• Thu, 26 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رمضان المبارک، سردی اور سیلاب: غزہ میں ہزاروں خیمے تباہ، لاکھوں فلسطینی بے گھر، انسانی بحران سنگین

Updated: February 25, 2026, 10:16 PM IST | Gaza

عینی شاہدین نے غزہ شہر کے مغربی علاقوں اور بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کی اطلاع دی، جہاں رہائشی اپنے سامان کو پانی سے بچانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ ان دگرگوں حالات میں لوگ سیلاب زدہ سڑکوں سے گزرنے کے لئے ریڑھیاں استعمال کر رہے تھے۔

Heavy winter rains have further worsened the humanitarian crisis in Gaza. Photo: X
شدید سرمائی بارشوں کی وجہ سے غزہ کا انسانی بحران مزید سنگین ہوگیا ہے۔ تصویر: ایکس

غزہ میں مسلسل تیز بارش اور سیلابی کیفیت کی وجہ سے بے گھر فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہیں خیموں کی بستیاں بھی تباہ ہوتی جارہی ہیں۔ پہلے سے ہی انسانی امداد اور ضروری اشیاء کی قلت کا سامنا کرنے والے لاکھوں فلسطینیوں کے حالات مزید ابتر ہوگئے ہیں اور موسمی آفت کے باعث ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

گزشتہ ہفتے رمضان المبارک کے آغاز کے بعد سے ہی غزہ میں سرمائی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ اس کی وجہ سے درجہ حرارت میں شدید کمی آئی ہے۔ شدید بارشوں نے خیموں کو غرقاب کر دیا اور سیلابی کیفیت کو جنم دیا ہے جس سے نمٹنے کیلئے ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل پر رمضان میں قیدیوں کو روزہ رکھنے سے روکنے کا الزام: فلسطینی کمیشن

غزہ کے شہری دفاع (سول ڈیفنس) نے بتایا کہ سیلابی پانی عارضی خیموں کی بستیوں، خاص طور پر خان یونس کے مغرب میں واقع المواصی علاقے میں داخل ہوگیا تھا، ان علاقوں سے رات بھر عملے کو متعدد ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔ امدادی ٹیموں نے متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جن کی پناہ گاہیں بارش کے پانی کے بوجھ سے تباہ ہو گئی تھیں۔

عینی شاہدین نے غزہ شہر کے مغربی علاقوں اور بندرگاہ کے قریبی علاقوں میں بھی اسی طرح کی سیلابی صورتحال کی اطلاع دی، جہاں رہائشی اپنے سامان کو پانی سے بچانے کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے ویڈیوز میں خیموں کو جزوی طور پر پانی میں ڈوبا ہوا دیکھا گیا۔ ان دگرگوں حالات میں لوگ سیلاب زدہ سڑکوں سے گزرنے کے لئے ریڑھیاں استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے دوران ۳۱۲؍ امام اور مبلغ کا قتل، ۱۰۵۰؍ مساجد مکمل طور پر تباہ

سرمائی بارشوں سے حالات زندگی ابتر

اس سیلابی کیفیت نے گزشتہ کئی ماہ سے جاری خراب موسم سے ہونے والے نقصانات میں مذید اضافہ کیا ہے۔ دسمبر سے اب تک، بار بار آنے والے سرمائی طوفانوں کی وجہ سے دسیوں ہزار خیمے اڑا گئے یا تباہ ہوگئے ہیں اور پہلے سے تباہ شدہ عمارتیں بھی گر گئیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ غزہ بھر میں خیموں کی بڑی اکثریت اب رہنے کے قابل نہیں رہی اور سردی و نمی سے بہت کم تحفظ فراہم کرتی ہے۔

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پورے علاقے میں کمبل، ایندھن اور موصلی اشیاء کی قلت ۷۰ فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، اس کی وجہ سے بے گھر خاندان شدید سردی کی زد میں ہیں۔ غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے سانس کی بیماریوں اور ہائپوتھرمیا (جسمانی درجہ حرارت میں شدید کمی) کے بڑھتے ہوئے معاملات رپورٹ کئے ہیں۔ سامنے آنے والے معاملات میں بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں طوفان سے متعلق درجنوں اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کی کھوپڑیوں اور خواتین کی لاشوں پر مشتمل باکس بھیجے

غزہ کا انسانی بحران سنگین ہوتا جارہا ہے

غزہ کا انسانی بحران پناہ گاہوں کے سامان اور امدادی سامان کی آمد پر جاری پابندیوں کی وجہ سے مزید سنگین ہوگیا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود، محصور علاقے کی تعمیرِ نو کی کوششیں سست روی کا شکار ہیں اور اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے امداد کی ترسیل طے شدہ سطح سے نہایت کم ہے۔ اقوامِ متحدہ نے پناہ گاہ، نکاسی آب، حفظان صحت اور غذائی تحفظ کو فوری ترین ضروریات قرار دیا ہے۔

غزہ کے ۲۴ لاکھ باشندوں میں سے تقریباً ۱۹ لاکھ افراد اب بھی بے گھر ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں جہاں انہیں گندے پانی کی آلودگی اور پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے اضافی خطرات کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے لئے سرگرم تنظیموں نے بگڑتے حالات اور موسم کے اثرات سے محفوظ پناہ گاہوں، موبائل ہومز اور ہنگامی امداد کی فوری ترسیل کے مطالبات کو دہرایا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK