دہلی کی مخدوش اور پچاس سال پرانی عمارت ’’ستیہ نکیتن‘‘ کے انہدام کے سبب طلبہ اور مزدوروں کی موت نہایت افسوسناک ہے۔
دہلی کی مخدوش اور پچاس سال پرانی عمارت ’’ستیہ نکیتن‘‘ کے انہدام کے سبب طلبہ اور مزدوروں کی موت نہایت افسوسناک ہے۔ بتایا گیا ہے کہ منہدم ہونے والی عمارت میں ۳۰؍ کمرے تھے اور ہر کمرے میں دو دو تین تین طالب علموں کو کرائے دار (پیئنگ گیسٹ) کے طور پر رہائش کی اجازت دی گئی تھی۔ چونکہ یہ عمارت دہلی یونیورسٹیکے قریب ہی واقع ہے اس لئے، اس یونیورسٹی کے طلبہ ایسی جگہوں پر قیام کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ آمدورفت کا خرچ، وقت اور توانائی بچے اور وہ زیادہ یکسوئی کے ساتھ تعلیم جاری رکھ سکیں۔ پیئنگ گیسٹ یا پی جی کی حیثیت سے رہنے والے طلبہ کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں کہ اُن کا تعلق بیرونی شہروں سے ہے جنہیں ہاسٹل کی سہولت دستیاب نہیں ہے اس لئے اُنہیں پی جی کی حیثیت سے رہنا پڑتا ہے۔ یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے ہوسٹلوں کی توسیع پر کتنی توجہ دی؟ طلبہ کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر رہائشی انتظام پر ازسرنو غور ہونا چاہئے تھا۔ اگر یونیورسٹی نے اس جانب توجہ دی ہوتی تو ممکن تھا کہ حالات بہتر ہوتے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی کے الگ الگ ہوسٹلوں، جن میں سینٹرل ہوسٹل اور کالج ہوسٹل شامل ہیں،میں محض چار ہزار طلبہ قیام کرسکتے ہیں جبکہ داخلہ لینے والے طالب علموں کی تعداد کم و بیش ڈھائی لاکھ ہے۔ ان میں سب باہر کے نہیں ہونگے مگر فرض کرلیا جائے کہ بیرونی طلبہ کی کم سے کم تعداد ۳۰؍ فیصد ہے تو یہ تعداد بھی غیر معمولی ہے۔ ۳۰؍ فیصد یعنی تقریباً ۷۵؍ ہزار طلبہ۔ ان کیلئے رہائش کتنا بڑا چیلنج ہے اس کے بارے میں سوچئے تو ذہن ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہوگا۔ ہوسٹلوں میں جگہ نہ ملنے کے سبب ہی یہ طلبہ یونیورسٹی کے قریب کرایہ دار یا پی جی کی حیثیت سے رہتے ہیں۔ظاہر ہے کہ ان میں اکثریت اُن طلبہ کی ہوگی جن کے وسائل بہت محدود ہیں اور جو اچھے کریئر کی اُمید میں دہلی آتے ہیں۔ یہ بات نہایت افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے نظام میں طلبہ کو وہ اہمیت حاصل نہیں ہے جو شاندار ترقی کے ذریعہ وِکست بھارت کا ہدف پانے کیلئے کوشاں ملک میں ہونی چاہئے۔ ترقی اگر ممکن ہے تو ’’انسانی وسائل‘‘ کے ذریعہ۔ اسی لئے آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہونے کے پیش نظر اسے آبادیاتی منافع (ڈیموگرافک ڈویڈنڈ) کے طور پر دیکھا جارہا تھا اور بیرونی ملکوں اور اداروں تک نے ہندوستان پر رشک کیا تھا مگر سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے طالب علموں کی حالت زار سے ایسا لگتا ہے جیسے ہم نے انسانی وسائل کے بغیر ترقی کا کوئی منصوبہ تیار کررکھا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے؟
ہوسکتا ہے متوفی طلبہ میں کوئی قابل فخر سائنسداں بنتا اور کوئی فرض شناس اعلیٰ سرکاری افسر بن کر ملک کی خدمت کرتا۔ ممکن ہے ان میں کوئی ایسا رہا ہو جو معاشی نظام کیلئے سودمند ثابت ہوتا اور کوئی ایسا جو اختراع پسندی کے ذریعہ عوامی مفاد کے غیر معمولی پروجیکٹ تیار کرتا!اس سانحہ نے اُن تمام طلبہ کیلئے بھی مشکلات پیدا کردی ہیںجو کرایہ دار یا پی جی کی حیثیت سے دیگر عمارتوں میں رہائش پزیر ہیں۔ اگر اُن میں سے محض ۳؍ فیصد بھی مخدوش عمارتوں میں ہیں تو اُن عمارتوں کا خالی کروایا جانا وہاں کے طلبہ کیلئے درد سر ہوگا۔ نئی قیام گاہ تلاش کرنا کوئی آسان کام تو نہیں ہوسکتا۔