Updated: April 20, 2026, 5:01 PM IST
| Khartoum
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں مکمل قحط کا خطرہ بڑھ گیا ہے کیونکہ تنازعات، نقل مکانی اور خوراک کی شدید قلت نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ لاکھوں افراد شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ انسانی امداد تک رسائی محدود ہوتی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان میں انسانی بحران کے تیزی سے بگڑتے ہوئے حالات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ملک مکمل پیمانے کے قحط کے قریب پہنچ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹام فلیچر نے کہا کہ ’’بھوک آبادی پر اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے‘‘، اور لاکھوں افراد پہلے ہی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ’’۷؍ ملین سے زیادہ افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے، اور تقریباً اتنی ہی تعداد شدید بھوک کا شکار ہے‘‘، جو اس بحران کی وسعت کو واضح کرتا ہے۔
فلیچر نے خبردار کیا کہ ملک کی تمام ۱۰؍ ریاستیں ہنگامی سطح کی غذائی عدم تحفظ کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال مقامی نہیں بلکہ قومی سطح پر بگڑ رہی ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت کی افواج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان جھڑپیں شدت اختیار کر چکی ہیں۔ حالیہ لڑائی نے ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا ہے، جبکہ کھیتی باڑی، خوراک کی پیداوار اور امدادی رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔فلیچر نے واضح طور پر کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔
انہوں نے تین فوری ترجیحات پیش کیں کہ ’’متاثرہ علاقوں تک تیز اور بلا روک ٹوک انسانی رسائی، امدادی کارروائیوں کے لیے لچکدار فنڈنگ میں اضافہ، اور سلامتی کونسل کے اثر و رسوخ کے ذریعے متحارب فریقوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی پر مجبور کرنا۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’ان اقدامات کے بغیر، موجودہ امدادی کوششیں بگڑتے ہوئے بحران کو روکنے کے لیے ناکافی ثابت ہوں گی۔‘‘ اقوام متحدہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ امن مشنز میں کمی اور امدادی رسائی پر پابندیوں نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں امدادی اداروں کے لیے متاثرہ آبادی تک پہنچنا مشکل ہو گیا ہے، جس سے بھوک اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لوزیانا فائرنگ: باپ نے ۸؍ بچوں کاقتل کردیا، پولیس کے اقدام میں ملزم ہلاک
پس منظر کے طور پر، جنوبی سوڈان ۲۰۱۱ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے مسلسل عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ ۲۰۱۳ء میں سلوا کیر کی وفادار افواج اور ریک مچار کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی شروع ہوئی، جس نے ملک کو شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا۔ اگرچہ ۲۰۱۸ء میں ایک امن معاہدہ طے پایا، لیکن اس کے نفاذ میں تاخیر اور جاری سیاسی کشیدگی نے صورتحال کو مکمل طور پر مستحکم ہونے نہیں دیا۔ تشدد کی تازہ لہر ۴؍ مارچ کو اس وقت شروع ہوئی جب ’’وہائٹ آرمی‘‘ نامی ایک نوجوان ملیشیا نے اپر نیل کے علاقے ناصر میں فوجی بیرکوں پر قبضہ کر لیا۔ اس کے جواب میں سرکاری فورسز نے شہری علاقوں پر فضائی حملے کیے، جن میں مبینہ طور پر انتہائی آتش گیر مواد استعمال کیا گیا۔ یہ تمام عوامل، جنگ، نقل مکانی، معاشی کمزوری اور امدادی رکاوٹیں، مل کر ایک ایسے بحران کو جنم دے رہے ہیں جو قحط میں تبدیل ہو سکتا ہے، اگر عالمی برادری فوری اور مؤثر اقدامات نہ کرے۔