وزیرِاعظم نریندر مودی کے پرنسپل سیکریٹری اور انڈین ریزرو بینک کے سابق گورنر شکتی کانت داس نے پیر کے روز کہا کہ سبز توانائی اور گرین ہائیڈروجن مرکزی حکومت کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل رہیں گے۔
EPAPER
Updated: May 11, 2026, 8:12 PM IST | New Delhi
وزیرِاعظم نریندر مودی کے پرنسپل سیکریٹری اور انڈین ریزرو بینک کے سابق گورنر شکتی کانت داس نے پیر کے روز کہا کہ سبز توانائی اور گرین ہائیڈروجن مرکزی حکومت کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل رہیں گے۔
وزیرِاعظم نریندر مودی کے پرنسپل سیکریٹری اور انڈین ریزرو بینک کے سابق گورنر شکتی کانت داس نے پیر کے روز کہا کہ سبز توانائی اور گرین ہائیڈروجن مرکزی حکومت کی سب سے بڑی ترجیحات میں شامل رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بڑھتی ہوئی عالمی کشیدگی کے دوران اپنی توانائی کی سلامتی اور معاشی مضبوطی کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ دے رہا ہے۔
ممبئی میں منعقدہ ’سی آئی آئی سالانہ بزنس سمٹ ۲۰۲۶ء ‘ سے خطاب کرتے ہوئے داس نے کہا کہ ہندوستان کی مضبوطی کی بنیاد مضبوط معاشی استحکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود حکومت کی مالی حالت اور بینکاری نظام مستحکم ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تھائی لینڈ اوپن: پی وی سندھو سے بھی بڑی امیدیں وابستہ
انہوں نے کہاکہ ’’کارپوریٹ کمپنیوں کی بیلنس شیٹس اب پہلے کے مقابلے میں کافی مضبوط ہیں، جس سے نئی سرمایہ کاری کو سہارا ملے گا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے زور دیا کہ حکومت اصلاحات کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جا رہی۔ تاہم داس نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سپلائی چین میں آنے والی رکاوٹیں دنیا کی معیشتوں پر بھاری لاگت کا بوجھ ڈالتی رہیں گی۔
یہ بھی پڑھئے:وجے کی ’’جنا نا ئیگن‘‘ جلد ہی ریلیز ہوگی: پروڈیوسر کی تصدیق
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک دن پہلے وزیرِاعظم نریندر مودی نے ملک کے شہریوں سے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات اپنانے کی اپیل کی تھی۔وزیرِاعظم مودی نے لوگوں سے کہا تھا کہ جہاں ممکن ہو گھر سے کام کریں، غیر ضروری سونے کی خریداری سے گریز کریں اور ایک سال تک بیرونِ ملک سفر سے پرہیز کریں۔انہوں نے شہریوں سے یہ بھی اپیل کی تھی کہ کھانے کے تیل، غیر ملکی مصنوعات اور کیمیائی کھاد کے استعمال کو کم کیا جائے۔ ان اقدامات کو ہندوستان کے زرمبادلہ ذخائر کو محفوظ رکھنے اور ایندھن کی درآمدات پر دباؤ کم کرنے کی بڑی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی توانائی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ جاری ہے۔