مغربی ایشیا میں جاری تنازع، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی معیشت میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے صارفین کو مہنگائی سے راحت فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
مغربی ایشیا میں جاری تنازع، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی معیشت میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے صارفین کو مہنگائی سے راحت فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مغربی ایشیا میں جاری تنازع، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور عالمی معیشت میں بڑھتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان دنیا بھر کی حکومتوں کے لیے صارفین کو مہنگائی سے راحت فراہم کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی )کی جمعہ کو جاری ہونے والی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۶ء میں عالمی توانائی سبسڈی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی و ن‘‘ مضبوط گرفت کے سبب ’’دِرِیشیم ۳‘‘کے مقابلے ہٹ ہوسکتی ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایندھن اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے حکومتیں بڑے پیمانے پر سبسڈی، قیمتوں کی حد مقرر کرنے (پرائس کیپ) اور ٹیکس میں رعایت جیسے اقدامات کا سہارا لے رہی ہیں۔ تاہم بڑھتی شرح سود، مہنگے قرضوں اور موسمی خطرات کے باعث حکومتوں کے لیے ان امدادی اقدامات کو طویل عرصے تک جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یو این ڈی پی نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے چند ہفتے اور مہینے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔** کئی ممالک ایندھن کی سبسڈی اور دیگر مالیاتی امدادی پروگراموں کے ذریعے بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں تقریباً ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے ان ممالک کے سرکاری مالیاتی نظام پر اضافی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یو این ڈی پی کے چیف اکانومسٹ جارج گری مولینا نے کہا کہ آئندہ چند ہفتے اور مہینے غیر یقینی صورتحال سے بھرے رہ سکتے ہیں، کیونکہ دنیا بیک وقت متعدد بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ فی الحال نظر نہیں آ رہا۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے اعداد و شمار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل سے ستمبر کے درمیان ان ممالک کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی جنہوں نے توانائی اور غذائی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے امدادی اقدامات اختیار کیے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کا اثر اب مزید وسیع پیمانے پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:مائیکل جارڈن کی ‘لاسٹ ڈانس’ جرسی ریکارڈ۱۲؍ اعشاریہ ۲۶؍ ملین ڈالر میں فروخت
یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی امدادی پروگراموں نے رواں سال اندازاً ۱۳؍کروڑ افراد کو یومیہ ۸۵ء۶؍ ڈالر کی خطِ غربت سے نیچے جانے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم عوام کو یہ راحت فراہم کرنے کے لیے مختلف حکومتوں کو اپنے بجٹ پر نمایاں مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔
رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی، سخت عالمی مالیاتی حالات اور موسمیاتی جھٹکوں کا مشترکہ اثر ۲۰۲۷ء کے آغاز تک اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بالخصوص ترقی پذیر ممالک کے لیے معاشی استحکام برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔یو این ڈی پی نے ایل نینو (El Niño) کے ممکنہ اثرات کو بھی اہم خطرہ قرار دیا ہے۔ ایل نینو کے باعث دنیا کے مختلف علاقوں میں سیلاب، خشک سالی اور دیگر شدید موسمی واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہونے، خوراک کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے اور غذائی عدم تحفظ میں اضافے کا خدشہ ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے معاشرتی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے باعث کم از کم ۱۰؍ ممالک میں احتجاج اور سماجی بے چینی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ ان ممالک میں شام، گوئٹے مالا، فلپائن، فرانس اور پرتگال بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مجموعی جائزے کے مطابق عالمی سطح پر توانائی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ حکومتوں کے لیے ایک پیچیدہ معاشی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومتوں کو عوام کو مہنگائی سے بچانے کے لیے سبسڈی اور دیگر امدادی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب بڑھتا مالی بوجھ، مہنگا قرض اور عالمی اقتصادی غیر یقینی صورتحال ان اقدامات کو طویل مدت تک برقرار رکھنے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہے۔