پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وقار یونس نے ہندوستانی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کی ٹیسٹ کرکٹ میں حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس طویل فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں اور عظمت کو مزید ثابت کرنا ہوگا۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 9:05 PM IST | New Delhi
پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وقار یونس نے ہندوستانی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کی ٹیسٹ کرکٹ میں حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس طویل فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں اور عظمت کو مزید ثابت کرنا ہوگا۔
پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وقار یونس نے ہندوستانی فاسٹ بولر جسپریت بمراہ کی ٹیسٹ کرکٹ میں حیثیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس طویل فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں اور عظمت کو مزید ثابت کرنا ہوگا۔ تاہم وقار یونس نے محدود اوورز کی کرکٹ، یعنی ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں اور ٹی ۲۰؍ میں بمراہ کی کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور انہیں موجودہ دور کے بہترین گیند بازوں میں شمار کیا۔ ان کے مطابق دباؤ کے لمحات میں بمراہ جس طرح وکٹیں حاصل کرتے ہیں اور میچ کا رخ بدل دیتے ہیں، وہ انہیں دوسرے گیند بازوں سے ممتاز بناتا ہے۔
وقار یونس نے یہ رائے معروف ہندوستانی صحافی اور میزبان شبھنکر مشرا کے پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفید گیند کی کرکٹ میں بمراہ کا کوئی ہم پلہ نظر نہیں آتا، لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت اس بات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ انہوں نے اس فارمیٹ میں نسبتاً کم میچ کھیلے ہیں۔ وقار یونس نے آسٹریلیا کے فاسٹ بولرز مچل اسٹارک اور جوش ہیزل ووڈ سمیت انگلینڈ کے سرکردہ گیند بازوں کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ٹیسٹ کرکٹ میں بہترین بولر کا تعین کرتے وقت ان کھلاڑیوں کی کارکردگی اور تجربے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔وقار کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ بمراہ محدود اوورز کی کرکٹ میں اپنی غیر معمولی صلاحیت ثابت کرچکے ہیں، لیکن طویل فارمیٹ میں عظیم ترین گیند بازوں کی صف میں ان کا مقام طے کرنے کے لیے مزید کارکردگی اور تسلسل کو دیکھنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کترینہ کیف نے زچگی کے بعد جسمانی ساخت پر تنقید کرنے والوں کو دوٹوک جواب دیا
وقار یونس کے اس تبصرے کے باوجود بمراہ کے ٹیسٹ ریکارڈ کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق وہ ۵۲؍ ٹیسٹ میچوں میں ۲۳۴؍ وکٹیں حاصل کرچکے ہیں، جبکہ ان کی اوسط ۷ء۱۹؍ اور اسٹرائیک ریٹ ۸ء۴۲؍ہے۔ یہ اعداد و شمار طویل فارمیٹ میں بھی ان کی مؤثر بولنگ کی عکاسی کرتے ہیں۔ بمراہ نے ۲۰۱۸ء میں اپنے ٹیسٹ کریئر کے دوران اہم سنگ میل حاصل کیا، جب وہ محض اپنے ۱۱؍ویں ٹیسٹ میچ میں ۵۰؍وکٹیں لینے والے ہندوستان کے تیز ترین فاسٹ بولر بنے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے ۲۴؍ویں ٹیسٹ میں ۱۰۰؍ وکٹیں مکمل کیں۔
۲۰۱۹ء میں بمراہ نے ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرکے ایک اور نمایاں اعزاز حاصل کیا۔ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے ہندوستان کے صرف تیسرے بولر بنے، جس سے ان کی غیر معمولی صلاحیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ان کی کارکردگی کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر بھی کیا گیا۔ بمراہ کو ۲۰۲۴ء میں آئی سی سی کا بہترین مرد ٹیسٹ کرکٹر منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ ۲۵۔۲۰۲۴ءکی بارڈر گاوسکر ٹرافی میں آسٹریلیا کے خلاف پانچ ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوران انہوں نے۳۲؍ وکٹ حاصل کئے، جو اس سیریز میں کسی بولر کی جانب سے ایک ریکارڈ کارکردگی تھی۔ انگلینڈ میں بھی بمراہ کا ریکارڈ قابل ذکر ہے، جہاں انہوں نے ۱۱؍ ٹیسٹ میچوں میں ۵۱؍ وکٹ حاصل کئے۔
یہ بھی پڑھئے:کیرالا کی۱۸؍ سالہ فٹبالر رِنشا مریم کا پرتگال میں جلوہ، کرسٹیانو رونالڈو کی مداح ہیں
بمراہ کے ٹیسٹ کریئر پر گفتگو کرتے ہوئے ان کی فٹنس اور کام کے بوجھ کو سنبھالنے کی حکمت عملی بھی اہم ہے۔ مختلف مواقع پر چوٹوں اور آرام دیے جانے کی وجہ سے وہ ہر سیریز میں ہندوستان کی جانب سے دستیاب نہیں رہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض دوسرے سرکردہ فاسٹ بولرز کے مقابلے میں انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل کھیلنے کے کم مواقع ملے ہیں۔
وقار یونس نے ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے تحفظات کے باوجود محدود اوورز کے مقابلوں میں بمراہ کی اہمیت کو واضح طور پر تسلیم کیا۔ ان کے مطابق جب ہندوستانی کپتان مشکل صورت حال میں ہوتے ہیں تو وہ اہم وکٹ حاصل کرنے یا رنز کی رفتار روکنے کے لیے بمراہ کو گیند تھماتے ہیں۔ بمراہ دباؤ کے دوران اپنی حکمت عملی، درست لائن اور لینتھ اور مختلف انداز کی گیندوں سے حریف ٹیم کے بلے بازوں کو پریشان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وقار کے مطابق ٹی ۲۰؍ اور ایک روزہ کرکٹ میں بمراہ کا سب سے بڑا کمال اہم مواقع پر کارکردگی دکھانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے کھلاڑی صرف وکٹیں حاصل نہیں کرتے بلکہ اپنی کارکردگی سے ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں میں بھی اعتماد اور مقابلہ کرنے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔