Updated: September 08, 2026, 5:02 PM IST
| Berlin
جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں مساجد کو اسلام مخالف نعروں، نازی علامات اور نفرت انگیز کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ گیلسن کرشن کی تُغرا مسجد پر حالیہ حملہ بھی اسی بڑھتے ہوئے مسلم مخالف رجحان کی ایک کڑی ہے، جس نے مذہبی مقامات کے تحفظ اور دائیں بازو کی انتہاپسندی پر نئے سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
وہ مسجد جسے نشانہ بنایا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این
جرمنی کے شہر گیلسن کرشن میں ایک مسجد کو ۶؍ ستمبر کو اسلام مخالف اور انتہائی دائیں بازو کے نعروں اور علامتوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ مسجد کی دیواروں پر متنازع جملوں سمیت سفید فام نسل پرستوں اور نو نازی گروہوں سے منسلک عددی اور حروفی کوڈز بھی تحریر کئے گئے۔ تُغرا مسجد نے ایک پریس ریلیز میں حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی اطلاع حکام کو دے دی گئی ہے، جو اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترک مسلمانوں کی اس مسجد کو اس سے قبل ۲۰۲۰ءمیں بھی اسلام مخالف گرافٹی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو وفد کے دورے پر خواتین کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت، ایفل ٹاور ایک دن کیلئے بند
یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ جرمن حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۲۶ء کے پہلے چھ ماہ کے دوران ملک میں مسلمانوں کے خلاف ۲۳۱؍جرائم ریکارڈ کئے گئے، جن میں نو مساجد کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ یہ واقعہ یورپ میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مساجد کو نشانہ بنانے والے دیگر حملوں کے درمیان پیش آیا۔ ۴؍ ستمبر کو بلجیم کے شہر اینٹورپ میں واقع توفیق مسجد پر بھی حملہ کیا گیا، جہاں عمارت پر سواستیکا کے نشان اور نفرت انگیز پیغامات تحریر کئے گئے جبکہ مسجد کے داخلی دروازے کے باہر کتوں کا فضلہ بھی پھینکا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ابوظہبی میں نایاب خالص سفید باز کی ریکارڈ قیمت، ۱۵؍ لاکھ درہم میں فروخت
واضح رہے کہ جرمنی اور یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران مساجد اور مسلم برادری کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں تشویش ناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسلام مخالف گرافٹی، نازی علامات، دھمکیوں اور مساجد میں توڑ پھوڑ کے واقعات نہ صرف مذہبی مقامات کے تحفظ پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ یورپ میں بڑھتی ہوئی دائیں بازو کی انتہاپسندی اور مسلم مخالف جذبات کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔ جرمنی میں ماضی میں بھی مساجد کو ایسے حملوں کا سامنا رہا ہے، جبکہ دیگر یورپی ممالک میں بھی مسلم عبادت گاہیں نسل پرستانہ اور اسلام مخالف عناصر کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔