Updated: July 02, 2026, 7:26 PM IST
| Gaza
غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ اس عرصے میں ہزاروں فلسطینی جان سے گئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلی اور خطہ شدید انسانی بحران کا شکار رہا۔ اگرچہ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا، تاہم غزہ میں فوجی کارروائیاں، محدود پیمانے پر حملے، قبضے میں توسیع، امدادی رکاوٹیں اور سیاسی تعطل برقرار رہے۔ ایک ہزار دنوں پر مشتمل اس بحران کے دوران عسکری، سفارتی، قانونی اور انسانی سطح پر متعدد اہم پیش رفتیں سامنے آئیں، تاہم جنگ کے خاتمے اور تعمیر نو کا عمل اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔
غزہ پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو جمعرات کو ایک ہزار دن مکمل ہو گئے۔ اس طویل عرصے کے دوران غزہ غیر معمولی انسانی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی، بنیادی ڈھانچے کی تباہی، خوراک اور ادویات کی شدید قلت اور مسلسل فوجی کشیدگی کا مرکز بنا رہا۔ اقوام متحدہ کے تخمینوں کے مطابق اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک ۷۳؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق، تقریباً ایک لاکھ ۷۳؍ ہزار ۵۰۰؍ زخمی جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ تعمیر نو کی لاگت تقریباً ۷۰؍ ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
اگرچہ ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی، تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مکمل طور پر بند نہ ہو سکیں۔ فلسطینی حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جان سے گئے جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اسرائیل نے غزہ کے تقریباً ۷۰؍ فیصد حصے پر اپنا فوجی کنٹرول بڑھانے کا اعلان کیا جبکہ بڑی تعداد میں فلسطینی محدود علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔
ایک ہزار دن کی اہم ٹائم لائن
۲۰۲۳ء
۷؍ اکتوبر: حماس نے ’’آپریشن الاقصیٰ ‘‘ کے نام سے اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، جس میں ہزاروں راکٹ فائر کیے گئے اور اسرائیلی علاقوں میں دراندازی کی گئی۔ اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً ۱۲۰۰؍ افراد ہلاک، ہزاروں زخمی اور متعدد افراد یرغمال بنائے گئے۔ اسرائیل نے ’’آئرن سوورڈز‘‘ کے نام سے فوجی کارروائی شروع کرتے ہوئے غزہ کا مکمل محاصرہ کر دیا۔
۱۳؍ اکتوبر: اسرائیل نے شمالی غزہ کے شہریوں کو علاقے خالی کرنے کا حکم دیا۔
۲۷؍ اکتوبر: اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں زمینی کارروائی شروع کی، جو بعد میں وسطی اور جنوبی علاقوں تک پھیل گئی۔
نومبر: نیٹزارم کوریڈور قائم کیا گیا، جس کے ذریعے شمالی اور جنوبی غزہ کو الگ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی نے شمالی غزہ میں قحط کے خدشات سے خبردار کیا۔
۲۴؍ نومبر: قطر، مصر اور امریکہ کی ثالثی میں عارضی جنگ بندی، قیدیوں کا تبادلہ اور محدود انسانی امداد کی فراہمی شروع ہوئی۔
۳؍ دسمبر: خان یونس میں اسرائیلی زمینی کارروائی کا آغاز ہوا۔
۲۹؍ دسمبر: جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) میں نسل کشی کا مقدمہ دائر کیا، جس میں بعد ازاں متعدد ممالک شامل ہوئے۔
۲۰۲۴ء
۳؍ جنوری: بیروت میں حملے میں حماس لیڈر صالح العروری ہلاک ہوئے۔
۲۵؍ مارچ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلی مرتبہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد منظور کی۔
۶؍ مئی: اسرائیل نے رفح میں بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کیا اور بعد میں رفح کراسنگ پر قبضہ کر لیا۔
۳۱؍ مئی: امریکی صدر جو بائیڈن نے تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی تجویز کا اعلان کیا، تاہم بعد میں مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔
۸؍ جون: نصیرات پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی کارروائی کے دوران ۲۷۴؍ فلسطینی جان سے گئے جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچے تھے۔
۲۵؍ جون: آئی پی سی رپورٹ میں کہا گیا کہ غزہ کی ۹۵؍ فیصد آبادی غذائی عدم تحفظ کی مختلف سطحوں کا شکار ہے۔
۳۱؍ جولائی: تہران میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ حملے میں ہلاک ہوئے۔
۶؍ اگست: یحییٰ سنوار کو حماس کے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا گیا۔
اکتوبر: جبالیہ کیمپ میں اسرائیلی کارروائی شروع ہوئی جبکہ بعد میں اسرائیل نے رفح میں یحییٰ سنوار کی ہلاکت کا اعلان کیا۔
۲۰۲۵ء
۱۹؍ جنوری: حماس اور اسرائیل کے درمیان تین مرحلوں پر مشتمل جنگ بندی نافذ ہوئی۔
۲؍ مارچ: اسرائیل نے غزہ جانے والی تمام امدادی گزرگاہیں بند کر دیں۔
۱۸؍ مارچ: اسرائیل نے جنگ بندی ختم کرتے ہوئے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔
اپریل تا ستمبر: رفح، موراگ کوریڈور اور غزہ شہر میں متعدد نئے فوجی آپریشن کیے گئے، جبکہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی مختلف جنگ بندی تجاویز بھی سامنے آئیں مگر مستقل پیش رفت نہ ہو سکی۔
۸؍ اگست: اسرائیلی حکومت نے غزہ پر مرحلہ وار کنٹرول بڑھانے کے منصوبے کی منظوری دی۔
۲۲؍ اگست: آئی پی سی نے غزہ شہر میں قحط کا باضابطہ اعلان کیا۔
۲۹؍ ستمبر: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے ۲۰؍ نکاتی منصوبہ پیش کیا جس میں جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی تخفیف اسلحہ اور نئی انتظامیہ کی تشکیل شامل تھی۔
۱۰؍ اکتوبر: اسرائیل نے جنگ بندی کے باضابطہ نفاذ کا اعلان کیا جبکہ ۱۳؍ اکتوبر کو قیدیوں کے بڑے تبادلے کا عمل مکمل ہوا۔
۲۰۲۶ء
۱۴؍ جنوری: جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا گیا جس میں تعمیر نو، نئی فلسطینی انتظامیہ اور تخفیف اسلحہ سے متعلق اقدامات شامل تھے۔
فروری: رفح کراسنگ محدود پیمانے پر دوبارہ کھولی گئی، تاہم بعد میں دوبارہ بند بھی رہی۔
۱۵؍ مئی: اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے غزہ میں فوجی کنٹرول کے دائرہ کار میں اضافے کا اعتراف کیا۔
۲۴؍ جون: نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ کے تقریباً ۷۰؍ فیصد علاقے پر موجود ہے۔
ایک ہزار دن بعد غزہ کی صورتحال
جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود غزہ میں وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی ایک ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ساڑھے تین ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی فوجی کنٹرول میں اضافے سے شہریوں کے لیے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔ غزہ کے دو ملین سے زائد فلسطینی اب بھی بے گھر ہیں اور زیادہ تر خیموں یا تباہ شدہ عمارتوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ادویات، خوراک، ایندھن اور بنیادی ضروریات کی فراہمی شدید رکاوٹوں کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق متعدد ہسپتال اب بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکے جبکہ امدادی سامان کی ترسیل بھی سخت پابندیوں کے باعث متاثر ہے۔
تعمیر نو، جنگ بندی اور سیاسی تعطل
غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت نئی فلسطینی انتظامیہ، تعمیر نو، بین الاقوامی استحکام فورس اور حماس کی تخفیف اسلحہ جیسے نکات پر عمل درآمد ہونا تھا، تاہم ان میں نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ امریکی حمایت یافتہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ بھی اب تک عملی نتائج دینے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ادھر اسرائیل میں بھی سیاسی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مختلف سرویز کے مطابق وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو سیکوریٹی صورتحال، جنگ کے طویل دورانیے اور داخلی سیاسی اختلافات کے باعث شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے۔
انسانی بحران برقرار
بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کے علاقائی ڈائریکٹر نکولس وون آرکس کا کہنا ہے کہ غزہ میں معمول کی زندگی بحال ہونے میں ابھی طویل وقت درکار ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل اب بھی پیچیدہ پابندیوں کا شکار ہے۔ غزہ کے باشندوں کا کہنا ہے کہ جنگ سے پہلے معمول کی زندگی موجود تھی، مگر اب خوراک، ادویات، رہائش اور بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں۔ مسلسل ایک ہزار دن کی جنگ کے بعد غزہ اب بھی ملبے، بے گھری، معاشی تباہی اور غیر یقینی مستقبل کی علامت بنا ہوا ہے۔