• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سعودی ایئرپورٹس بحران: عمرہ متاثر، یو اے ای میں بکنگ کم، بنگلہ دیشی مسافر پریشان

Updated: October 14, 2026, 5:01 PM IST | Dubai

ریاض کے کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش اور پروازوں کی معطلی نے عمرہ زائرین کے سفر کو غیر یقینی صورت حال سے دوچار کردیا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ٹریول ایجنٹوں کے مطابق عمرہ کی پوچھ گچھ اور بکنگ میں کمی آئی ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں ۸۲؍ براہ راست اور رابطہ پروازیں متاثر ہونے سے ۱۳۰۷۱؍ مسافروں کے سفر میں خلل پڑا ہے۔ ہندوستانی اور متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی سعودی عرب کے لیے اپنی خدمات معطل یا محدود کردی ہیں۔

A view of Riyadh Airport. Photo: INN
ریاض ائیر پورٹ کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کنگ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے کی بندش کے باعث فضائی سفر کا بحران وسیع ہوتا جارہا ہے۔ عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے زائرین بھی اس صورت حال سے متاثر ہورہے ہیں اور متحدہ عرب امارات میں ٹریول ایجنٹوں نے بکنگ اور پوچھ گچھ میں کمی کی اطلاع دی ہے۔ سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھاریٹی کے مطابق ریاض ہوائی اڈے کی بندش ۱۷؍  اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے، جس سے وہاں آنے اور جانے والی پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہندوستانی فضائی کمپنیوں کے ساتھ یورپ، خلیجی خطے اور ایشیا کی متعدد ایئرلائنز نے بھی اپنی پروازیں منسوخ یا معطل کردی ہیں۔ بنگلہ دیش میں اس بحران کے اثرات بڑے پیمانے پر سامنے آئے ہیں۔ وہاں کی شہری ہوا بازی اتھاریٹی کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۳؍ اکتوبر تک ڈھاکہ سے چلنے والی ۸۲؍ براہ راست اور رابطہ پروازیں متاثر ہوئیں، جس کے نتیجے میں ۱۳۰۷۱؍ مسافروں کے سفر میں خلل پڑا۔ ان میں سعودی عرب جانے والے تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ عمرہ زائرین بھی شامل ہیں۔ پروازوں کی منسوخی کے باعث بعض مسافروں کو ملازمت، ویزا اور سفر کے انتظامات سے متعلق غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ریاض میں ۳؍ زوردار دھماکے، سعودی عرب میں ریڈ الرٹ

متحدہ عرب امارات میں بھی عمرہ کے سفر کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ خلیجی اخبار ’گلف نیوز‘ کی ۱۴؍ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر سے جنوری تک کا عرصہ عموماً عمرہ سفر کے لیے مصروف سمجھا جاتا ہے، لیکن ریاض ایئرپورٹ کے بحران نے اس مرتبہ زائرین کو نئی بکنگ سے پہلے انتظار کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ٹریول ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ مسافروں کو خدشہ ہے کہ سفر طے کرنے کے بعد پرواز منسوخ ہوسکتی ہے یا واپسی کے لیے متبادل انتظام کرنا پڑسکتا ہے۔ عمرہ اور مذہبی سفر کے پیکیج فراہم کرنے والی ایک کمپنی سے وابستہ متحدہ عرب امارات کے رہائشی افضل کے ایچ نے ’گلف نیوز‘ کو بتایا، ’’مانگ میں کمی آئی ہے۔ حملوں کے آغاز کے بعد سے پوچھ گچھ کم ہوئی ہے۔‘‘ ان کے مطابق مسافر پروازوں کی منسوخی کے خدشات کے باعث پریشان ہیں۔ اروحہ ٹریولز کے منیجنگ ڈائریکٹر راشد عباس نے بھی بتایا کہ عمرہ مسافروں نے حملوں کے پیش نظر اپنے منصوبے فی الحال روک دیے ہیں۔ ان کے بقول، ’’بکنگ میں کمی آئی ہے۔ اس وقت صرف ہنگامی سفر ہورہا ہے۔‘‘
یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب جانے والے عمرہ زائرین کی آمدورفت میں ہوائی سفر بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ریاض کے راستے سفر کرنے والے مسافروں کو پروازوں کی بندش کے باعث دوسرے ہوائی اڈوں یا زمینی راستوں کا انتخاب کرنا پڑرہا ہے۔ اس سے سفر کا وقت بڑھنے کے ساتھ اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے، جبکہ پہلے سے طے شدہ بکنگ رکھنے والوں کو تاریخ تبدیل کرنے یا رقم واپس لینے جیسے متبادل اختیار کرنے پڑرہے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ کی بندش کے اثرات ہندوستانی فضائی کمپنیوں کے فیصلوں میں بھی نمایاں ہیں۔ ’انڈیا ٹوڈے‘ کی ۱۳؍ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا نے ریاض، دمام اور جدہ کے لیے آنے اور جانے والی تمام پروازیں ۱۷؍ اکتوبر تک منسوخ کردی ہیں۔ انڈیگو اور آکاسا ایئر نے بھی متاثرہ سعودی راستوں پر پروازیں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئر انڈیا نے متاثرہ مسافروں کو بکنگ منسوخ کرنے کی صورت میں مکمل رقم واپس لینے کا اختیار دیا ہے۔
بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی مختلف مدت کے لیے خدمات معطل کی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ایئر فرانس۔ کے ایل ایم نے ریاض کے لیے پروازوں کی معطلی اکتوبر کے اختتام تک بڑھائی ہے، اتحاد ایئرویز نے ریاض کے لیے خدمات اور دمام و جدہ کی بعض پروازیں ۱۹؍ اکتوبر تک منسوخ کی ہیں، جبکہ لفتھانزا گروپ نے ریاض کی پروازیں ۱۶؍ اکتوبر تک روک دی ہیں۔ انڈیگو نے ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ کے لیے پروازیں ۱۷؍ اکتوبر تک منسوخ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف فضائی کمپنیوں کے فیصلوں کی مدت اور متاثرہ راستے الگ الگ ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب نے حوثیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کی اسرائیلی پیشکش مسترد کر دی

بنگلہ دیش میں مسافروں کو متبادل ٹکٹوں کے لیے زیادہ رقم بھی خرچ کرنا پڑرہی ہے۔ ’دی بزنس اسٹینڈرڈ‘ کے مطابق ۱۴؍ اکتوبر تک متاثرہ پروازوں کی تعداد بڑھ کر ۸۶؍ ہوگئی تھی، جن میں ۳۶؍ براہ راست اور ۵۰؍ کنکٹنگ پروازیں شامل تھیں۔ اس سے ۱۳۴۹۰؍ مسافروں کا سفر متاثر ہوا۔ بنگلہ دیش کی قومی فضائی کمپنی بیمان بنگلہ دیش ایئرلائنز نے مسافروں کی حفاظت کے پیش نظر ڈھاکہ سے دمام اور ریاض کی پروازیں ۱۷؍ اکتوبر تک معطل کردی ہیں۔ عمرہ ایجنسی کے مالک اکبر علی کے مطابق ان کی ایجنسیوں کے ذریعے بکنگ کرانے والے کم از کم ۲۰۰؍ زائرین پروازوں کی منسوخی سے متاثر ہوئے۔ ریاض ایئر کے ذریعے ۱۱؍ اکتوبر کو واپس آنے والے ۴۰؍ زائرین کو سلام ایئر کی پروازوں پر منتقل کرنا پڑا، جس سے ٹکٹ کی قیمت ۳۰؍ ہزار ٹاکا سے بڑھ کر ۶۰؍ ہزار ہوگئی۔ دوسری جانب سعودی عرب کے تمام ہوائی اڈوں اور راستوں کی صورت حال یکساں نہیں ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ٹریول ایجنٹوں کے مطابق جدہ میں پروازوں کا آپریشن بڑی حد تک جاری ہے، جبکہ دمام اور مدینہ بعض مسافروں کے لیے متبادل راستے فراہم کرسکتے ہیں۔ تاہم متبادل ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے زمینی سفر کرنا پڑسکتا ہے، جس سے وقت اور خرچ بڑھتا ہے۔ ’گلف نیوز‘ کے مطابق افضل کے ایچ کی قیادت میں عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے۱۰؍ افراد کے ایک گروپ کو واپسی کے سفر میں پروازیں منسوخ ہونے کے بعد ایک اضافی دن رکنا پڑا اور بالآخر بحرین کی سمت سڑک کے راستے سفر کرکے متحدہ عرب امارات واپس آنا پڑا۔
اس بحران کا فوری اثر عمرہ زائرین کے سفری منصوبوں اور فضائی رابطوں پر پڑا ہے۔ ٹریول ایجنٹوں کے مطابق پہلے سے بکنگ کرانے والے مسافر تاریخیں تبدیل کرنے یا رقم واپس لینے کے امکانات دیکھ رہے ہیں، جبکہ نئے سفر کا ارادہ رکھنے والے حالات واضح ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ سعودی عرب میں ہوائی اڈوں کی بندش اور فضائی کمپنیوں کی جانب سے معطلی کی مدت میں تبدیلی کے باعث مسافروں کے لیے روانگی سے قبل اپنی پرواز کی تازہ صورت حال معلوم کرنا اہم ہوگیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK