Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگی علاقوں میں طبی سہولیات پر حملے بڑھ گئے، عالمی تنظیموں کا انتباہ

Updated: May 05, 2026, 2:55 PM IST | Genoa

بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ جنگی علاقوں میں طبی سہولیات پر حملے خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے عالمی لیڈروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے شعبے کو محفوظ بنانے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کئے جائیں۔

A person is being provided with necessary medical care. Photo: INN
ایک شخص کو ضروری طبی شہولیات فراہم کی جارہی ہیں۔ تصویر: آئی این این

بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، اور ڈاکٹروں کی تنظیم’ڈاکٹرز وِداؤٹ بارڈرز‘ (MSF) نے خبردار کیا ہے کہ تنازعات کے علاقوں میں صحت کی سہولیات پر حملے گزشتہ ایک دہائی میں مزید بڑھ گئے ہیں، اور اس صورتحال پر فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد۲۲۸۶؍ کی منظوری کے۱۰؍ سال مکمل ہونے پر ان تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ قرارداد اسپتالوں، طبی عملے اور مریضوں کو نشانہ بنانے والے تشدد کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا’’آج ہم کسی کامیابی کو نہیں، بلکہ ایک ناکامی کو یاد کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ انتظامیہ کا یوٹرن: غیر ملکی ڈاکٹروں پر ویزا پابندیاں نرم

بیان میں کہا گیا کہ طبی مراکز، ایمبولینسوں اور عملے کے خلاف تشدد ’کم نہیں ہوا‘، بلکہ کئی صورتوں میں ’مزید شدت اختیار کر گیا‘ ہے، جہاں اسپتال تباہ کئے گئے، ایمبولینسوں کو روکا گیا، اور طبی کارکنوں اور مریضوں کو ہلاک یا زخمی کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا’’جب صحت کی سہولیات محفوظ نہیں رہتیں تو یہ اکثر اس بات کی واضح نشانی ہوتی ہے کہ جنگ کے نقصانات کو محدود کرنےکیلئے بنائے گئے اصول اور ضابطے ٹوٹ رہے ہیں۔ ‘‘تنظیموں نے ریاستوں اور تنازعات میں شامل فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پابندی کریں اور صحت کی خدمات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کی تحقیقات کریں، ملکی قوانین کو مضبوط بنائیں، وسائل مختص کریں، اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا’’یہ قانون کی ناکامی نہیں ہے، بلکہ سیاسی عزم کی ناکامی ہے۔ ‘‘انہوں نے عالمی لیڈروں پر زور دیا کہ وہ عملی اقدامات کریں اور کہا کہ صحت کی سہولیات کو کبھی بھی جنگ کا نشانہ نہیں بننا چاہئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK