کام میں مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔لاشوں کی تدفین کی یہ تقریب تباہ شدہ مقام کے صحن میں شہری دفاع، مصری کمیٹی اور متاثرہ خاندانوں کے اتحاد کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس موقع پر طبی عملہ اور امدادی رضاکاروں نے کفن اٹھائے اور انہیں ملبے کے قریب ترتیب دیا جہاں لوگ اپنے رشتے داروں کا آخری دیدار کرنے کے لئے جمع ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے:۷۳؍ فیصد امریکیوں کو خدشہ ہے کہ اے آئی انسانی بقا کیلئے خطرہ بن سکتا ہے: سروے
شہری دفاع کے ادارے نے اعلان کیا کہ تاج چوک کے ہدف بنائے گئے علاقے میں تلاش کا کام مکمل کرنے سے پہلے مصری کمیٹی کے تعاون سے شہداء کو نکالنے میں ۱۷؍ دن کا کٹھن وقت لگا۔شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ ملبے کے نیچے سے شہداء تک پہنچنے کے لئے طویل اور مشکل ترین کوششیں کرنی پڑیں۔ انہوں نے غزہ کے مکینوں کے تحفظ اور انہیں زندگی و سلامتی کا حق فراہم کرنے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
دوسری جانب وسطی غزہ میںنشانہ بنائے جانے کے تقریباً۲۱؍ ماہ بعد غزہ میں شہری دفاع کے عملہ نے جمعرات کی شام الشیخ علی خاندان کے گھر سے تلاش اورلاشیں نکالنے کے کام کا آغاز کیا۔وہ ۷؍ شہداء کے جسد خاکی نکالنے میں کامیاب ہو گئے جو ۱۲ ؍دسمبر ۲۰۲۴ء کو گھر پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں شہید ہو گئے تھے۔