Updated: October 14, 2026, 10:04 PM IST
| Gaza
غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوج کی جارحیت پر مبنی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ (NAZA) کی نمائش کے بعد ناظرین کے جذباتی ردعمل اور سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث نے توجہ حاصل کی ہے۔ ریڈ اِٹ پر فلم دیکھنے والے بعض صارفین نے بتایا کہ اختتام پر ہال میں کئی منٹ تک خاموشی رہی اور بعض ناظرین روتے رہے۔
نازا کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں اور اسرائیلی فوج کے طریقۂ کار پر سوال اٹھانے والی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ (NAZA) نے نمائش کے بعد ناظرین کے جذباتی ردعمل کے سبب سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کی ہے۔ ریڈ اِٹ پر فلم دیکھنے والے صارفین نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ فلم کے اختتام پر کئی منٹ تک ہال میں خاموشی چھائی رہی، بعض ناظرین کی آنکھوں میں آنسو تھے اور کئی افراد اپنی نشستوں سے فوراً نہیں اٹھے۔
سوشل میڈیا پر فلم کے حق میں آوازیں
(۱) ریڈ اِٹ کے صارف PhishHawks نے فلم دیکھنے کے بعد لکھا کہ ’’جب فلم کے اختتامی کریڈٹ چلنے لگے تو ہال میں مکمل خاموشی تھی اور ایک سے دو منٹ تک کوئی اپنی جگہ سے نہیں اٹھا۔‘‘
(۲) اسی گفتگو میں صارف heebs387 نے لکھا کہ ’’فلم ختم ہونے کے بعد ناظرین کئی منٹ تک خاموشی سے روتے رہے۔‘‘
(۳) انغمر ہیرزوگ نامی صارف کے تبصرے نے فوجی کارروائیوں کی تفصیل اور تل ابیب میں معمول کے مطابق جاری زندگی کے مناظر کے تضاد کو نمایاں کیا۔ ان کے الفاظ میں، ’’تل ابیب کے شہریوں کو دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا کہ ان کے فوجی پڑوسی علاقے میں کتنی انسان سوز حرکتیں کررہے ہیں۔ یہ کیسا نے حس اسرائیلی معاشرہ ہے۔‘‘
(۴) ہیئر لیس اسنیچ نامی ریڈ اِٹ صارف نے فلم کو اپنے لئے انتہائی پریشان کن قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ’’مَیں نے اس قدر دل چیر دینے والی فلم کبھی نہیں دیکھی۔ غم اس قدر حاوی ہے کہ زبان سے الفاظ نہیں نکل رہے ہیں۔‘‘
(۵) روٹن ٹماٹوز پر رچرڈ اے نے لکھا کہ ’’شاندار دستاویزی فلم، حقیقت جاننے کیلئے اسے ضرور دیکھنا چاہئے۔‘‘
(۶) کیرن سی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’’اب تو وقت آ گیا ہے کہ لوگ جاگیں اور دیکھیں کہ غزہ کے پورے عوام کے ساتھ کیا ہوا ہے۔‘‘
(۷) میتھیو آر نے غصے اور رونے والی ایموجیز کے ساتھ لکھا کہ ’’ایک چونکا دینے والی اور اختراعی دستاویزی فلم، جو انتہائی پریشان کن بھی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سعودی ایئرپورٹس بحران: عمرہ متاثر، یو اے ای میں بکنگ کم، بنگلہ دیشی مسافر پریشان
(۸) جان ڈی نے امریکیوں کو آواز دیتے ہوئے لکھا کہ ’’میرے خیال میں امریکیوں کو یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کس چیز پر خرچ ہوتا ہے۔‘‘
(۹) برلن میں فلم دیکھنے والے فرانسسکو نے فلم کو مؤثر، معلوماتی اور کامیاب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ غزہ کے حالات کو بہتر طور پر سمجھنے کے خواہش مند دوسرے لوگوں کو بھی یہ فلم دیکھنے کا مشورہ دیں گے۔
(۱۰) برلن سے تعلق رکھنے والی وینیسا نے فلم کو انتہائی افسوس ناک لیکن عمدہ انداز میں بنائی گئی دستاویزی فلم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بطور ماں اسے دیکھنا بہت مشکل تھا، فلم دیکھنے کے بعد محسوس ہوا کہ غزہ میں بہت کچھ ایسا ہوا ہے جو پوری انسانیت کو شرمسار کرنے کیلئے کافی ہے۔‘‘
(۱۱) سیئٹل ٹائمز کے فلم ناقد چیس ہچنسن نے فلم کی پیش کش کو صحافتی اور سنیما کی سطح پر غیر معمولی قرار دیا۔ ان کے مطابق، فلم ناظرین کو یہ سمجھنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسانی معاشروں کا ’’خاموش‘‘ رویہ کس طرح جاری تشدد میں شریک بن سکتا ہے۔
’’نازا‘‘ کے بارے میں
یہ فلم اسرائیلی ہدایت کار یووال ابراہام اور ریچل شور نے تیار کی ہے جس میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ ۲۴؍ گمنام افراد کی گواہیاں شامل ہیں، جن میں غزہ میں حملوں کیلئے اہداف کی نشان دہی، مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں اور شہری ہلاکتوں کے امکان سے متعلق تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ فلم کا عنوان ’’نازا‘‘ اسرائیلی فوج میں استعمال ہونے والی عبرانی اصطلاح کے مخفف سے اخذ کیا گیا ہے، جس کا مفہوم حملے کے دوران متوقع ضمنی شہری ہلاکتوں سے متعلق ہے۔
فوجی گواہیوں نے کیسے اٹھائے سوالات؟
فلم میں گمنام فوجی اور انٹیلی جنس اہلکاروں نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں مشتبہ حماس ارکان کی نشان دہی کیلئے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور نگرانی کے نظام استعمال کیے گئے۔ ان گواہیوں میں اس بات پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں کہ فوجی اہداف پر حملوں کے وقت شہری ہلاکتوں کے امکان کو کس طرح شمار کیا جاتا تھا اور اس ضمن میں منظوری کے فیصلے کیسے کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
وینس فلم فیسٹیول میں کھڑے ہوکر تالیاں بجائی گئیں، اسرائیل میں مخالفت
فلم کا اثر سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہا۔ ستمبر میں وینس فلم فیسٹیول میں اس کی نمائش کے بعد ناظرین نے تقریباً ۲۵؍ منٹ تک کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔ فلم کو فیسٹیول کا خصوصی جیوری ایوارڈ بھی ملا۔ اس کے برعکس اسرائیل میں سیاسی شخصیات اور بعض حلقوں نے فلم سازوں پر سخت تنقید کی اور ان پر اسرائیلی فوج کی شبیہ خراب کرنے کے الزامات لگائے۔
۱۲؍ اکتوبر کو الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے فلم میں شامل گمنام ذرائع کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ فلم اسرائیل اور اس کی فوج کے بارے میں گمراہ کن تصویر پیش کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی گواہیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملوں کے اہداف کا انتخاب اور منظوری انسانی اہلکاروں کے ذریعے فوجی ضابطوں کے مطابق کی جاتی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی ۴۳ حقوقِ انسانی تنظیموں نے فلم سازوں کی حمایت کی اور انہیں دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی۔