• Thu, 08 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ جنگ، ۳؍ سال: اس ماہ کے ابتدائی۱۵؍ دن، ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی پروگرام

Updated: October 08, 2026, 10:04 PM IST | London

غزہ جنگ کے تین سال مکمل ہونے پر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ دنیا کے مختلف براعظموں میں مظاہرے، مارچ، دھرنے، شمعیں روشن کرنے کی تقریبات اور طلبہ احتجاج ہوئے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

غزہ جنگ کے تین سال مکمل ہونے پر فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ دنیا کے مختلف براعظموں میں مظاہرے، مارچ، دھرنے، شمعیں روشن کرنے کی تقریبات اور طلبہ احتجاج ہوئے۔ اسرائیل کی وزارتِ ڈائسپورا امور اور انسدادِ یہود دشمنی کے مطابق یکم سے ۱۴؍ اکتوبر کے درمیان ۳۷؍ ممالک میں ۲۶۲؍ فلسطین حامی احتجاجی و یکجہتی پروگراموں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ۷۵؍ پروگرام ۷؍ اکتوبر کو ہوئے۔ ۱۰؍ اور ۱۱؍ اکتوبر کو مزید ۱۲۱؍ پروگرام ہوں گے۔ امریکہ میں ۴۵، اسپین میں ۴۰، آسٹریلیا میں ۲۱، برھانیہ میں ۱۹، اٹلی میں ۱۶، جرمنی اور کنیڈا میں ۱۴، فرانس میں ۱۰؍ اور نیدرلینڈز میں ۸؍ پروگرام درج کئے گئے۔

اِن مظاہروں کا جغرافیہ صرف یورپ اور امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ تک فلسطین کے حق میں سرگرمیاں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ، یوراگوئے، ملائیشیا، ایکواڈور، جنوبی کوریا اور نیوزی لینڈ سمیت مختلف ممالک میں بھی یکجہتی پروگرام رکھے گئے، جبکہ بوگوٹا، استنبول، بنکاک، بارسلونا، لندن، برلن، پیرس اور ایمسٹرڈیم سمیت کئی بڑے شہروں کو ممکنہ طور پر زیادہ حساس مقامات میں شمار کیا گیا تھا۔

برلن میں شہری سڑکوں پر

برلن میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے۔ کروزبرگ اور نیوکولن علاقوں میں ہونے والے مظاہرے میں فلسطینی پرچم لہرائے گئے اور غزہ میں جنگ ختم کرنے، اسرائیل کے مبینہ جنگی جرائم کا احتساب کرنے اور جرمنی کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرین میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ شرکاء نے ’’فری فلسطین‘‘ کے نعرے لگائے جبکہ ایک بڑے پوسٹر پر جنگ اور فلسطینیوں کے حقِ مزاحمت سے متعلق پیغامات درج تھے۔

نیدرلینڈز کے کئی شہروں میں مظاہرے

نیدرلینڈز میں احتجاج کئی شہروں تک پھیل گیا۔ یوٹریخت، ایمسٹرڈیم، روٹرڈیم اور دیگر شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں پر فلسطین حامی افراد نے دھرنے دیے۔ یوٹریخت میں مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ احتجاج کے بعد یوٹریخت کے مرکز اور ہوخ کاتھارائن شاپنگ مال تک مارچ بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے نیدرلینڈز کی حکومت پر اسرائیل کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے ’’غزہ میں قتل بند کرو‘‘ اور ’’ڈچ شراکت داری ختم کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ ایمسٹرڈیم میں ۷؍ اکتوبر کو ایک الگ فلسطین حامی مظاہرہ ہوا جس میں فلسطینی پرچم اور بینر اٹھائے گئے، ہلاک ہونے والوں کے نام پڑھے گئے اور شرکاء نے مارچ کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی پیدا ہوئی۔ 

لندن میں طلبہ کا مارچ، گرفتاریاں اور پولیس سے جھڑپیں

کنگز کالج لندن سے یونیورسٹی کالج لندن کی جانب طلبہ کا فلسطین حامی مارچ نکلا۔ مظاہرین نے فلسطین کی آزادی اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے کے نعرے لگائے۔ لندن میں بورڈ آف ڈپٹیز آف برٹش جیوز کے کیمڈن دفتر کے باہر بھی احتجاج ہوا، جہاں مظاہرین نے فلسطینی، آئرش اور ایرانی پرچم اٹھائے۔ پولیس کے مطابق اس مظاہرے میں مبینہ طور پر ’’انتفاضہ‘‘ کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں ۵؍ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دن بھر ہونے والے مختلف فلسطین حامی مظاہروں میں مجموعی طور پر ۱۱؍ گرفتاریاں ہوئیں۔ 

اسکاٹ لینڈ میں بھی یونیورسٹی آف ایڈنبرا اور یونیورسٹی آف گلاسگو میں فلسطین حامی مظاہرے ہوئے۔ ایڈنبرا میں طلبہ نے جارج اسکوائر سے مارچ کیا اور فلسطینی پرچم و بینر اٹھائے؛ یونیورسٹی سے اسرائیل سے متعلق کمپنیوں سے سرمایہ کاری ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ 

امریکہ میں نیویارک سے واشنگٹن تک احتجاج

نیویارک میں سٹی ہال کے قریب سیکڑوں فلسطین حامی مظاہرین جمع ہوئے اور ’’فری فلسطین‘‘ سمیت مختلف نعرے لگائے۔ بعد میں بعض مظاہرین یونین اسکوائر میں اسرائیلی اور فلسطینی ہلاک شدگان کی مشترکہ یاد میں منعقدہ تقریب کے مقام تک پہنچ گئے، جہاں ۲۰۰؍  سے زائد فلسطین حامی مظاہرین نے احتجاج کیا۔ اس تقریب میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی بھی موجود تھے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے باہر بھی فلسطین حامی طلبہ اور کارکنوں کا احتجاج ہوا۔ ۷۰؍ سے زائد افراد نے یونیورسٹی کے گیٹ کے باہر مظاہرہ کیا۔ اس احتجاج کا عنوان ’’نسل کشی کے ۳؍ سال، مزاحمت کے ۷۸؍ سال‘‘ رکھا گیا تھا اور اسے اسٹوڈنٹس فار جسٹس اِن فلسطین نے منظم کیا۔ 

واشنگٹن ڈی سی میں جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے طلبہ کے فلسطین حامی گروپ نے احتجاجی ریلی اور دعائیہ اجتماع کیا۔ شرکاء نے فلسطین اور غزہ کے حق میں نعرے لگائے اور مظاہرہ یونیورسٹی سے شہر کی سڑکوں تک لے گئے۔ پولیس نے احتجاج کے دوران مخالف مظاہرین کو الگ رکھا۔ 

سیئٹل میں بھی فلسطین حامی مظاہرین نے کیپیٹل ہل کے علاقے میں مارچ کیا۔ پولیس نے بعض مقامات پر معمولی املاک کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی اور کہا کہ مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ 

کنیڈا میں بھی فلسطین کیلئے آوازیں بلند

کنیڈا میں مونٹریال، ٹورنٹو اور اوٹاوا نمایاں مراکز رہے۔ مونٹریال میں میک گل یونیورسٹی کے روڈک گیٹس کے مقام پر فلسطین حامی مظاہرہ ہوا، جبکہ اسی جگہ مخالف مظاہرین بھی جمع ہوئے اور پولیس نے دونوں گروہوں کو الگ رکھا۔ 

میکسیکو سٹی میں اسرائیلی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ

فلسطین حامی مظاہرین اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے، فلسطینی پرچم اور بینر اٹھائے اور غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کے دوران اخبارات اور ایک فٹ بال سے متعلق علامتی چیزیں بھی نذرِ آتش کی گئیں۔ 

کولمبیا میں اسرائیل کے خلاف احتجام

کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر آئے۔ احتجاج اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے سے شروع ہوا اور مظاہرین نے غزہ میں جاری جنگ، اسرائیل کے ساتھ کولمبیا کے دوبارہ بحال ہونے والے سفارتی و اقتصادی تعلقات اور یروشلم میں نیا کولمبین سفارت خانہ کھولنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم بھی بلند کیا اور ایک بڑے فلسطینی پرچم کو سڑک کے اوپر پُل سے لٹکایا۔ 

لاطینی امریکہ میں احتجاج کا دائرہ وسیع رہا۔ ۷؍ اکتوبر کے آس پاس کے عالمی پروگراموں کی فہرست میں چلی کے دارالحکومت سانتیاگو اور یوروگوئے سمیت کئی لاطینی امریکی مقامات شامل تھے، جبکہ عالمی سطح پر جاری احتجاجی سرگرمیوں کی فہرست میں میکسیکو سٹی اور بوگوٹا کو حساس مراکز میں شمار کیا گیا۔

ایشیا میں ٹوکیو سے منیلا اور لاہور تک مظاہرے

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں شبویا کے علاقے سے فلسطین حامی مارچ کی تصاویر سامنے آئیں، جس میں مظاہرین فلسطینی پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ 

فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں ترقی پسند اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ۷؍ اکتوبر کے موقع پر احتجاج کیا۔ کوئزون سٹی اور میٹرو منیلا میں فلسطین کے حق میں مظاہرین نے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں سے متعلق اپنی مخالفت کا اظہار کیا اور غزہ میں جنگ کے خلاف نعرے لگائے۔ امریکی سفارت خانے کے قریب بھی فلسطین حامی تنظیموں کا احتجاج ہوا۔ 

پاکستان میں لاہور میں ہزاروں افراد کا ’’غزہ مارچ‘‘

جماعتِ اسلامی لاہور کی جانب سے مال روڈ پر منعقدہ مارچ میں ہزاروں افراد، جن میں خواتین، بچے، نوجوان اور بزرگ شامل تھے، شریک ہوئے۔ مارچ کا مقصد فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی، غزہ کے انسانی بحران کی طرف توجہ دلانا اور فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ تھا۔ کراچی میں بھی فلسطین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے سرگرمیاں جاری رہیں اور جماعتِ اسلامی کراچی کی جانب سے ۷؍ اکتوبر کو غزہ کو یاد کرنے اور فلسطینی عوام سے یکجہتی کا پیغام جاری کیا گیا۔ 

ترکی میں بھی بڑے پیمانے پر یکجہتی پروگرام

انقرہ میں ’’فری فلسطین مارچ فار غزہ‘‘ کے عنوان سے مارچ ہوا، جو کوجتے پے مسجد سے میلیک خاتون مسجد تک گیا۔ استنبول میں ۷؍ سے ۱۱؍ اکتوبر تک ’’فلسطین یکجہتی کے ایام‘‘ کا آغاز ہوا، جس میں نمائشیں، مباحثے، موسیقی اور غزہ کی صورتِ حال سے متعلق پروگرام شامل تھے۔ منتظمین کے مطابق متعلقہ سرگرمیاں ترکی کے ۸۱؍  صوبوں میں بھی جاری رہیں۔ 

افریقہ میں جنوبی افریقہ نمایاں رہا

کیپ ٹاؤن میں فلسطین حامی تنظیموں نے ہولوکاسٹ اینڈ جینوسائڈ سینٹر کے باہر خاموش احتجاج کیا۔ اس کے بعد شہر کے مرکزی علاقے میں یکجہتی مارچ نکالا گیا جو مختلف فلسطین حامی گرجا گھروں سے ہوتا ہوا سینٹ جارجز کیتھیڈرل پر اختتام پذیر ہوا۔ کیپ ٹاؤن کے احتجاج میں فلسطینی بچوں کے ناموں پر مشتمل تقریباً ۲۰؍ میٹر طویل کفن نما کپڑا بھی اٹھایا گیا۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق اس پر ۲۲؍ ہزار ۴۳۴؍ فلسطینی بچوں کے ہاتھ سے لکھے نام درج تھے۔ منتظمین نے اسے غزہ میں مارے گئے بچوں کی یاد اور ان کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر پیش کیا۔ جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن کے علاوہ جوہانسبرگ اور ای تھی کوینی یعنی ڈربن میں بھی ۷؍ اکتوبر کو فلسطین حامی احتجاج کا اعلان کیا گیا تھا۔ منتظمین نے تینوں شہروں میں ہولوکاسٹ و جینوسائڈ مراکز کے باہر احتجاج کی اپیل کی تھی۔

آسٹریلیا میں میلبورن اور سڈنی میں فلسطین حامی اجتماعات

 میلبورن کی اسٹیٹ لائبریری وکٹوریہ کے باہر صبح سے شام تک غزہ کے لیے ایک روزہ دھرنا اور بعد میں یادگاری پروگرام رکھا گیا۔ فلسطینی پرچم، تصاویر اور دیگر علامتی تنصیبات لگائی گئیں۔ ایک تصویر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی تصویر والے پلے کارڈ کے سامنے مظاہرین کو دکھایا گیا۔میلبورن میں فلسطین حامی اجتماع کے مقابلے میں اسرائیل حامی افراد بھی جمع ہوئے اور دونوں جانب کشیدگی پیدا ہوئی۔ پولیس کو مداخلت کرکے دونوں گروہوں کو الگ کرنا پڑا۔ سڈنی میں فلسطین حامی گروہوں نے بھی احتجاجی سرگرمیاں کیں، جبکہ اسی روز بانڈی بیچ پر اسرائیلی حملے کے متاثرین کی یاد میں سیکڑوں افراد کا الگ اجتماع ہوا۔ 

نیوزی لینڈ میں فلسطین حامی ریلیاں

نیوزی لینڈ میں آکلینڈ میں فلسطین یکجہتی ریلیاں بھی جاری رہیں اور فلسطین فورم آف نیوزی لینڈ نے ۷؍ اکتوبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی، ان کی تاریخ اور بے دخلی و محرومی کے خاتمے کے مطالبے کے ساتھ عالمی یکجہتی کا پیغام جاری کیا۔ دنیا بھر میں احتجاجی سرگرمیوں کے اس سلسلے کے دوران بعض مقامات پر فلسطین حامی اور اسرائیل حامی مظاہرین آمنے سامنے بھی آئے، جبکہ کئی شہروں میں پولیس نے راستے تبدیل کیے، مخصوص مقامات پر مظاہروں کی اجازت دی یا دونوں گروہوں کو الگ رکھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK