• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ سیٹیلائٹ تصاویر: اسرائیل کی نسل کش جنگ میں پورے رہائشی بلاکس نقشے سے مٹ گئے

Updated: September 29, 2026, 2:09 PM IST | Gaza

گوگل میپس پر اپ ڈیٹ کی گئی نئی سیٹیلائٹ تصاویر میں غزہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی کے مناظر سامنے آئے ہیں، جہاں کئی گنجان آباد رہائشی علاقے ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیٹیلائٹ سینٹر کے مطابق جون ۲۰۲۶ء تک غزہ کی تقریباً ۸۲؍ فیصد عمارتیں متاثر ہو چکی تھیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

حال ہی میں سامنے آنے والی سیٹیلائٹ تصویروں سے پتہ چلتا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی نسل کشی کے نتیجے میں غزہ کے پورے کے پورے محلے ملبے کے نیچے دب کر غائب ہو چکے ہیں ۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ پیر کو گوگل میپس پر اپ ڈیٹ کی گئی نئی سیٹیلائٹ تصاویر سے غزہ پر اسرائیل کی نسل کش جنگ کی تباہ کاریوں کا بھیانک منظر سامنے آیا ہے۔ ان فضائی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پورے رہائشی محلے غائب ہو چکے ہیں اور وسیع و عریض شہری علاقے اب ملبے کے ڈھیریوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان نئی تصاویر سے غزہ کے شہری ڈھانچے میں خوفناک تبدیلی نظر آرہی ہے، جہاں تباہی صرف انفرادی عمارتوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پورے کے پورے رہائشی بلاکس مٹ چکے ہیں۔ جہاں کبھی گھنی آبادی والے محلے ہوا کرتے تھے، وہاں اب صرف کھلے اور ویران میدان نظر آتے ہیں۔ یہ تصاویر مختلف محلوں اور بلاکس کی تباہی کا ایک وسیع منظر پیش کرتی ہیں، جس سے جنگ سے پہلے کے غزہ اور موجودہ حالات کا موازنہ کر کے تباہی کی اصل وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کیلئے ثالثی کوششیں تیز: رپورٹ

یہ تصاویر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵؍ سے امریکی قیادت میں لاگو ہونے والے سیز فائر کے معاہدے کے باوجود تباہی کے اثرات فلسطینیوں کی زندگیوں کیلئے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد سے اب تک اسرائیلی حملوں میں متاثر ہونے والی درجنوں عمارتیں شہریوں کے اوپر آ گریں، جبکہ عارضی گھروں یا کیریوان کی آمد پر مسلسل پابندیوں کے باعث فلسطینی بے گھری اور پناہ گاہوں کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ خطرہ صرف ان عمارتوں تک محدود نہیں ہے جو مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، بلکہ اسرائیلی حملوں سے ہزاروں دیگر عمارتوں میں شدید دراڑیں پڑ چکی ہیں اور وہ اندر سے کمزور ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے بارش، تیز ہواؤں اور دیگر موسمی حالات میں ان کے اچانک گرنے کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یہودی آباد کاروں کی دہشت گردی جاری۔ مسجداقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بولا، تلمودی رسومات اداکیں

مناسب رہائش کے حق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی رپورٹر کی جانب سے فروری میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، تقریباً دو سالوں کے دوران غزہ پر ۲؍ لاکھ ٹن سے زائد بارود گرایا گیا۔ اقوامِ متحدہ کے سیٹیلائٹ سینٹرکی جانچ کے مطابق، ۱۶؍ جون ۲۰۲۶؍ تک غزہ کی کل عمارتوں میں سے تقریباً ۸۲؍ فیصد، یعنی ۲؍ لاکھ ایک ہزار ۲۹۰؍ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان اعداد و شمار میں ایک لاکھ ۳۴؍ہزار ۴۲۲؍ مکمل طور پر تباہ شدہ عمارتیں، ۱۳؍ ہزار ۸۴۸؍ شدید متاثرہ، ۲۸؍ ہزار ۹۶؍ درمیانے درجے کی متاثرہ اور ۲۴؍ ہزار ۹۲۴؍ ایسی عمارتیں شامل ہیں جنہیں نقصان پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ اس کے علاوہ تقریباً ۳؍ لاکھ ۲۸؍ ہزار ۶۲۷؍ رہائشی یونٹس کو نقصان پہنچا ہے۔۸؍ اکتوبر ۲۰۲۳؍ سے اب تک، غزہ پر اسرائیل کی اس نسل کش جنگ کے نتیجے میں ۷۴؍ ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ ۷۵؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ اس محصور علاقے کے تقریباً ۹۰؍ فیصد بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK