Updated: October 21, 2026, 9:02 PM IST
| Hnoi
ہنوئی میں خزاں کی پہچان سمجھے جانے والے تقریباً ۱۴۴۰۰؍ ’ہوا سوا‘ درختوں کی تیز خوشبو پر شہریوں کی شکایات کے بعد حکام نے بڑے پیمانے پر شاخوں سے پھول ہٹانے کا اقدام شروع کردیا ہے، جب کہ بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے پر بھی غور ہورہا ہے۔ ایک طبقہ خوشبو سے ہونے والی تکلیف اور الرجی کی شکایت کررہا ہے، تو دوسرا اسے شہر کی تہذیبی شناخت، شاعری اور ذاتی یادوں کا حصہ قرار دے کر تحفظ کا مطالبہ کررہا ہے۔
ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ایک عجیب مگر سنجیدہ شہری تنازع نے جنم لے لیا ہے۔ شہر کی سڑکوں اور شاہراہوں کو خزاں کے موسم میں اپنی مخصوص مہک سے بھر دینے والے ’ہوا سوا‘ درخت اب اسی خوشبو کی وجہ سے حکام کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جن پھولوں کو کئی دہائیوں سے شہر کی شناخت، شاعری، گیتوں اور محبت بھری یادوں سے جوڑا جاتا رہا ہے، ان کی تیز مہک سے پریشان شہریوں کی شکایات کے بعد انتظامیہ نے درختوں سے پھول ہٹانے کی مہم شروع کردی ہے۔ حکام بعض علاقوں سے درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے پر بھی غور کررہے ہیں، جس نے شہر میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ رہائشیوں کی روزمرہ زندگی کو ترجیح دی جائے یا اس قدرتی ورثے کو محفوظ رکھا جائے جو ہنوئی کی تہذیبی شناخت کا حصہ بن چکا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز اور برطانوی اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق، ہنوئی میں تقریباً ۱۴۴۰۰؍ ’ہوا سوا‘ درخت موجود ہیں۔ ان درختوں کو انگریزی میں بلیک بورڈ ٹری اور بعض مقامات پر ملک فلاور ٹری بھی کہا جاتا ہے، جب کہ ان کا سائنسی نام Alstonia scholaris ہے۔ یہ درخت فرانسیسی نوآبادیاتی دور میں انیسویں صدی کے آخری حصے میں ہنوئی کی سڑکوں پر لگائے گئے تھے۔ آج یہ شہر کے منظرنامے کا ایسا حصہ بن چکے ہیں کہ ان کے پھولوں کی مہک کو ہنوئی میں خزاں کی آمد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
ان درختوں کے سبز مائل سفید پھول عموماً ستمبر اور اکتوبر میں کھلتے ہیں۔ شام کے وقت ان کی خوشبو زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے، اور جب کسی سڑک پر یہ درخت بڑی تعداد میں موجود ہوں تو ان کی مہک پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے۔ بعض افراد کے لیے یہ خوشبو سکون، رومان اور پرانی یادوں سے وابستہ ہے، لیکن ان درختوں کے قریب رہنے والے کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ خوشبو کی شدت ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ ہنوئی کے ۴۳؍ سالہ رہائشی نگویَن ہا لونگ نے بتایا کہ وہ اس خوشبو کو برداشت نہیں کرسکتے اور اس کی وجہ سے شام کے وقت دوڑنے کی اپنی عادت ترک کرچکے ہیں، کیونکہ انہیں اس سے مائیگرین کی شکایت ہوتی ہے۔ ان کا تجربہ ان رہائشیوں کی مشکلات کی عکاسی کرتا ہے جو موسمِ خزاں میں ان درختوں کے قریب رہتے ہیں اور جن کے لیے یہ مہک محض خوش گوار احساس نہیں رہتی۔
شکایات کے بعد مقامی حکام نے پھولوں کی کٹائی کی اپنی اب تک کی سب سے بڑی مہم شروع کی۔ پانچ روزہ کارروائی کے دوران شہر کے تقریباً ۷؍ فیصد ’ہوا سوا‘ درختوں سے پھول ہٹائے گئے۔ اس اقدام کا مقصد ان علاقوں میں خوشبو کی شدت کم کرنا ہے جہاں درخت بڑی تعداد میں لگے ہوئے ہیں اور شہریوں کی جانب سے بار بار شکایات موصول ہورہی ہیں۔ انتظامیہ نے ان سڑکوں سے بعض درختوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے جہاں ان کی کثرت رہائشیوں کے لیے مسئلہ بن رہی ہے۔ تاہم، شہر کے تمام باشندے اس کارروائی سے خوش نہیں۔ وسطی ہنوئی کی نگویَن دو سڑک پر رہنے والی ۳۷؍ سالہ نگویَن تھو ٹرانگ ان درختوں کی خوشبو کو پسند کرتی ہیں۔ ان کے خاندان کو یہاں رہتے ہوئے ۳۰؍ برس سے زیادہ ہوچکے ہیں اور وہ اس مہک کو شہر کی زندگی کا حصہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے ہوا سوا کی خوشبو بے حد پسند ہے۔ خوشبو جتنی تیز ہوتی ہے، مجھے اتنی ہی زیادہ اچھی لگتی ہے۔‘‘ انہوں نے درختوں سے پھول ہٹانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’میرا خاندان یہاں ۳۰؍ سال سے زیادہ عرصے سے رہ رہا ہے اور ہم سب کو یہ خوشبو پسند ہے۔ شہر کو درختوں کی کانٹ چھانٹ کرتے دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہ چارلس سوم نے سلطانِ عمان کے اعزاز میں حدیثِ نبویؐ کا حوالہ دیا
یہ اختلاف دراصل ایک ایسے شہر کے بدلتے ہوئے ماحول کی عکاسی کرتا ہے جہاں قدرتی مناظر، شہری سہولتوں اور لوگوں کی ذاتی ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنا آسان نہیں۔ ایک طرف وہ شہری ہیں جو درختوں کی خوشبو کو ہنوئی کی روح اور خزاں کی پہچان قرار دیتے ہیں، جب کہ دوسری طرف وہ رہائشی ہیں جن کے لیے یہی مہک گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں بند رکھنے، باہر نکلنے کے اوقات بدلنے اور روزمرہ معمولات متاثر ہونے کا سبب بن رہی ہے۔ ویتنام کے روایتی طب کے تحقیقی مرکز کے سربراہ تران کونگ خان نے کہا کہ درختوں کی خوشبو زہریلی نہیں ہے۔ تین دیگر ویتنامی سائنس دانوں نے بھی اس رائے کی تائید کی، تاہم ماہرین نے یہ مشورہ دیا کہ گنجان آباد علاقوں میں ایسے درختوں کی تعداد محدود رکھی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، دوسرے پودوں کی طرح ان کے زرِ گل سے بھی بعض افراد میں الرجی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس لیے بحث صرف خوشبو پسند یا ناپسند کرنے تک محدود نہیں، بلکہ رہائشی علاقوں میں درختوں کی مناسب تعداد اور ان کے محلِ وقوع کا سوال بھی اہم ہے۔
ہوا سوا درختوں کی اہمیت ان کی خوشبو تک محدود نہیں۔ ان کے پھول ہنوئی کے گیتوں اور شاعری میں کئی دہائیوں سے جگہ بناتے آئے ہیں۔ شہر کے ادبی اور ثقافتی تصور میں ان کا تعلق خزاں، محبت اور یادوں سے جوڑا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کانٹ چھانٹ کو بعض شہری صرف باغبانی یا شہری انتظام کا معاملہ نہیں سمجھتے، بلکہ اسے اپنی اجتماعی یادداشت کے ایک حصے سے محرومی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس تنازع کے دوران ہنوئی کی ایک اور ماحولیاتی حقیقت بھی توجہ طلب ہے۔ موسمِ سرما میں فضائی آلودگی کے باعث شہر اکثر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس مسئلے کو عوامی سطح پر اتنی توجہ نہیں ملتی جتنی ہوا سوا کے پھولوں کی مہک کو مل رہی ہے۔ یہ تضاد شہری ماحول سے متعلق ترجیحات پر بھی سوال اٹھاتا ہے: ایک طرف آلودہ ہوا صحت کے لیے وسیع تر مسئلہ ہے، دوسری طرف ایک مخصوص درخت کی موسمی خوشبو شہریوں کے روزمرہ سکون اور صحت سے متعلق بحث کا مرکز بن گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کانگریس وومن الہان عمر امیگریشن تحقیقات پر جیل جا سکتی ہیں: ٹرمپ
ہنوئی انتظامیہ کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ شہریوں کی شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے شہر کی قدرتی اور ثقافتی شناخت کو بھی محفوظ رکھے۔ پھولوں کی منتخب کانٹ چھانٹ اور بعض درختوں کی منتقلی ایک ممکنہ راستہ ہوسکتی ہے، لیکن اس کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہوگا کہ کن علاقوں میں درختوں کی کثرت واقعی مشکلات پیدا کررہی ہے اور کہاں ان کی موجودگی شہر کے ماحول اور رہائشیوں کے لیے قابلِ قبول ہے۔ ہوا سوا کے درختوں کے گرد چھڑی یہ بحث ایک دلچسپ سوال بھی سامنے لاتی ہے: کیا کسی شہر کی پہچان بن جانے والی چیز ہر شہری کے لیے لازماً خوش گوار بھی ہوتی ہے؟ ہنوئی میں جواب واضح نہیں۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ خوشبو خزاں کی سب سے خوب صورت یاد ہے، جب کہ دوسروں کے لیے یہی مہک سر درد اور بے آرامی کا سبب ہے۔ فی الحال حکام پھولوں کی کٹائی اور درختوں کی ممکنہ منتقلی کے ذریعے دونوں فریقوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔