Updated: October 29, 2026, 8:09 PM IST
| New Delhi
ہندوستان کی معیشت کی رفتار مضبوط برقرار ہے اور مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی دوسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی حقیقی شرح نمو ۳۵ء۷؍ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جمعرات کو جاری اکتوبر کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں یہ تخمینہ پیش کیا گیا۔
انڈیا جی ڈی پی۔ تصویر:آئی این این
ہندوستان کی معیشت کی رفتار مضبوط برقرار ہے اور مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی دوسری سہ ماہی، یعنی جولائی سے ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی حقیقی شرح نمو ۳۵ء۷؍ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جمعرات کو جاری اکتوبر کی ماہانہ اقتصادی جائزہ رپورٹ میں یہ تخمینہ پیش کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، ملک میں مضبوط گھریلو کھپت، صنعتی پیداوار میں اضافہ، توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب، بندرگاہوں پر مال برداری کی سرگرمیوں، جی ایس ٹی وصولیوں اور گاڑیوں کی فروخت نے معاشی سرگرمیوں کو سہارا دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود ہندوستان میں اندرونی طلب اور اقتصادی سرگرمیاں مضبوط ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ءکی پہلی سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو ۸ء۷؍ فیصد رہی تھی۔ اس کے بعد اقتصادی سروے ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں پیش کیے گئے محکمہ کے تخمینہ جاتی ماڈل کے مطابق، دوسری سہ ماہی میں حقیقی جی ڈی پی کی شرح نمو ۳۵ء۷؍ فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بھارتی معیشت کی ترقی کی رفتار برقرار رہنے کا امکان ہے، اگرچہ دوسری سہ ماہی کا تخمینہ پہلی سہ ماہی میں درج شرح سے قدرے کم ہے۔
جولائی سے ستمبر ۲۰۲۶ء کے دوران صنعتی سرگرمیوں میں مضبوطی دیکھی گئی۔ اگست ۲۰۲۶ء میں صنعتی پیداوار کے اشاریے (آئی آئی پی) میں گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں ۸؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا، جس میں مینوفیکچرنگ شعبے کی ۹؍ فیصد ترقی کا نمایاں کردار رہا۔ اسی طرح ستمبر ۲۰۲۶ء میں بنیادی صنعتوں کے اشاریے میں سالانہ بنیاد پر ۹ء۷؍فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مینوفیکچرنگ شعبے کی سرگرمیوں میں تیزی کا اندازہ ایچ ایس بی سی انڈیا مینوفیکچرنگ پرچیزنگ منیجرز انڈیکس (پی ایم آئی) سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔ ستمبر میں یہ اشاریہ اگست کے ۸ء۵۲؍ سے بڑھ کر۱ء۵۵؍ پر پہنچ گیا۔ عام طور پر۵۰؍ سے اوپر کا پی ایم آئی مینوفیکچرنگ سرگرمیوں میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے، اس لیے تازہ اعداد و شمار صنعتی شعبے میں ترقی کے رجحان کو ظاہر کرتے ہیں۔وزارتِ خزانہ کے مطابق، حالیہ پالیسی اقدامات، سرمایہ کاری اور کمپنیوں کی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ملک میں مینوفیکچرنگ کی بنیاد مضبوط بنانے، مقامی پیداوار بڑھانے اور تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ آئندہ مرحلے میں بڑے پیمانے پر پیداوار، مقامی طور پر تیار ہونے والے اجزا اور مصنوعات کی قدر میں اضافے، سپلائی چین کو مضبوط بنانے اور برآمدات میں مسابقت برقرار رکھنے پر توجہ دینا اہم ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:تمنا بھاٹیہ نے انو کپور کے’’دودھیا بدن‘‘ والے تبصرے پر خاموشی توڑی
رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتِ حال کے باوجود ستمبر ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کا بیرونی تجارتی شعبہ مضبوط رہا۔ اس مہینے اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر۱۱؍فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ اس ترقی میں اشیا کی برآمدات کا اہم حصہ رہا، جن میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں ۱ء۲۳؍فیصد اضافہ ہوا۔ الیکٹرانکس اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات نے اس پیش رفت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ہندوستان کی بیرونی مالی پوزیشن کو غیر ملکی زرمبادلہ کے وافر ذخائر سے بھی مدد ملی۔ رپورٹ کے مطابق، ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء تک ملک کے زرمبادلہ ذخائر ۷۲۱؍ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے۔ زرمبادلہ کے یہ ذخائر بیرونی ادائیگیوں، عالمی مالیاتی اتار چڑھاؤ اور ممکنہ اقتصادی دباؤ سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی، مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے کورٹ پر اترے
وزارتِ خزانہ کے جائزے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر سرکاری بانڈز کے منافع میں اضافے اور حصص بازاروں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود ہندوستان کے مالیاتی شعبے نے مضبوطی کا مظاہرہ کیا۔ منی مارکیٹ میں لین دین معمول کے مطابق جاری رہا اور بازار کی شرحیں پالیسی ریپو ریٹ کے قریب رہیں۔ اس دوران مرکزی بینک نے اوپن مارکیٹ آپریشنز (او ایم او) کے ذریعے مالیاتی نظام میں اضافی نقدی کو مؤثر انداز میں منظم کیا۔ رپورٹ کے مطابق، بینکوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے مجموعی قرضوں کی نمو بھی تیز رہی اور سالانہ بنیاد پر یہ شرح ۶ء۲۱؍ فیصد تک پہنچ گئی۔ قرضوں میں اضافہ کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری اور صارفین کے اخراجات کی مالی ضروریات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کے اثرات کا انحصار قرضوں کے معیار، ادائیگی کی صلاحیت اور مجموعی معاشی حالات پر بھی ہوتا ہے۔
وزارتِ خزانہ نے آئندہ مہینوں کے معاشی منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے ابتدائی اضافے کے بعد اس کے دوسرے مرحلے کے اثرات کو روکنا اہم ہوگا۔ اس مقصد کے لیے حال ہی میں بڑھائی گئی شرح سود کے اثرات اور مرکزی بینک کی جانب سے نقدی کے فعال انتظام کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ شرح سود میں اضافہ عام طور پر قرض لینے کی لاگت بڑھا سکتا ہے اور طلب پر اثر انداز ہوسکتا ہے، جبکہ نقدی کا مؤثر انتظام معیشت میں مالی حالات کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے آنے والے عرصے میں اقتصادی ترقی اور مہنگائی کے درمیان توازن برقرار رکھنا پالیسی سازوں کے لیے اہم چیلنج ہوگا۔