Updated: February 13, 2026, 11:03 AM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی( بی این پی)نے بنگلہ دیش کے۱۳؍ویں اور ۲۰۲۴ء کے بعد پہلے عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی، جبکہ طارق رحمان وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ ہندوستان، پاکستان اور امریکہ کی قیادت کی جانب سے مبارکبادوں کے بعد ملک میں سیاسی استحکام کی نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے ملک میں منعقد ہونے والے۱۳؍ ویں عام انتخابات میں دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو مبارکباد دی۔ برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز ‘نے بنگالی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے، اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو۳۰۰؍نشستوں میں سے۲۱۲؍ نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو۷۰؍ نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے۔
بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر د دیئے ہیں، اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے لیڈرطارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔ چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم لیڈرناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔ انتخابات میں ۷؍ خواتین بھی منتخب ہو گئیں، افروزاں خان، عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وسف کمال اور فرزانہ شرمینہ بی این پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں جبکہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ بنگلہ دیش کی معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دیا۔
ہندوستان، پاکستان اور امریکی سفیر نے بی این پی کو مبارکباد پیش کی
ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا:’’میں بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کو فیصلہ کن کامیابی دلانے پر طارق رحمان کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ کامیابی بنگلہ دیش کے عوام کے آپ کی قیادت پر اعتماد کو ظاہر کرتی ہے۔ ہندوستان ایک جمہوری، ترقی پسند اور جامع بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا۔ میں ہمارے کثیر جہتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کو آگے بڑھانے کیلئے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘‘
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی بنگلہ دیشی عوام کو مبارکباد
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امریکی سفیر کی بی این پی کو مبارکباد
بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے لیڈرطارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کیلئے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شیخ حسینہ کا بنگلہ دیش الیکشن منسوخ کرنے کا مطالبہ
شکست تسلیم کرتے ہیں: شفیق الرحمان
بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ ’مخالفت کی سیاست‘ کے بجائے ’مثبت سیاست کے تحت‘ آگے بڑھے گی۔
امن عامہ پہلی ترجیح ہے: طارق رحمان
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نےکہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔ طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے، بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔ ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپورحصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تنبیہ: ایران سے جوہری بات چیت جاری رہے، وینس کا انتباہ
کوئی پوشیدہ ایجنڈا نہیں: چیف الیکشن کمشنر
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کئے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کئے گئے ہیں۔ ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں ۱۳؍ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے، ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔ یاد رہے کہ سرکاری نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے، تاہم مقامی میڈیا نے بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال اس الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔ واضح رہے ساڑھے۱۷؍ کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً۱۵؍ برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست ۲۰۲۴ء میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔