’انا بھائو ساٹھے میموریل‘ کی تعمیر کیلئے پکے گھروں کو جھوپڑے قرار دے کر ڈیڑھ کلومیٹر دور متبادل چھوٹےمکانات دینے سے ناراضگی۔ سرکاری افسران پر سیاسی دبائو میں دھمکانے کا الزام۔
چراغ نگر کے مکین ’گھرنہیں تو ووٹ نہیں‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے۔ تصویر: آشیش راجے
بی ایم سی انتخابات عنقریب ہونے والے ہیں ایسے میں گھاٹ کوپر کے چراغ نگر میں رہنے والے ۹۲۰؍ خاندانوں نے ’انا بھائو ساٹھے میموریل‘ کی تعمیر کے نام پر ان کے گھر چھینے جانے کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن میں کسی بھی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کااعلان کیا ہے اور اس سلسلے میں اس علاقے میں پوسٹرس بھی چسپاں کئے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ معروف سماجی مصلح ، مراٹھی زبان کے مصنف اورشاعر انا بھائو ساٹھے نے گھاٹ کوپر کے چراغ نگر میں واقع ایک مکان میں بیٹھ کر یہاں کے رہنے والوں کے تعلق سے اپنے ناول میں ’چراغ نگر چی بھُتے‘ عنوان پر مضمون تحریر کیا تھا۔ یہاں ان کی ۲؍ منزلہ یادگار موجود ہے لیکن حکومت نے یہاں۳۰۰؍ کروڑ روپےکی لاگت سے وسیع یادگار تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس یادگار کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی جس میں پہلے مرحلے میں ۲۲۰؍ مکانات متاثر ہوں گے اور باقی گھر دوسرے مرحلے میں منہدم کئے جائیں گے۔ اس طرح پورے پروجیکٹ میں کُل ۹۲۰؍ مکانات کو منہدم کیا جائے گا۔مقامی افراد کا الزام ہے کہ ان کے مکانات ایک لینڈ لارڈ کی نجی ملکیت پر ہیں لیکن سرکاری دبائو میں آکر ’سلم ری ہیبیلیٹیشن اتھاریٹی(ایس آر اے) نے ان گھروں کو جھوپڑے قرار دے دیئے ہیں۔
پہلے مرحلے میں متاثر ہونے والے ۲۲۰؍ گھروں میں معین شیخ کا گھر بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایس آر اے نے غیرقانونی طریقہ سے ہمارے مکانات کو جھوپڑے قرار دے دیا ہے اور اب یہاں سے تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر دور پنکھے شاہ بابا درگاہ کے قریب ایس آر اے کی بلڈنگ میں ۲۷۰؍ مربع فٹ کے مکانات میں منتقل ہونے کا نوٹس جاری کردیا گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ۲۲۰؍ میں سے فی الحال صرف ۶۰؍ افراد کو اہل قرار دیا گیا ہے۔ان کے بڑے بھائی محسن نے کہا کہ ’’ہم میں سے کوئی بھی شخص اس میموریل کی مخالفت نہیں کررہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں ’پی اے پی(پروجیکٹ افیکٹیڈ پرسن)‘ قرار نہ دیا جائے بلکہ چراغ نگر میں ہی ہمیں متبادل مکانات دینے کو بھی اسی پروجیکٹ کا حصہ بنادیا جائے اور ہمیں یہیں گھر دیئے جائیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ سیاسی دبائو میں آکر سرکاری افسران مختلف طریقوں اور نوٹس سے یہاں کے مکینوں کو دھمکا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’’ابتداء میں تو سرکاری افسران ہماری کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے جس کی وجہ سے ہمیں ہائی کورٹ سے رجوع ہونا پڑا اور پھر اکتوبر میں عدالت کے حکم پر ایس آر اے کے سی ای او ڈاکٹر مہندر کلیانکر نے پبلک میٹنگ لی، مقامی افراد کی بات سنی اور چند وعدے کئے لیکن کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا بلکہ اس کے اُلٹ ہی کام کیا جارہا ہے۔
یہاں رہنے والے ایک دیگر شخص نے کہا کہ ’’یہ مسئلہ گزشتہ چند برسوں سے جاری ہے۔ ایس آر اے افسران نے چند مقامی افراد کی مدد سے غیرقانونی طریقہ سے ہمارے گھروں کو جھوپڑے قرار دے دیا ہے لیکن کوئی بھی سیاستداں ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اب جبکہ ہم نے الیکشن کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے تو مختلف پارٹیوں سے الیکشن میں کھڑے ہونے والےامیدوار آکر درخواست کررہے ہیں کہ الیکشن کا بائیکاٹ مت کرو، ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔‘‘اس شخص نے مزید کہا کہ ’’زبانی وعدے ایس آر اے کے افسران نے بھی کئے تھے لیکن عمل ہمارے خلاف ہورہا ہے اس لئے ہم زبانی وعدوں پر یقین کرکے اپنا فیصلہ نہیں بدلیں گے۔ جب تک چراغ نگر میں ہی متبادل گھر ملنے کا ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہوتا، ہم ووٹنگ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر اٹل رہیں گے۔‘‘
انا بھائو ساٹھے کے پوتے انل ساٹھے بھی اس جگہ کو جھوپڑے قرار دینے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے یہاں کے لوگ بکھر جائیں گے۔