اکولہ کے کانگریس رکن اسمبلی کو لارینس بشنوئی گینگ کی طرف سے قتل کی دھمکی دی گئی، اسمبلی میں ہنگامے کے بعد سیکوریٹی کی یقین دہانی ۔
EPAPER
Updated: July 04, 2026, 11:39 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai
اکولہ کے کانگریس رکن اسمبلی کو لارینس بشنوئی گینگ کی طرف سے قتل کی دھمکی دی گئی، اسمبلی میں ہنگامے کے بعد سیکوریٹی کی یقین دہانی ۔
اکولہ سے کانگریس رکن اسمبلی ساجد پٹھان کوبشنوئی گینگ کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد مہاراشٹر حکومت نے انہیں فوری طور پر وائی پلس سیکوریٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ان کی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر سیکوریٹی فراہم کر دی جائے گی، جبکہ دھمکی اور سابقہ حفاظتی یقین دہانی پر عمل نہ ہونے کے معاملے کی بھی تحقیقات کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ سے وابستہ شبھم لونکر نے ساجد پٹھان کو تاوان ادا نہ کرنے پر سابق وزیر بابا صدیقی کی طرح جان سے مارنے کی دھمکی دی ہے۔ ۔ بابا صدیقی کو اکتوبر ۲۰۲۴ء میں ممبئی میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں کانگریس کے ایم ایل سی بھائی جگتاپ نے اٹھایا تھا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئررکن وجے وڈیٹیوار نے بھی ایوان میں تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک طرف منظم جرائم کے خاتمے کا دعویٰ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایک رکن اسمبلی کو کھلے عام جان سے مارنے کی دھمکی مل رہی ہے جوریاست کی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں اب بھی لاکھوں گاڑی مالکان نے ایچ ایس آر پی نمبر پلیٹ نہیں لگائی
وزیر مملکت برائے داخلہ یوگیش کدم نے ایوان میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ساجد پٹھان کی جان کو لاحق خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ۲۴؍ گھنٹوں کے اندر وائی پلس سیکوریٹی فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کی جانب سے سیکوریٹی فراہم کرنے کی جو یقین دہانی کروائی گئی تھی، اس پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا، اسکی بھی مکمل جانچ کی جائے گی۔ اطلاع کے مطابق وائی پلس سیکوریٹی کے تحت مجموعی طور پر ۱۱؍ اہلکار تعینات کئے جاتے ہیں، جن میں دو سے چار این ایس جی یا ریاستی کمانڈو کے علاوہ دیگر پولیس اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شخصیت کی رہائش گاہ، دفتر اور آمد و رفت کے دوران اسکارٹ گاڑی اور اضافی حفاظتی انتظامات بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس معاملے پر ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا تھا۔ ساجد پٹھان کی شکایت اور وجے وڈیٹیوار نیز نانا پٹولے کے آواز اٹھانے پر وزیر نتیش رانے ان کی بات کاٹ کر بولنے لگے۔ انہیں اس بات پر اعتراض تھا کہ کانگریس اراکین ریاست میں ’’ لاء اینڈ آرڈر کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے ‘‘ والی بات کیوں کہہ رہے ہیں۔ ہنگامہ رکنے کے بعد سیکورٹی کا اعلان کیا گیا۔ اس سلسلے میں انقلاب سے بات کرتے ہوئے ساجد پٹھان نے بتایاکہ’’ فروری سے مجھے لارینس بشنو گینگ کے رکن شبھم لونکر کی جانب سے دھمکی بھرے فون آرہے ہیں۔ درمیان میں یہ فون کال آنے بند ہو گئے تھے لیکن ایک رات قبل میرے قریبی کارپوریٹر آکاش کاؤڑے کوفون آیا جس میں اسے کہا گیا ہے کہ ساجد پٹھان کو پیغام دے دو کہ وہ ہم کو ہلکے میں نہ لیں، اس کو جان سے مار دیں گے ہمارے ڈیمانڈ پوری نہیں کیا۔ اس نے واپس فون لگانے کا کہہ کر کال منقطع کر دیا۔ جب اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تو اس نے دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے دوبارہ فون کیا اور کہا اس کوبول دینا کہ اسے مارے بغیر نہیں رہیں گے۔ تو نہیں ملے گا تو تیرے بیٹے کو ماریں گے۔ ‘‘ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ ’’مَیں مرنے سے نہیں ڈرتا کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن جب ایک رکن اسمبلی ریاست میں محفوظ نہیں تو پھرعام شہریوں اور صنعتکار اور فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والوں کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟‘‘