Updated: October 19, 2026, 6:34 PM IST
| New Delhi
عالمی درجہ بندی کے مطابق آبادی میں سالانہ اضافے کی شرح کے لحاظ سے غازی آباد دنیا میں پہلے اور سورت دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ ایشیا اور افریقہ کے شہر تیزی سے شہری پھیلاؤ کے مرکز بن رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ۲۰۵۰ء تک ڈھاکہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بن سکتا ہے، لیکن تیز رفتار شہری ترقی کے ساتھ بنیادی سہولتوں کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
دنیا کے تیزی سے ترقی کرتے شہروں کی نئی عالمی درجہ بندی میں ہندوستان کے غازی آباد اور سورت نے نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ورلڈ پاپولیشن ریویو کی ۲۰۲۶ء کی فہرست میں غازی آباد ۲ء۵؍ فیصد سالانہ شرحِ نمو کے ساتھ پہلے، جبکہ گجرات کا سورت ۹۹ء۴؍ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ افغانستان کا کابل ۷۴ء۴؍ فیصد کے ساتھ تیسرے اور نائیجیریا کا لاگوس ۴۴ء۴؍ فیصد کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق، تیز رفتار آبادی میں اضافے والے شہروں کی فہرست میں ایشیا اور افریقہ کا غلبہ ہے۔ دہلی کی سالانہ شرحِ نمو ۳؍ فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ بنگلہ دیش کا ڈھاکہ ۷۹ء۳؍ فیصد، یوگنڈا کا کمپالا ۰۳ء۴؍ فیصد اور کینیا کا نیروبی تقریباً ۴؍ فیصد کی شرح سے بڑھ رہے ہیں۔ میکسیکو کا تولوکا اس فہرست میں ایشیا اور افریقہ سے باہر شامل نمایاں شہر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ریاست کا پہلا ریلوے کولڈ اسٹوریج رتنا گیری میں قائم ہوگا
شہری ترقی کی تصویر صرف سالانہ شرحِ نمو سے واضح نہیں ہوتی۔ پانچ برس کے دوران مجموعی آبادی میں اضافے کے اعتبار سے کیرالہ کا ملاپورم اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں آبادی میں ۴۴؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ ویتنام کے کین تھو اور چین کے سوچیان میں ۳۷؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ کیرالہ کے کوژیکوڈ میں آبادی ۳۵؍ فیصد بڑھی۔ نائیجیریا کے ابوجا میں یہ اضافہ ۳۴؍ فیصد اور چین کے سوجو میں ۳۳؍ فیصد رہا۔ متحدہ عرب امارات کے شارجہ اور چین کے پوتیان میں ۳۲؍ فیصد، جبکہ عمان کے مسقط اور کیرالہ کے کولم میں ۳۱؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔ دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے شہروں کی درجہ بندی میں بھی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتہ ۹ء۴۱؍ ملین آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ بنگلہ دیش کا دارالحکومت ڈھاکہ ۶ء۳۶؍ ملین آبادی کے ساتھ دوسرے اور جاپان کا ٹوکیو ۴ء۳۳؍ ملین کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ دہلی کی آبادی ۲ء۳۰؍ ملین بتائی گئی ہے، جبکہ چین کے شنگھائی میں ۶ء۲۹؍ ملین افراد رہتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ۲۰۲۵ء کی شہری آبادی سے متعلق رپورٹ بھی اس رجحان کی تائید کرتی ہے۔ اس کے تخمینوں کے مطابق، ڈھاکہ ۲۰۵۰ء تک تقریباً ۱ء۵۲؍ ملین آبادی کے ساتھ جکارتہ کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر بن سکتا ہے۔ اسی مدت میں جکارتہ کی آبادی تقریباً ۸ء۵۱؍ ملین تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، کراچی کی آبادی بھی بڑھ کر ۲۰۵۰ء تک تقریباً ۶ء۳۲؍ ملین ہو سکتی ہے، جس سے وہ دنیا کے بڑے ترین شہری مراکز میں شامل ہو جائے گا۔ شہروں کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے روزگار کے زیادہ مواقع، بہتر اجرت، تعلیم اور دیگر خدمات تک رسائی جیسے عوامل اہم سمجھے جاتے ہیں۔ ورلڈ پاپولیشن ریویو کے مطابق، دنیا کی تقریباً ۵۵؍ فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، اور یہ تناسب ۲۰۵۰ء تک ۶۸؍ فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق ۲۰۱۸ء سے ۲۰۵۰ء کے دوران دنیا کی شہری آبادی میں اضافے کا تقریباً ۳۵؍ فیصد حصہ ہندوستان، چین اور نائیجیریا میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: مروڈ جنجیرہ قلعہ کی تاریخ بتانے والاکوئی گائیڈ نہیں، سیاح ناراض
تاہم، آبادی میں اضافہ خود بخود بہتر شہری زندگی کی ضمانت نہیں بنتا۔ تیز رفتار توسیع کے ساتھ رہائش، نکاسیٔ آب، پینے کے پانی، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ رپورٹ میں لاگوس کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ وہاں ۱۰؍ فیصد سے بھی کم افراد ایسے گھروں میں رہتے ہیں جو سیوریج نظام سے منسلک ہیں، جبکہ ۲۰؍ فیصد سے کم آبادی کو نلکے کے پانی تک رسائی حاصل ہے۔ شہر کے مضافات میں غیر رسمی اور کچی آبادیاں بھی شہری سہولتوں کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہندوستان کے شہروں کے لیے بھی یہی سوال اہم ہے کہ تیز رفتار آبادی اور معاشی سرگرمیوں کے ساتھ شہری منصوبہ بندی، رہائش اور بنیادی سہولتوں کو کس حد تک بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ غازی آباد اور سورت کی درجہ بندی شہری توسیع کی رفتار کو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس ترقی کی پائیداری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ شہر بڑھتی ہوئی آبادی کو مناسب رہائش، صاف پانی، مؤثر نکاسیٔ آب، ٹرانسپورٹ اور معیاری عوامی خدمات فراہم کرنے میں کتنے کامیاب رہتے ہیں۔