• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ فلم فیسٹیول :پانچ فلسطینی خواتین ہدایت کاروں کی فلمیں پیش کی جائیں گی

Updated: October 26, 2026, 5:05 PM IST | Venice

غزہ میں خواتین کی سنیما کے دوسرے بین الاقوامی فلمی میلے کا آغاز پانچ فلسطینی خواتین ہدایت کاروں کی فلموں کی نمائش سے ہورہا ہے۔ ان فلموں میں جنگ، بھوک، اپنے پیاروں کو کھونے کے غم، بے گھری، امید اور مشکل حالات میں زندگی کو دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔

Palestinian.Photo:INN
فلسطینی۔ تصویر:آئی این این

غزہ میں خواتین کی سنیما کے دوسرے بین الاقوامی فلمی میلے کا آغاز پانچ فلسطینی خواتین ہدایت کاروں کی فلموں کی نمائش سے ہورہا ہے۔ ان فلموں میں جنگ، بھوک، اپنے پیاروں کو کھونے کے غم، بے گھری، امید اور مشکل حالات میں زندگی کو دوبارہ سنوارنے کی جدوجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔ غزہ انٹرنیشنل فیسٹیول فار ویمنز سنیما کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ میلے کی افتتاحی تقریب پیر۲۶؍ اکتوبر کو مقامی وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے تین بجے البریج میں واقع تباہ شدہ النخیل ہال میں منعقد ہوگی۔ میلے کی سرگرمیاں ۳۱؍ اکتوبر تک جاری رہیں گی۔ 
میلے کے بانی اور صدر ڈاکٹر عزالدین شلح کے مطابق، افتتاحی تقریب میں غزہ کی خواتین فلم سازوں کی پانچ فلمیں پیش کی جائیں گی، جو ان کے تربیتی پروگرام کا نتیجہ ہیں۔ ان فلموں کے ذریعے مقامی خواتین نے اپنے تجربات، معاشرتی حالات اور جنگ سے متاثرہ زندگی کی کہانیوں کو سنیما کی زبان میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہدایت کارہ کوثر منیر کی اس فلم میں ایک یتیم بچے اور اس کی گدھی سوسو کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تباہ حال غزہ میں دونوں کی موجودگی لوگوں کے لیے زندگی بچانے اور بقا کا ذریعہ بنتی ہے۔ فلم جنگ زدہ ماحول میں انسانوں کی جدوجہد اور امید کو نمایاں کرتی ہے۔’

یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی

منیٰ ابو قص کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں ایک فلم ساز کے ذریعے بھوک اور غذائی قلت کی یادوں کو پیش کیا گیا ہے۔ کہانی یہ دکھاتی ہے کہ حالات بہتر ہونے اور آٹا دوبارہ دستیاب ہونے کے باوجود بھوک کے تجربات کس طرح انسان کی زندگی اور خاندان پر دیرپا اثرات چھوڑتے ہیں۔
ہدایت کارہ ہنادی ابو صلاح کی یہ فلم جنگ میں اپنے خاندان کو کھونے کے دکھ اور ان کی یادوں سے جڑے رہنے کی کہانی ہے۔ فلم میں گھر کے ملبے اور راکھ سے امید پیدا کرنے اور دوسروں کے لیے زندگی کی نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کو دکھایا گیا ہے۔
رغدہ البہیصی کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کا مرکزی کردار ایک بہرا مصور ہے، جس نے جنگ میں اپنے والدین کو کھو دیا۔ وہ مصوری کے ذریعے اپنے غم اور تکلیف کا اظہار کرتا ہے اور اپنی زندگی کو دوبارہ سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ فلم فن کو جذبات کے اظہار اور زندگی کی تعمیرِ نو کا وسیلہ قرار دیتی ہے۔
اسراء ابو جِیاب کی فلم ایک ایسی ماں کی کہانی پیش کرتی ہے جس نے جنگ میں اپنے آٹھ بچوں کو کھو دیا۔ وہ گائیکی کے ذریعے اپنے دکھ کا مقابلہ کرتی ہے اور اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں پر مشتمل گروہ کے ساتھ فلسطینی لوک گیت پیش کرتی ہے۔ بے گھر افراد کے کیمپوں میں موسیقی اور ثقافتی روایت کو زندہ رکھنے کی یہ کوشش فلم کا اہم پہلو ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جولی ایل ایل بی ۴‘‘ میں اکشے کمار نہیں ہوں گے؟ ارشد وارثی مرکزی کردار میں

فلمی میلے کی افتتاحی تقریب کے ساتھ غزہ سنیما اکیڈمی کا باضابطہ آغاز بھی کیا جائے گا۔ یہ اکیڈمی فلسطینی خواتین سمیت نئی نسل کے فلم سازوں کو تربیت دینے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور انہیں اپنی کہانیاں فلموں کے ذریعے بیان کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے مقصد سے قائم کی گئی ہے۔اکیڈمی کے پہلے تربیتی پروگرام کے تحت تیار ہونے والی فلموں کی نگرانی معروف فلسطینی ہدایت کارہ اور فلم پروڈیوسر می مصری نے کی، جبکہ ڈاکٹر عزالدین شلح نے بھی تربیتی عمل کی نگرانی میں حصہ لیا۔ می مصری کے مطابق، فلم ساز خواتین نے اپنی کہانیوں کو ایمانداری سے پیش کرنے اور تصویر و آواز کے ذریعے اپنے تجربات بیان کرنے کے لیے بھرپور محنت کی۔ انہوں نے غزہ کے ناظرین کے سامنے ان فلموں کی نمائش پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ 
 غزہ انٹرنیشنل فیسٹیول فار ویمنز سنیما کا دوسرا ایڈیشن  ۲۶؍ سے ۳۱؍اکتوبر ۲۰۲۶ء تک جاری رہے گا۔ اختتامی تقریب بھی البریج کے النخیل ہال میں منعقد ہوگی، جہاں کامیاب فلموں کو ایوارڈز دیے جائیں گے اور خصوصی اسکرین پلے ایوارڈز بھی پیش کیے جائیں گے۔   یہ فلمی میلہ غزہ کی خواتین کے لیے اپنی کہانیاں دنیا تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جنگ، بھوک، خاندانوں کی جدائی اور بے گھری جیسے موضوعات پر بننے والی یہ فلمیں نہ صرف انسانی المیے کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ مشکل حالات میں امید، ثقافتی شناخت اور تخلیقی اظہار کی اہمیت بھی سامنے لاتی ہیں۔ تباہ شدہ عمارت میں ان فلموں کی نمائش اس بات کی علامت بھی ہے کہ شدید مشکلات کے باوجود غزہ میں فن، ثقافت اور نئی نسل کی تخلیقی صلاحیتوں کو زندہ رکھنے کی کوشش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK