Updated: October 21, 2026, 4:04 PM IST
| New Delhi
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے کئی صارفین کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر افشا ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔سرکاری شعبے کے ملک کے سب سے بڑے قرض فراہم کرنے والے بینک نے بدھ کے روز حصص بازار کو بتایا کہ اس کے تقریباً ۳؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار صارفین کا ڈیٹا دستیاب تھا۔
سائبرفریب دہی۔ تصویر:آئی این این
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے کئی صارفین کا ذاتی ڈیٹا ڈارک ویب پر افشا ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔سرکاری شعبے کے ملک کے سب سے بڑے قرض فراہم کرنے والے بینک نے بدھ کے روز حصص بازار کو بتایا کہ اس کے تقریباً ۳؍ لاکھ ۷۵؍ ہزار صارفین کا ڈیٹا دستیاب تھا، جن میں سے ۳۸۰۰؍ سے زیادہ کھاتوں کا ذاتی ڈیٹا افشا ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
بینک کی جانب سے جاری تازہ اطلاع کے مطابق ۱۶؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو اسے اپنے خطرات کی معلومات فراہم کرنے والے ادارے، دفاعی سائبر ایجنسی اور سی ای آر ٹی اِن سے ایک انتباہ موصول ہوا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ بینک کے صارفین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر افشا ہونے کا خدشہ ہے۔تازہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ ڈارک ویب پر موجود تقریباً۳۷۵۰۰۰؍ ریکارڈوں کے ابتدائی تجزیے کے دوران صارفین کے۳۸۹۷؍ ایسے ریکارڈ ملے جن میں ان کی ذاتی شناخت قائم کرنے والی معلومات شامل تھیں۔ افشا ہونے والی معلومات میں صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبر، تاریخ پیدائش، نام، جنس، ای میل پتے، رہائشی پتے، شاخوں اور سی آئی ایف شناختی نمبر، لیڈ آئی ڈی، قرض اور لیڈ ریکارڈ سے متعلق اضافی معلومات اور دیگر متعلقہ فائلیں شامل تھیں۔
بینک نے بتایا کہ افشا ہونے والے ڈیٹا کی درستگی اور مکمل ہونے کی جانچ کرنے، اس کے ماخذ اور دائرے کا پتا لگانے اور صارفین و بینک کو لاحق خطرات کا اندازہ لگانے کے لیے اس نے فوری طور پر سائبر واقعات سے نمٹنے اور ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے اقدامات شروع کر دیے۔ اس کے علاوہ، سی ای آر ٹی اِن سے منظور شدہ ایک آزاد سائبر تحفظ ایجنسی کی خدمات حاصل کی گئیں، تاکہ اس واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے اور یہ معلوم کیا جا سکے کہ ڈیٹا کس حد تک اور کس طرح افشا ہوا۔ بینک نے کہا ہے کہ اس واقعے سے اس کے روزمرہ کے کام کاج پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ بینک اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، تاکہ مستقبل میں ضروری اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں۔
ہندوستان کے سب سے بڑے سرکاری بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) سے متعلق صارفین کی خفیہ معلومات حاصل کرنے کا ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے دعویٰ کیا ہے۔ ’سیریسِم‘ (Seriousim) نام سے سرگرم اس گروپ کے مطابق، اس کے پاس صارفین کی ذاتی معلومات، رہائشی پتے، قرض کی درخواستوں اور بینک میں کھاتے کھولنے سے متعلق دستاویزات موجود ہیں۔ سائبر سیکوریٹی پر نظر رکھنے والے اکاؤنٹ ’سائبرپلس ۵۶‘ نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اس دعوے کی اطلاع دی ہے۔ تاہم، اب تک اس مبینہ ڈیٹا لیک کی صداقت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے اور نہ ہی یہ ثابت ہوا ہے کہ ایس بی آئی کے نظام میں واقعی سائبر حملہ کیا گیا تھا۔
سائبرپلس ۵۶؍ کی پوسٹ کے مطابق، ہیکر گروپ کے پاس مبینہ طور پر سی ایس وی فارمیٹ میں۷۵ء۳؍ لاکھ ڈیٹا ریکارڈز او۲۷۲۲؍ پی ڈی ایف دستاویزات موجود ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ریکارڈز میں صارفین کی ذاتی تفصیلات، رہائشی پتے، قرض کے لیے جمع کرائی گئی درخواستیں، ان کے ساتھ منسلک دستاویزات اور درخواستوں سے متعلق دیگر معلومات شامل ہیں۔ سائبرپلس ۵۶؍ نے ۱۶؍ اکتوبر کو اس معاملے کی پہلی اطلاع دیتے ہوئے کہا تھا کہ سیریسِم نے ان دستاویزات کو اپنے ڈیٹا کے پہلے انکشاف کے طور پر پیش کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ارتھ شاٹ پرائز کی تقریب میں پرنس ولیم کی کرن جوہر سے ملاقات
ڈیٹا ریکارڈز کی تعداد سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ کتنے صارفین کی معلومات متاثر ہوئی ہیں، کیونکہ ایک ہی شخص سے متعلق متعدد ریکارڈ بھی موجود ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح، یہ بھی واضح نہیں ہے کہ مبینہ طور پر حاصل کی گئی معلومات براہ راست ایس بی آئی کے نظام سے لی گئی ہیں یا کسی دوسرے ذریعے سے جمع کی گئی ہیں۔ اس لیے فی الحال اس معاملے کو تصدیق شدہ سائبر حملے کے بجائے ہیکر گروپ کے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جارہا ہے۔
اخبار ’دی اکنامک ٹائمز‘ کی ۲۰؍ اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، خبر شائع کیے جانے تک ایس بی آئی نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی ای میل کا جواب نہیں دیا تھا۔ بینک کی جانب سے وضاحت سامنے نہ آنے اور مبینہ ڈیٹا کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کے باعث اس معاملے میں کئی اہم سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ فی الحال اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ بینک کے سرورز یا داخلی نظام تک غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی تھی۔
سائبر سیکوریٹی ماہرین کی جانب سے اس نوعیت کے واقعات میں ایک اہم تشویش ذاتی معلومات کے ممکنہ غلط استعمال کی ہوتی ہے۔ سائبرپلس ۵۶؍ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ڈیٹا حقیقی ثابت ہوتا ہے تو اس کا استعمال شناخت کی چوری، مالی دھوکہ دہی، جعلی قرض کی درخواستیں جمع کرانے اور صارفین کو نشانہ بنا کر فریب دہی کے پیغامات بھیجنے کے لیے کیا جاسکتا ہے۔ ایسے حملوں میں مجرم بینک کے صارفین کی ذاتی تفصیلات استعمال کرکے خود کو بینک کا نمائندہ ظاہر کرسکتے ہیں اور انہیں حساس معلومات یا مالی تفصیلات فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شیفالی ورما کو آئی سی سی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر سرزنش
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ہندوستان کے مالیاتی شعبے میں سائبر سیکوریٹی اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ڈجیٹل بینکنگ، آن لائن لین دین اور مالی خدمات کے بڑھتے استعمال کے ساتھ بینکوں کے لیے صارفین کی معلومات کو محفوظ رکھنا مزید اہم ہوگیا ہے۔ اسی تناظر میں، ہندوستانی ریزرو بینک (آر بی آئی) نے بھی رواں سال کے آغاز میں بینکاری نظام کو ڈجیٹل خطرات سے محفوظ بنانے کی وسیع تر کوششوں کے تحت تجارتی بینکوں کے لیے سائبر سیکوریٹی سے متعلق تقاضوں کو مزید سخت کیا تھا۔
صارفین کے لیے احتیاط: جب تک اس مبینہ ڈیٹا لیک کی تصدیق نہیں ہوجاتی، ایس بی آئی کے صارفین کو کسی بھی مشتبہ فون کال، پیغام یا ای میل سے محتاط رہنا چاہیے۔ بینک کے نام پر آنے والے پیغامات میں موجود مشکوک روابط نہ کھولیں، اپنا پاس ورڈ، او ٹی پی، اے ٹی ایم پن یا دیگر خفیہ معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع بینک کے سرکاری ذرائع کے ذریعے دیں۔ مجموعی طور پر، ایس بی آئی سے متعلق صارفین کی معلومات حاصل کرنے کے ہیکر گروپ کے دعوے نے ہندوستان میں بینکاری ڈیٹا کی حفاظت اور سائبر جرائم کے خطرات پر ایک بار پھر توجہ مرکوز کردی ہے۔ تاہم، جب تک متعلقہ دستاویزات کی صداقت اور ڈیٹا کے اصل ماخذ کی تصدیق نہیں ہوجاتی، اسے ایس بی آئی کے نظام میں ثابت شدہ ہیکنگ یا صارفین کے ڈیٹا کی تصدیق شدہ چوری قرار دینا درست نہیں ہوگا۔