Inquilab Logo Happiest Places to Work

یورپی اداروں کے اسرائیل سے اربوں یورو کے معاہدوں کا انکشاف

Updated: July 04, 2026, 12:28 PM IST | Tel Aviv

الجزیرہ کی جانب سے متعدد ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے مرتب کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی کمپنیوں سے معاہدوں میں اضافہ ہوا۔

Important agreements have been reached between Israel and the European Union. Photo: INN
اسرائیل اور یورپی یونین کے درمیان اہم معاہدے ہوئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

 ایک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ، ظلم و ستم، نسل کشی اور عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف مقدمات کے باوجود یورپی یونین کے رکن ممالک کے سرکاری اداروں نے جنوری۲۰۲۲ء سے جولائی۲۰۲۵ء تک اسرائیلی کمپنیوں سے۱۹۴؍ معاہدے کئے جن کی مجموعی مالیت تقریباً۲ء۷؍ ارب یورو بنتی ہے۔ 
الجزیرہ کی جانب سے متعدد ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے مرتب کی گئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی کمپنیوں سے معاہدوں میں اضافہ ہوا۔ اکتوبر۲۰۲۳ء سے جولائی۲۰۲۵ء کے دوران ۱۱۲؍معاہدے کئے گئے جن کی مالیت تقریباً۶ء۱؍ ارب یورو تھی۔ 
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسپین، جرمنی، ہنگری، سویڈن، اٹلی اور بلجیم سمیت کئی ممالک کے دفاعی اداروں، پولیس، جامعات اور سرکاری اداروں نے اسرائیلی کمپنیوں سے اسلحہ، فوجی ساز و سامان، سائبر سیکوریٹی، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، طبی آلات اور دیگر مصنوعات کی خریدوفروخت کی۔

یہ بھی پڑھئے: کیف پر روس کا میزائل اورڈونز سے حملہ، ۲۰؍افراد ہلاک، ۳۴؍زخمی

الجزیرہ کے مطابق قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی رائے کے بعد یورپی ممالک پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے یا اس سے جڑے اقدامات میں کسی بھی قسم کی معاونت نہ کریں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان معاہدوں کو بین الاقوامی قانون کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ 
دوسری جانب جرمنی کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی کمپنیاں یورپی قوانین کے تحت سرکاری ٹینڈرز میں حصہ لینے کی اہل ہیں جبکہ اسلحہ کی برآمد یا دفاعی تعاون کے فیصلے ہر معاملے کی الگ قانونی جانچ کے بعد کئے جاتے ہیں۔ 
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کے ساتھ یورپی یونین کے تجارتی معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن جرمنی، اٹلی اوردیگر ممالک اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK