Updated: April 27, 2026, 6:37 PM IST
| Jerusalem
فلسطین کے بلدیاتی انتخابات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ۱۹۷؍ میونسپل کونسلوں کے امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہو گئے، جبکہ مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ ۵۴؍ فیصد رہا۔ یہ انتخابات مغربی کنارہ اور دیر البلاح میں منعقد ہوئے اور غزہ جنگ کے بعد پہلی بڑی عوامی رائے شماری قرار دی جا رہی ہے، جس نے سیاسی تقسیم کے باوجود مقامی جمہوری عمل کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
فلسطین کے مرکزی الیکشن کمیشن نے اتوار کو اعلان کیا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ۱۹۷؍ میونسپل کونسلوں کے امیدوار بلا مقابلہ کامیاب ہوئے جبکہ باقی نشستوں پر ہونے والی ووٹنگ میں تقریباً ۵۴؍ فیصد ووٹرز نے حصہ لیا۔ کمیشن کے سربراہ رامی حمداللہ نے راملہ میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سنیچر کو ۱۸۳؍ کونسلوں کے نمائندوں کے لیے ووٹنگ ہوئی، جس میں تقریباً ۵؍ لاکھ ۲۲ہزار افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔یہ انتخابات مغربی کنارہ اور محصور غزہ کے شہر دیر البلاح میں منعقد ہوئے، جہاں سیکوریٹی اور حالات کے پیش نظر ووٹنگ کو محدود پیمانے پر ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کے بدعنوانی کیس کی سماعت عین وقت پر منسوخ، سیکوریٹی وجوہات کا حوالہ
حکام کے مطابق، دیر البلاح کو اس لیے منتخب کیا گیا کیونکہ یہ علاقہ جاری جنگ کے باوجود نسبتاً کم متاثر ہوا، جس کے باعث وہاں ووٹنگ کا عمل ممکن ہو سکا۔ واضح رہے کہ یہ بلدیاتی انتخابات اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے بعد پہلی بار منعقد ہوئے ہیں، جس نے انہیں مزید اہم بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ عمل نہ صرف مقامی سطح پر حکمرانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے بلکہ عوامی نمائندگی کے خلا کو بھی پُر کرنے کی ایک کوشش ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈس: ۱۸۰؍ فٹ لمبی سائیکل نے گنیز ریکارڈ قائم کیا
فلسطینی سیاسی منظرنامہ گزشتہ کئی برسوں سے تقسیم کا شکار ہے، خاص طور پر ۲۰۰۷ء کے بعد سے جب مختلف دھڑوں کے درمیان اختلافات نے قومی سطح کے انتخابات کو متاثر کیا۔ اس کے باوجود، بلدیاتی انتخابات کو مقامی گورننس کے لیے ایک اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ حتمی نتائج کا باضابطہ اعلان اتوار کو بعد میں کیا جائے گا، جبکہ ابتدائی اعداد و شمار انتخابی عمل میں عوامی شرکت اور سیاسی سرگرمی کے تسلسل کی نشاندہی کرتے ہیں۔