• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش نے اپوزیشن کو متحد کردیا، ۳۰؍ ستمبر کو انڈیا اتحاد کی میٹنگ

Updated: September 27, 2026, 10:54 AM IST | New Delhi

بی آر ایس، ’آپ‘، ڈی ایم کے، ٹی وی کے اور بی جےڈی کو بھی ساتھ لینے کی کوشش، ممتا بنرجی سرگرم، کٹرسیاسی حریف بائیں  بازو سے رابطہ کیا، راہل گاندھی سے بھی گفتگو۔

Congress workers protesting against Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar in Bengaluru. Photo: INN
بنگلور میں کانگریس کارکن چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی مبینہ من مانیوں سے متعلق انڈین ایکسپریس کے سنسنی خیز انکشافات نے اپوزیشن پارٹیوں  کو نہ صرف متحد کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ۳۰؍ ستمبر کو دہلی میں ’انڈیا اتحاد‘ کی میٹنگ متوقع ہے جس میں الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے حوالے سے خدشات سمیت دیگر مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ایس آئی آر کے مختلف پہلوؤں پر الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کی اطلاعات کے بعد اپوزیشن کے درمیان رابطہ اور تال میل میں اضافہ ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق جماعتیں ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں اور مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کر رہی ہیں۔ 
ممتا بنرجی کا ایم اے بے بی سے رابطہ
مغربی بنگال میں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے کٹر سیاسی حریف رہے ممتا بنرجی کی قیادت والی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور سی پی آئی (ایم) نے بھی ایک دوسرے سے رابطے کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ دونوں پارٹیاں   ’انڈیا اتحاد‘ کی تاسیسی رکن ہیں لیکن اب تک ان دونوں  نے آپس میں   نے ایک دوسرے سے کسی رسمی رابطے یا بات چیت سے گریز کیا تھا۔ تاہم ذرائع کے مطابق ممتا بنرجی اور سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی نے جمعہ کو فون پر بات کی اور الیکشن کمیشن، انتخابی عمل اور جمہوریت کی ساکھ کے تحفظ کیلئے اپوزیشن پارٹیوں  کو متحد کرنے اور مشترکہ تحریک کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔ بنرجی اور ایم اے بی بی کے درمیان فون پر یہ گفتگو سی پی آئی (ایم) کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے اپوزیشن پارٹیوں  کو خط لکھنے کے ۲؍ بعد ہوئی۔ بے بی نے تمام جماعتوں سے الیکشن کمیشن سے متعلق انکشافات پر تبادلہ خیال کیلئے ایک ساتھ آنے کی اپیل کی تھی۔ بنرجی نے سی پی ایم کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی کو جواب دیتے ہوئے اتفاق کیا کہ ’’واقعی ایک غیر معمولی صورت حال‘‘ پیدا ہوگئی ہے۔ 
دیگر غیر بی جےپی پارٹیوں  سے بھی رابطہ
ذرائع کے مطابق سی پی ایم لیڈر بے بی نے اپوزیشن کی تحریک کیلئے انڈیا بلاک کی پارٹیوں  کے علاوہ اُن پارٹیوں  سے بھی رابطہ کیا ہے جو اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں  ہے تاہم بی جے پی کے اتحاد سے بھی الگ ہیں۔ اس تعلق سے بی آر ایس، عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے، تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ٹی وی کے، بی جے ڈی اور کاکروچ جنتا پارٹی کو بھی مکتوب روانہ کیاگیا ہے۔ 
اپوزیشن پارٹیوں  میں رابطہ بڑھ گیا
ذرائع کے مطابق انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ میں   میں الیکشن کمیشن کے اندر اختلافات کا انکشاف ہونے کے بعد سے انڈیا بلاک کے لیڈروں کے درمیان رابطہ بڑھ گیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں  نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدہ سے ہٹانے، انہیں  گرفتار کرنے، سپریم کورٹ کی نگرانی میں الیکشن کمیشن کے کام کاج کی غیر جانب دارانہ تحقیقات اور ایس آئی آر کی کارروائی روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 
راہل گاندھی اورابھیشیک بنرجی کا رابطہ
ممتا بنرجی نے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سے بھی گفتگو کی اور ان سے انڈیا بلاک کا اجلاس فوری طور پر منعقدکرنے کی اپیل کی۔ اطلاعات کے مطابق اس سے قبل پارٹی کے جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے بھی اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی سےرابطہ اور اپوزیشن اتحاد کی ہنگامی میٹنگ کی ضرورت پر تبادلہ خیال کرچکے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ ۳۰؍ ستمبر تک اپوزیشن اس ضمن میں  میٹنگ منعقد کرسکتاہے۔ 
اختلافات کو بالائے طاق رکھنے کا اعلان
الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن کی مشترکہ تحریک کیلئے ممتا بنرجی نے بائیں  محاذ سے اپنے اختلاف کو بالائے طاق رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بنگال کی سابق وزیراعلیٰ نے ’انڈیا اتحاد‘ کے متحد رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’پورا ملک متحد ہے، ہم بھی مل کر لڑیں گے، یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں  ہے کہ کون سرخ ہے، کون نیلا یا پیلا۔ ‘‘ سرخ سے مراد بایاں  محاذ ہے۔ انہوں   نے کہا کہ’’ہم پارٹی نہیں  کاز کو دیکھیں گے۔ اہم یہ ہے کہ سب متحد ہوکر عوام کے مفادات کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ‘‘
ایک اورتحریک مواخذہ کی تیاری
اپوزیشن پارٹیوں  نے چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے گیانیش کمار کو ہٹانے کیلئے ان کے خلاف پارلیمنٹ میں  ایک اور تحریک مواخذہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں نوٹس تیار کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے جسے قانونی ماہرین کی جانچ کے بعد ممکنہ طورپر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کیا جائےگا۔ اپوزیشن کی جانب سے گیانیش کمار کے مواخذہ کی یہ تیسری کوشش ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق مواخذہ کا نوٹس اگلے ہفتے کے اوائل میں بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK