سی اے اےکیخلاف احتجاج کے بعد دہلی فساد کی ’وسیع تر سازش‘ کے ملزم بنا دیئےگئے تھے ، ۱۲؍ شرطوں کے ساتھ ۵؍ سال بعد رہائی
EPAPER
Updated: January 06, 2026, 1:34 PM IST | New Delhi
سی اے اےکیخلاف احتجاج کے بعد دہلی فساد کی ’وسیع تر سازش‘ کے ملزم بنا دیئےگئے تھے ، ۱۲؍ شرطوں کے ساتھ ۵؍ سال بعد رہائی
دہلی فساد کے ’’وسیع تر سازش‘‘ کیس میں ضمانت کی عرضی پر پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ کی ۲؍رکنی بنچ نےجہاں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دینے سے انکار کردیا(تفصیلی خبر بائیں جانب پڑھیں،) وہیں ان کے ۵؍ ساتھیوں گلفشاںفاطمہ، میراں حیدر، شفاء الرحمٰن، سلیم خان اور شاداب احمد کو ۱۲؍ شرطوں کے ساتھ ضمانت پر رہا کرنے کی ہدایت جاری کی۔
یاد رہے کہ یہ تمام افراد وہ ہیں جنہوں نے شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف احتجاج کی قیادت کی تھی ۔ اس احتجاج کے دوران بھگوا عناصر کی جانب سے کئی بار شرانگیزی کی گئی اور بی جےپی کے لیڈر کپل مشرا نے ڈی سی پی کے سامنے علی الاعلان قانون کو ہاتھ میں لینے کی دھمکی بھی دی ، جس کے بعد دہلی میں فساد پھوٹ پڑا تھا۔ دہلی پولیس نے اس فسادکا الزام شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر عائد کیا اور احتجاج کی قیادت کرنے والے نوجوان لیڈروں کو ’’وسیع تر سازش ‘‘کیس میں یو اے پی اے کے تحت ماخوذ کردیا۔ یہ نوجوان زائد از ۵؍ سال سے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ ہائی کورٹ سے ضمانت کی عرضی خارج ہونے کے بعد عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاںفاطمہ، میراں حیدر، شفاء الرحمٰن، سلیم خان اور شاداب احمد سپریم کورٹ سے رجوع ہوئے۔ ان کی عرضی پر جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریہ کی بنچ نے شنوائی کی اور استغاثہ اور وکلائے دفاع کے دلائل سننے کے بعد ۱۰؍ دسمبر کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیاتھا۔ پیر کو فیصلہ سناتے ہوئے بنچ نے بتایا کہ اس نے تمام ملزمین کے معاملات کو ایک ساتھ اجتماعی طور پر دیکھنے کے بجائے کسی نتیجے پر پہنچے کیلئے فرداً فرداً ہر ملزم کے کیس کا جائزہ لیا ہے۔ کورٹ نے گلفشاں اور دیگر ۴؍ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم سناتے ہوئے کہا کہ تمام ملزمین کا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے کیوں کہ استغاثہ نے ان کے الگ الگ رول بتائے ہیں ۔ اگر تمام ملزمین کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا تو مقدمہ کی سماعت سے قبل حراست میں رکھنے کا معاملہ بڑھ جائےگا۔
ضمانت کی ۱۲؍ شرطوں میں سے چند یہ ہیں:
۱) عدالت اور پولیس اسٹیشن میں پیشی:تمام ملزمین کو سماعت کے وقت عدالت کے روبرو باقاعدگی سے حاضر ہونا ہوگا جبکہ ہفتے میں دو بار (پیر سے جمعہ کے دوران کسی بھی دو دن ) صبح ۱۰؍ سے ۱۲؍ بجے کے درمیان پولیس اسٹیشن میں حاضر ہونا ہوگا۔
۲)پاسپورٹ جمع کروانا:ملزمین کو اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کروانا ہوگا تاکہ وہ ملک کے باہر نہ جاسکیں۔
۳) دہلی میں رہائش : تمام ملزمین کو دہلی اور قومی راجدھانی خطہ میں ہی قیام کرنا ہوگا ۔عدالت کی اجازت کے بغیر وہ شہرسے باہر نہیں جاسکتے۔
۴) دوسرے ملزمین سے رابطہ نہ کرنا: کورٹ نےپابندی عائد کی ہے کہ ملزم کیس کے دیگر ملزمین یا گواہوں سے رابطہ نہیں کریںگے۔
۵)۲؍ لاکھ کا بونڈ:ہر ملزم کو ضمانت پر رہائی کیلئے ۲؍ لاکھ کا بونڈ اور اتنی مالیت کی ۲؍ افراد کی ضمانت دینی ہوگی۔