• Tue, 08 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روایتی سیاسی حلقۂ اثر سے ماورا اثرو رسوخ کے مراکز

Updated: September 08, 2026, 3:47 PM IST | P. Chidambaram | Mumbai

وہ کون سے مراکز ہیں جہاں اثرورسوخ ہے؟ اس سوال کے جواب میں مضمون نگار نے دو مثالیں پیش کی ہیں ۔ ان مثالوں میں کامیابی کی ایسی نظیر ہے جو اس سے پہلے نظر نہیں آئی تھی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

سوچئےکہ کس طرح دو غیر روایتی اور شہریوں کی قیادت میں جاری ہونے والی مہمات نے ہندوستانی روایتی سیاست کو مات دے دی۔ یہ غیر روایتی مہمات جن پارٹیوں نے چلائی اُن کے نام آپ جانتے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی اور تمل ناڈو کی نئی پارٹی ’’ٹی وی کے‘‘۔ان کی وجہ سے سوشل میڈیا پر جوابدہی کے مطالبے میں شدت پیدا ہوئی اور ان پارٹیوں کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے ۳۵؍ روزہ احتجاج کا نتیجہ یہ نکلا کہ دو وزیروں کو اُن سے گفتگو پر آمادہ ہونا پڑا جبکہ ایک وزیر کو استعفےٰ دینا پڑا۔ اتنا ہی نہیں، سی جے پی کی شرائط کو بھی حکومت کو ماننا پڑا جن میں سے ایک یہ تھی کہ جتنے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اُن مقدمات کو واپس لیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: اسکولوں سے ناقابل معافی غفلت

اس پس منظر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ سی جے پی کے احتجاج نے وہ سبق سکھایا جو ہماری ۷۹؍ سالہ جمہوری سیاست میں نہیں سیکھا گیا تھا۔ ایسا کوئی سبق سیکھنا پڑے گا اس کا اشارہ اس سال کے اوائل میں مل چکا تھا جبکہ دوسرا اشارہ بعد میں ملا۔ ابھی تک، تاریخ نے ہمیں یہ سمجھایا تھا کہ سیاسی جماعتیں، سیاسی جدوجہد یا کھینچ تان کے بعد یا انتخابات کے ذریعہ تبدیلی کی محرک بن سکتی ہیں۔ اس سبق کی معنویت اب بھی کم نہیں ہوئی ہے۔ کانگریسی نے ایسی تحریک شروع کی تھی جس کے ذریعہ ملک کو آزادی اور انگریزوں سے نجات ملی۔ یکے بعد دیگرے انتخابات جیت کر کانگریس نے ہندوستانی جمہوریت کے کئی ستون تعمیر کئے جیسے آئین کی حکمرانی، سیکولرازم، ریزرویشن، لسانی ریاستیں، آزاد اور خود مختار مرکزی بینک (آر بی آئی) اور اقتدار کی تقسیم (نامرکزیت)۔ 

یہ ہوئی ایک مرکزی پارٹی (کانگریس) کی روداد۔ اب آئیے علاقائی پارٹیوں کی طرف۔ مثلاً ڈراوڈین پارٹیاں (جنوبی ہند کی)۔ ان پارٹیوں نے ریاستی انتخابات جیتے اورریاستی زبان، ریاستی حقوق، تہذیبی شناخت، زمینی اصلاحات وغیرہ پر کام کیا۔ جے پرکاش نرائن کی تحریک (۱۹۷۵ء) نے مرکزی حکومت کو بے دخل کرنے کے امکانات پیدا کئے اور فرد کی آزادی کیلئے آئینی تحفظات کا اہتمام کیا۔ اسی طرح آل آسام اسٹوڈنٹس یونین کے ذریعہ چلائی گئی مہم (۱۹۷۸ء) نے سرحد کے اس پار سے اُس پار ہجرت کی قانونی گنجائشوں کی راہ نکالی۔ اس طرح، یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ جتنی بھی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ سیاسی جماعتوں کی مرہون منت تھیں جنہیں جدوجہد اور انتخابات کے ذریعہ یقینی بنایا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: جی ڈی پی کا تنازع

اس کے برخلاف، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) سیاسی جماعت، سیاسی جماعتوں کی تعریف پر پورا نہیں اُترتی۔ اس کا قیام ایک ناراض نوجوان ابھیجیت دیپکے کی ناراضگی کے سبب ہوا۔ اس کے پس پشت حقیقت سے سب واقف ہیں کہ دیپکے اور اُن کے چند احباب ایک تبصرہ سے بہت دل برداشتہ ہوئے تھے۔ تب ہی دیپکے نے ایک پلیٹ فارم جاری کردیا اور سوال کیا کہ ’’اگر تمام کاکروچ یکجا ہوگئے تو کیا ہوگا؟‘‘ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس پلیٹ فارم سے ہر وہ نوجوان جڑ سکتا ہے جو بے روزگار ہو، کاہل ہو، لگاتار آن لائن رہتا ہو اور پیشہ ورانہ انداز میں بھڑاس نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔دیکھا جائے تو ایسے طالب علموں اور اسکالروں کی کمی نہیں جو مذکرہ غیر روایتی لیاقت اور قابلیت کے حامل ہیں۔ کئی ایسے بھی ہیں جن کے پاس روزگار ہے مگر جو لگاتار آن لائن رہتے ہیں اور پیشہ ورانہ انداز میں بھڑاس بھی نکال سکتے ہیں۔ ان میں اساتذہ ہیں، مصور ہیں، ڈاکٹر ہیں، نرسیں ہیں، وکلاء اور تاجر ہیں، صحافتی اور دیگر پروفیشنل نیز جونیئر سرکاری ملازمین ہیں۔ بہرکیف، ابھیجیت دیپکے کے قائم کردہ پلیٹ فارم پر بانی اور لیڈر کے علاوہ ترجمان ہیں جن کے پاس عزم ہے، ہمت ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اس پلیٹ فارم کا کوئی رجسٹریشن نہیں ہے، اس کی کوئی تنظیم نہیں ہے، اس نے اپنے ممبرس بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی، اس نے اپنی پالیسیوں کا اعلان نہیں کیا اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کی بنیاد پر اسے سیاسی پارٹی کہا جاسکے۔ اس کے باوجود سی جے پی نے محض ۳۵؍ دن کے احتجاج کے ذریعہ۲؍ مرکزی وزیروں کو مذاکرات پر مجبور کیا، ایک منسٹر کا استعفےٰلیا، اپنی شرطیں منوائیں اور حکومت سے تحریری وعدہ لیا۔ یہ ایسے واقعات ہیں جن کی مثال نہیں ملتی۔ 

یہ بھی پڑھئے:کئی ’رَمابائیاں‘ ہمارے آس پاس ہیں!

جیسا کہ مَیں نے عرض کیا، عوام میں سیاسی جماعتوں کیلئے جو جگہ ہے اُس سے ہٹ کر ایک نئی اسپیس (جیسا کہ سی جے پی کو ملی) اس سال کے اوائل میں تب دیکھنے کو ملی تھی جب جوزف وجے نے     اعلان کیا تھا کہ وہ سیاسی پارٹی (ٹی وی کے) بنائیں گے مگر اس نے سیاسی جماعت کی شکل اختیار نہیں کی بلکہ سال کے اوائل میں اس کی حیثیت ’’مداحوں کی بزم‘‘ جیسی تھی۔ ایسا لگا جیسے یہی مداح ٹی وی کے پارٹی کے عہدیداروں کے طور پر مامور ہوگئے ہیں اور مختلف سطحوں اور محاذوں پر کام کررہے ہیں۔ الیکشن آیاتو ان لوگوں نے سیاسی بصیرت کو بالائے طاق رکھ دیا، روایتی طریقوں کو حاشئے پر رکھ دیا اور انتخابات کے وقت جن باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے مثلاً ذات پات، مذہب، صنف، سیاسی وراثت اور دولت، ان سب پر بھی غور نہیں کیا اور الگ طریقے سے ٹکٹ تقسیم کئے۔ ۲۳۴؍ اُمیدواروں میں سے ۲۰۰؍ کے پاس نہ تو پیسہ تھا نہ ہی اُنہوں نے خرچ کیا۔ بیشتر حلقوں میں ٹی وی کے پارٹی کے اُمیدواروں کی مہم ویسی تھی بھی نہیں جیسی کہ ہر الیکشن میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بیشتر اُمیدوار اپنے حلقوں میں اجنبیوں جیسے تھے۔ اس پارٹی کے پاس بوتھ ایجنٹ، پولنگ ایجنٹ اور کاؤنٹنگ ایجنٹ بھی نہیں تھے۔ وجے نے چند حلقوں میں میٹنگیں کیں اور چند روڈ شو کئے۔ تمل ناڈو کے رائے دہندگان اگر کسی کو جانتے تھے تو وجے کو، اس کے علاوہ کچھ جانتے تھے تو اُن کی پارٹی کے انتخابی نشان ’’سیٹی‘‘ کو۔ اس کے باوجود اگر کسی چیز نے اُن کے ساتھ غیر معمولی تعاون کیا تو وہ سوشل میڈیا تھا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ وجے کی تصویر اور اُن کی آواز گھرگھر گونج رہی تھی۔ انتخابی نتائج ظاہر ہوئے تو وجے کی پارٹی نے ریاست کی با اثر پارٹیوں (ڈی ایم کے اور انا ڈی ایم کے) کو توقع کے خلاف پٹٔخنی دی اور ۱۰۸؍ حلقوں میں کامیابی درج کی۔ 

کسی سیاسی جماعت،لیڈر، صحافی یا انتخابی ماہر نے وجے کی فتح کی پیش گوئی نہیں کی تھی۔ اس طرح تمل ناڈو کے انتخابی نتائج نے ظاہر کیا کہ سیاسی جماعتوں کے حلقۂ اثر کے باہر بھی ایسے حلقے ہیں جو اپنا اثر قائم کرسکتے ہیں اور روایتی پارٹیوں کی لکیر کے سامنے اُس سے بھی بڑی لکیر کھینچ سکتے ہیں۔ یہی کیا ’’ٹی وی کے‘‘ نے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK