ناگپاڑہ کے صابو صدیق کالج کی ۱۰؍روزہ تراویح میں اپنی ٹیم کے ہمراہ پابندی سے شرکت کی۔ یہ سلسلہ ۳۰؍ سال پر محیط ہے۔ حافظ محمد طیب کےبقول سامع کی ذمہ داری بہت نازک اوراہم ہوتی ہے ۔
حافظ مولانا محمد طیب تراویح کیلئے ہر سال ہری دوار سے ممبئی آتے ہیں۔ تصویر:آئی این این
حافظ و عالم مولانا محمد طیب (۶۲)، گزشتہ ۴۰؍سال سے تراویح پڑھانے کےعلاوہ سامع کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں ۔ اُتراکھنڈ کے ضلع ہری دوار ، ایکڑخورد گائوں سے آپ کا تعلق ہے ۔حفظ کی تکمیل کے بعد تقریباً ۱۰؍ سال، اپنے گائوں کے علاوہ اطراف کے علاقوں میں ،کسی سال تراویح پڑھانے اورکسی سال سامع کی حیثیت سے ذمہ داری نبھائی ہے ۔ ۱۹۹۷ء سے بحیثیت سامع ناگپاڑہ کے صابو صدیق کالج میں ہونے والی ۱۰؍روزہ تراویح میں اپنی ٹیم کے ہمراہ پابندی سے حاضر ہو رہے ہیں ۔ان کے ساتھ آنے والے ۳۔۲؍ حفاظ تراویح پڑھاتے ہیں جبکہ وہ سامع کے طور پر ان کی نگرانی کرتے ہیں ۔
مولانا محمدطیب نے ہری دوار کے مرغوب پور مصطفیٰ آباد کے مدرسہ جامعہ حسینیہ کے استاد حافظ محمد فرقان اور حافظ محمد شریف احمد کی سرپرستی میں تعلیم وتربیت حاصل کی۔ اسی مدرسہ سے قرآن کریم کی پڑھائی کے ساتھ تکمیل حفظ کا شرف حاصل کیا۔ حفظ کے بعد عالم کی پڑھائی کیلئے سہارنپور کے مدرسہ مظاہرالعلوم میں داخلہ لیا ۔ یہاں حضرت شیخ مولانا محمد یونس جونپوری، حضرت شیخ محمد عاقل سہارنپوری اور حضرت مفتی مظفر حسن صاحب کی سرپرستی میں تحصیل علم میں مصروف رہے۔ ۱۹۸۵ء میں تعلیم مکمل کر کے ایکڑخورد کے دارالعلوم اسعدیہ سے عملی زندگی کا آغاز کیا ۔
ابتدائی دور میں رمضان المبارک میں ایکڑخورد کی مساجد اور مدارس میں کبھی تراویح پڑھائی تو کسی سال سامع کے طور پر خدمات پیش کیں ۔ ۱۹۹۷ء میںممبئی میں پہلی مرتبہ صابو صدیق کالج میں ۱۰؍روزہ تراویح پڑھانے کا موقع ملا ۔ گزشتہ ۳۰؍سال سے رمضان المبارک میں پابندی سے صابو صدیق کالج میں ہونے والی تراویح میں حصہ لے رہے ہیں ۔ اس دوران انہوں نے ۲؍ سال تراویح پڑھائی اور ۲۸؍سال سامع کے طور پر شریک رہے ۔ وہ ہر سال ہری دوار سے ۲۔۳؍ حفاظ کے ساتھ ممبئی آتے ہیں ،جن کی ذمہ داری تراویح سنانے کی ہوتی ہے۔
صابو صدیق کالج کے سامنے واقع پولیس کمپائونڈ کی موتی مسجد میں مولانا محمدطیب کی رہنمائی میں ان کی ٹیم ۱۰؍ روزہ تراویح کیلئے ۲۔۳؍ گھنٹے دور کرتی ہے۔ امسال ان کے ساتھ ۳؍ حفاظ آئے تھے، جن میں ان کے ۲؍بھانجے قاری محمد اعظم اور قاری محمد رمضان کے علاوہ مولانا عبدالخالق شامل ہیں ۔ ان کے ۲؍ مزید بھانجے حافظ ہیں ،جن میں سے ایک نے آندھرا پردیش اور دوسرے نے ایکڑ خورد میں تراویح سنائی۔
حافظ محمد طیب کے مطابق ’’ سامع کی ذمہ داری بہت اہم ہوتی ہے ۔ اسے دورانِ تراویح بہت مستعد اور الرٹ رہنا ہوتا ہے ۔اس کی پوری توجہ تراویح سنانے والے پر مرکوز ہوتی ہے ۔سامع کی ذمہ داری ہے کہ قاری کہیں رُکے تو اسے سنبھلنے کا موقع دے ، اس کے بعد بھی ضرورت پیش آئی تو قاری کی رہنمائی کرے ۔یہ بڑی نازک اوراہم ذمہ داری ہےلیکن گزشتہ ۳۵۔۳۰؍ سال کاتجربہ بہت کام آ رہا ہے ۔‘‘