• Wed, 30 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی ۵۱۰۰؍ خلاف ورزیاں، ۱۴۲۱؍ ہلاکتیں

Updated: September 30, 2026, 12:03 PM IST | Gaza

غزہ حکام کے مطابق اسرائیل نے ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کے بعد سے جنگ بندی کی ۵۱۴۷؍ خلاف ورزیاں کیں ہیں، جس میں ۱۴۲۱؍ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، ساتھ ہی حکام نے بتایا کہ چونکہ سردیوں کا موسم قریب ہے،لہٰذا بے گھر افراد کو انتہائی تباہ کن صورتحال کا سامنا ہے۔

A scene of the devastation in Gaza. Photo: X
غزہ کی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

غزہ کے حکومتی میڈیا آفس نے منگل کو کہا کہ اسرائیل نے۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی۵۶۱۴۷؍ خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں۱۴۲۱؍ فلسطینی شہید ہوئے، اور متنبہ کیا کہ سردیوں کے قریب آنے کے ساتھ انسانی تباہی قریب ہے۔دفتر نے ایک بیان میں کہا، ”غزہ کی پٹی میں انسانی اور امدادی صورتحال خطرناک اور تباہ کن ہو چکی ہے، جس نے لاکھوں بے گھر فلسطینیوں کو مہلک نتائج سے دوچار کیا ہے۔“اس نے اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کیا کہ غزہ میں کافی مقدار میں سامان جانے دیا گیا، اور اسے ”گمراہ کن“ قرار دیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطین کو مٹایا یا نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر منصور

دفتر نے کہا، ”اسرائیل نے انسانی اور امدادی امداد اور تعمیر نو کے سامان لے جانے والے ٹرکوں کی متفقہ تعداد کا صرف۳۵؍ فیصد علاقے میں داخل ہونے دیا۔ معاہدے کے تحت جن۲۱۰۶۰۰؍ انسانی اور امدادی ٹرکوں اور تعمیر نو کا سامان لے جانے والے ٹرکوں کو داخل ہونا تھا، ان میں سے صرف ۷۲۸۲۶؍ٹرکوں کو داخلے کی اجازت دی گئی۔“دفتر نے مزید کہا کہ ، ”صرف۱۳۷۸۵؍ افراد علاقے سے باہر جا سکے یا داخل ہو سکے، جبکہ ۳۵۰۰۰؍ افراد کے سفر کی توقع تھی، جو زیادہ سے زیادہ۳۹؍ فیصد تعمیل کی شرح کو ظاہر کرتا ہے۔“ بعد ازاں پیر کے روز، گوگل میپ پر تازہ تصاویر نے غزہ کے شہری منظر نامے کی ڈرامائی تبدیلی آشکار کی، جہاں تباہی انفرادی عمارتوں سے آگے پورے رہائشی خطے تک پھیل گئی، اور گنجان آباد محلوں کی جگہ وسیع خالی علاقے رہ گئے۔ اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ سینٹر (UNOSAT) کے حالیہ سیٹلائٹ جائزے میں پتا چلا کہ ۲۰۱۰۰۰؍سے زائد عمارتیں، جو غزہ کی پٹی کی تمام ڈھانچوں کے۸۲؍ فیصد کے برابر ہیں، متاثر ہوئیں۔ جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی اب بھی خیموں، عارضی پناہ گاہوں یا تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں، جبکہ پناہ کے مواد کی کمی اور بارش کے موسم سے پہلے گھروں کی مرمت میں دشواری کا سامنا ہے۔ 
اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ غزہ میں تقریباً۲۱ ؍ لاکھ کی آبادی میں سے۱۹؍ لاکھ ۸۰؍ ہزار فلسطینیوں کو پناہ سے متعلق امداد کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ بنیادی خدمات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ حالیہ جائزوں میں شامل۹۱؍ فیصد گھرانے پانی کی معتدل سے شدید عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اسپتالوں کو نقصان اور سامان و سپلائی کی کمی کی وجہ سے صحت کا شعبہ محدود صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے

واضح رہے کہ ۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد جنگ کے اثرات اور ہلاکتوں کے باوجود بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ اکتوبر۲۰۲۳ء سے، اسرائیلی فوج نے ایک نسل کشی جنگ میں ۷۴۰۰۰؍ سے زائد افراد کو ہلاک اور۱۷۵۰۰۰؍ سے زائد کو زخمی کیا ہے، اس کے علاوہ  پوری غزہ کی پٹی کو بھی کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔اگست میں، غزہ کے معاملات کے انتظام پر مامور ایک آزاد فلسطینی کمیٹی نے اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ ملاقات کی تاکہ ترجیحی اقدامات کی نشاندہی کی جا سکے، اس کے علاوہ خدمات کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو کی طرف منتقل ہونے کے ابتدائی بحالی کے منصوبوں کو مربوط کیا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK