جرمنی اور بلجیم میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد۱۸۳؍ ہوگئی، کئی افراد ہنوز لاپتہ

Updated: July 19, 2021, 1:26 PM IST | Agency | Berlin

ریسکیو عملہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوںمیں سرگرم ، بیشتر علاقوں میں تباہ مکانوں کے ملبے کے تلے کسی کے زندہ ہونے کے امکانات معدوم

The affected areas of Germany and Belgium have been devastated.Picture:INN
جرمنی اور بلجیم کے متاثرہ علاقوں ہر طرف بڑی تباہی ہوئی ہے۔تصویر: پی ٹی آئی

 جرمنی میں موسلا دھار بارش اور سیلاب کی وجہ سے مختلف حادثوں میں اموات کی تعداد ۱۵۶؍ ہوگئی ہے۔ اُدھر پڑوسی ملک بلجیم بھی  ۲۶۷؍ افراد  کی ہلاکت تصدیق کی گئی ہے۔  ان دونوں مقامات پر اموات کی مجموعی تعداد ۱۸۳؍ ہوگئی ہے۔دونوں ممالک کے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو عملہ ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہے لیکن اب بیشتر علاقوں میں تباہ مکانوں کے ملبے  کے تلےسے کسی کے زندہ ہونے کے امکانات  بہت کم ہیں۔ دونوں ممالک میں کئی افراد ہنوز لاپتہ  ہیں۔  جرمنی  کےبلڈ اخبار کی رپورٹ   میں کوبلنز پولیس ڈپارٹمنٹ کے حوالے سے بتایا گیاہے کہ رائن لینڈ۱۲؍ مزید افراد لاشیں  ملی  ہیں۔ اتوار کی صبح تک  جنوب مغربی جرمنی کے صوبہ رائن لینڈ پیلاٹیٹائن میں ۱۱۰؍ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اورزخمیوں کی تعداد  ۶۷۰؍ تک پہنچ گئی ہے۔ وہیں  شمالی رائن ویسٹ فیلیا صوبے میں   گزشتہ شام تک  ۴۵؍ افراد کی موت کی تصدیق کی گئی۔  جرمنی کے شہر باویریا کے برچٹیسڈنڈر لینڈ ضلع میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا گیا۔ جرمنی کے شہر سیکسن  اورسوئٹزرلینڈ  خطے میں بھی بارش کے تازہ سلسلے سے سیلاب  آنےکی اطلاعات ہیں۔
  جرمنی اور جمہوریہ چیک کے مابین ریل سروس متاثر
  جرمنی کے شہر سکسن سوئزرلینڈ میںجمہوریہ چیک کے ساتھ ریلوے سروس بھی  درہم برہم ہوگئی ہے۔جرمنی اور جمہوریہ چیک کو  بیڈ شنڈاؤ کے راستے جوڑنے والا ایک ریلوے روٹ سیلاب کے باعث بند ہوگیا ہے۔ڈوئچے باہن ریلوے سروس نےٹویٹر پر بتایا کہ  بیڈ شنڈاؤ کے قریب ریلوے کا راستہ درہم برہم ہوچکا ہے اور لمبی دوری والی ٹرینوں کو روک دیا گیا ہے۔ ڈوئچے باہن ویب سائٹ پر  دی گئی  اطلاعات کے مطابق علاقے میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے درمیان ڈریسڈن ۔پراگ روٹ پر ٹریفک اتوار کی سہ پہر تک معطل کردی گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق سیکسن سوئٹزرلینڈ ایسٹن اورے ماؤنٹین ڈسٹرکٹ آفس نے بتایا ہے کہ ۱۰۰؍ لیٹر فی مربع میٹر  سے زیادہ بارش کے باعث مزیدسیلاب آنے  کے سبب پانی کی سطح میں بہت زیادہ اضافہ ہونے کے خدشات کے درمیان کچھ علاقوں میں  ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے مکینوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ سیلاب  کی تباہی سے نمٹنے کیلئے ریسکیو  کام میں مزید تیز کئے گئے ہیں۔ جرمن فوج کے ۸۵۰؍  سےزیادہ فوجی امدادی سرگرمیوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔  ریسکیو  اداروں کے مطابق   متاثرہ علاقوں میں کیچڑا  ور دیگر ملبے کو صاف کرنا اور اکھڑےہوئے درختوں ہٹانا بڑا  چیلنج  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK