نئے دوست بنانے کے چکر میں ہم نے پرانے اور وفادار دوستوں سے دامن چھڑالیا ہے۔ اسرائیل سے قربت، پھر فلسطین اور اب ایران سے منہ موڑنا سفارتی توازن نہیں موقع پرستی ہے ۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 11:15 AM IST | Parvez Hafeez | Mumbai
نئے دوست بنانے کے چکر میں ہم نے پرانے اور وفادار دوستوں سے دامن چھڑالیا ہے۔ اسرائیل سے قربت، پھر فلسطین اور اب ایران سے منہ موڑنا سفارتی توازن نہیں موقع پرستی ہے ۔
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی بدترین جارحیت اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور انکے اہل خانہ کے وحشیانہ قتل پر ہندوستان کی خاموشی ہماری تاریخی متوازن اور اصول پسندانہ خارجہ پالیسی سے سراسر انحراف کا اعلان ہے۔پچھلے بارہ دنوں سے جاری جنگ ایران کی آزادی، علا قائی سلامتی اور قومی خودمختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ہندوستان کے ایران کے ساتھ تاریخی سیاسی، سفارتی اور ثقافتی رشتے رہے ہیں لیکن نئی دہلی نے نہ تو غیر قانونی جنگ کی مذمت کی اورنہ ہی ایرانی قیادت کے ٹارگٹیڈ قتل پر تعزیت کے دو بول بولے۔ وزیر اعظم مودی نے متحدہ عرب امارات، کویت، سعودی عرب، اردن، بحرین، عمان، قطراور اسرائیل کے حکمرانوں کو فون کر کے امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملوں کی مذمت کی لیکن تہران کو ایک فون کرنا ضروری نہیں سمجھا۔اگر ہندوستان واقعی غیر جانبداری برتنے اور سفارتی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کررہا تھا تو اسے ایران پراسرائیل اور امریکی حملوں کی بھی مذمت کرنا چاہئے تھی۔ حملہ آور تو اسرائیل اور امریکہ ہیں،ایران اپنے دفاع میں محض جوابی حملے کررہا ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مشرق وسطیٰ کے بحران پرپیر کے دن پارلیمنٹ میں طویل بیان دیا لیکن اس کا آغاز کیسے ہوا یہ نہیں بتایا اور نہ ہی ایران کے سپریم لیڈر کی موت پر رسمی تاسف کا ہی اظہار کیا۔صاف سمجھ میں آگیا کہ بھارت ’’قومی مفاد‘‘ کی خاطر اپنے دیرینہ اصولوں اور آدرشوں کوتیاگ چکا ہے۔ سونیا گاندھی نے ایک مضمون میں ایران پر مودی حکومت کی مصلحت آمیز خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ’’غیر جانبداری کا نہیں بلکہ فرض سے کوتاہی کا مظاہرہ‘‘ ہے۔ بحرہند میں ایک ایرانی جہازکو ٹارپیڈو سے تباہ کرکے اور ایرانی نیوی کے عملہ کے ۸۰؍ افراد کو ہلاک کرکے امریکہ نے جب بربریت کا ایک اور بڑا مظاہرہ کیا ہم پھر بھی خاموش رہے حالانکہ وہ ایرانی جہاز حکومت ِ ہندکی دعوت پر کیرالا میں ایک دوستانہ بحری مشق میں حصہ لینے آیا تھا اور ایران واپس جارہا تھا۔ ہمارے گھرکی تقریب میں شرکت کرکے واپس جاتے ہوئے راستے میں اگر خدانخواستہ ہمارے کسی مہمان کا قتل ہوجائے تو ہمارا کیا ردعمل ہوگا؟ ہمیں صرف صدمہ ہی نہیں بلکہ احساس جرم بھی ہوگا، تو پھر ہم نے ایرانی جہاز کی تباہی پر صدرِایران سے ہمدردی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ہم نے دبی زبان سے بھی امریکہ سے کیوں نہیں پوچھا کہ ہندوستان کے اثرو رسوخ والے بحر ہند میں اس نے ہمارے مہمان کے جہاز کا یہ حشر کیوں کیا؟
نئے دوست بنانے کے چکر میں ہم نے پرانے اور وفادار دوستوں سے یکلخت دامن چھڑالیا ہے۔ یہ سفارتی احتیاط نہیں موقع پرستی ہے۔ جیسے جیسے اسرائیل سے ہماری قربتیں بڑھنے لگیں ہم نے پہلے فلسطین سے اور اب ایران سے منہ موڑلیا ہے۔ مو دی جی کے اسرائیل کے حالیہ دورے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوگئی کہ انہوں نے ہندوستان کو مضبوطی سے امریکہ اوراسرائیل کے خیمے میں پہنچادیا ہے۔ ۲۶؍ فروری کو اسرائیل پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں مودی جی نے ۷؍ اکتوبر کے حماس کے حملوں کی سخت مذمت تو کی لیکن غزہ میں اسرائیل ڈیفینس فورسز کے ذریعہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں ہوئی ۷۵؍ ہزار ہلاکتوں پر ایک لفظ نہیں کہا۔
ماضی میں ہندوستان مظلوموں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا تھا۔ ’’نیو انڈیا‘‘ ظالموں کو گلے لگاتا ہے۔آج ہم ایران پر زبان کھولنے سے ڈررہے ہیں جبکہ ۲۰۰۳ء میں جب امریکہ نے عراق پر چڑھائی کی تھی تو وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے اس جارحیت کی نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ پارلیمنٹ میں اس کے خلاف ایک قرار داد بھی پاس کروائی تھی۔ واجپئی نے بغداد میں رجیم چینج کی بش کی کوششوں کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔ جب سویت یونین نے افغانستان پرقبضہ کیاتو اندرا گاندھی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ انہیں فوراً وہاں سے نکل جانا چاہئے۔ اندرا کو منانے کے لئے سوویت وزیر خار جہ Andrei A. Gromyko دہلی پہنچ گئے۔انہیں دونوں ممالک کی دوستی کا واسطہ بھی دیا لیکن مسزگاندھی اپنے اس اصولی موقف پر ڈٹی رہیں کہ قبضہ ناجائز ہے اور روسیوں کو افغانستان سے واپس جانا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:مالیگاؤں میونسپل اُردو اسکول نمبر ایک میں ’بچوں کے بینک‘ کے قیام کو ایک سال مکمل
نریندر مودی کے دور اقتدار میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی خارجہ پالیسی اتنی بدل جائے گی کیا کسی کو اس بات کا اندازہ تھا؟کیاکسی کے وہم و گمان میں بھی تھا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو جیل بھیج دیا جائے گا؟ کیاکسی نے کبھی سوچا تھا کہ اسرائیل کی حمایت میں ہندو تنظیموں کے اراکین سڑکوں پر مارچ کریں گے؟ مودی جی کی کوشش رہی ہے کہ نہرو جی کی خارجہ پالیسی کی وراثت کو مسترد کرکے اپنی ایک نئی خارجہ پالیسی وضع کریں۔ نہرو کی فارن پالیسی کی بنیاد ناوابستہ تحریک کے نظریے پر یعنی دونوں بڑی عالمی طاقتوں امریکہ اور سوویت یونین سے یکساں فاصلہ رکھنے پر قائم کی گئی تھی۔ ہندوستان غیر جانبدار تھا لیکن کبھی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں رہا بلکہ نہرو نے دانستہ جو حکمت عملی اپنائی اس کی وجہ سے ہندوستان نے اپنی خود مختاری اور آزادانہ سفارت کاری برقرار رکھی، کسی بین الاقوامی یا علاقائی ملٹری اتحاد میں شامل نہیں ہوااور سب سے اہم بات یہ کہ بین الاقوامی امور پر کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اپنے فیصلے آزادانہ طور پر خود کئے اور صرف ملک کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھ کر کئے۔ہندوستان کو پہلے حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کا حوصلہ تھا۔ ہم نہ بڑی معیشت تھے اور نہ ہی بڑی فوجی طاقت۔ وشوگروتو ہرگز نہیں تھے۔ ہم بے حد غریب تھے اور پھر بھی دنیا میں ہماری آوازسنی اور ہماری رائے مانی جاتی تھی کیونکہ ہم اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران کا سخت انتباہ: جنگ بڑھی تو دنیا بھر میں جوابی کارروائی ممکن
مودی جی ۲۰۱۴ء سے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مسلسل بہتر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ اوبامہ اور بائیڈن کے ساتھ بھی ان کے ذاتی مراسم اچھے تھے لیکن ٹرمپ کے ساتھ تو خصوصی یارانہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو ’’مائی فرینڈ‘‘کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ لیکن اپنے دوسرے دور صدارت میں ٹرمپ مودی جی کے ساتھ جس طرح کا سلوک کررہے ہیں اس سے لگتا تو نہیں ہے کہ وہ واقعی انہیں دوست سمجھتے ہیں۔اگر ٹرمپ کی مانیں تو ہم نے متعدد اہم فیصلے مثلاً پاکستان کے ساتھ جنگ بندی ، روس سے تیل کی خریداری روک دینے ، امریکہ اور وینزویلا سے تیل خریدنے اور امریکہ سے ۵۰۰؍ارب ڈالر کی مصنوعات خریدنے کا فیصلہ امریکہ کی ہدایت پریا دباؤ میں کئے ہیں۔ آج ۱۴۵؍ کروڑ کی آبادی والے ملک کی ایسی درگت بن گئی ہے کہ امریکہ کی اجازت کے بعد ہی روس سے ایک ماہ کے تیل کا اسٹاک خرید سکیں گے۔ اس پرہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مودی جی کی فارن پالیسی تزویراتی خود مختاری(Strategic Autononomy) کے اصول پر چلتی ہے۔ کیا واقعی؟