ایم وی ہونڈیئس نامی کُروز جہاز پر ۲۳؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے ۱۵۰؍ افرادسوار تھے،جہاز کو ساحل سےکچھ دوری پر لنگراندازکیا گیا، سخت اور تفصیلی جانچ کی گئی ،اس کے بعد انہیں ’قرنطینہ ‘ میں رکھنے کے بعد اپنے اپنے ملک روانہ کیا گیا۔
جہاز سے مسافروں کو اتارنے سے پہلے پی پی ای کِٹ پہنائی گئی ۔تصویر:پی ٹی آئی
مہلک وبائی مرض ’ہنٹا وائرس‘ کے سبب عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بننے والا ایم وی ہونڈیئس نامی سیاحتی جہاز بالآخر اپنی منزل ٹینرائف پہنچ گیا ہے۔ ارجنٹائنا سے آنیوالےاس کروز جہاز کے اسپین کے جزیرے پر لنگرانداز ہوتے ہی سبھی مسافروں و عملہ کو قرنطینہ میں رکھ کر ان کی سخت جانچ کی گئی ۔اس جہاز پر ۲۳؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً ۱۵۰؍افراد سفر کررہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مسافروں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیجنے کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کی تیاریاں کی گئی ہیں۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق سیاحتی بحری جہاز گراناڈیلا بندرگاہ کے قریبی سمندری حدود میں پہنچتے ہی مقامی انتظامیہ حرکت میں آگیا۔سبھی مسافروں کو احتیاطی تدابیر کے ساتھ قرنطینہ میں رکھا گیااور ان کی جانچ کی گئی ۔ طبی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر سوار کم از کم ۶؍ مسافروں میں ہنٹا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید ۲؍ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں۔ اس وبائی حملے کے نتیجے میں اب تک ۳؍ ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جن میں سے دو اموات دورانِ سفر بحری جہاز پر ہی ہوئیں۔ ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز پر موجود دیگر تمام مسافر فی الحال وائرس کی علامات سے محفوظ ہیں۔ تاہم، حفاظتی اقدامات کے تحت جہاز کو براہِ راست بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اسے ساحل سے دور سمندر ہی میں روکا گیا ہے۔بتایا گیا کہ مسافروں کو چھوٹی کشتیوں کے ذریعے۵،۵؍ کے گروپس میں ساحل پر لایا جائے گا، جہاں ابتدائی طبی معائنے اور وبائی امراض سے متعلق معلوماتی فارم پُر کروانے کے بعد انہیں بسوں کے ذریعے ۶؍میل کی دوری پر واقع ٹینیرائف ایئرپورٹ منتقل کیا جائے گا جہاں سے وہ خصوصی پروازوں کے ذریعے اپنے ممالک روانہ ہوں گے۔
امریکی شہریوں میں سے ایک کا ہنٹا وائرس کا ٹیسٹ مثبت
ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز سے وطن واپس آنے والے۱۷؍ امریکی شہریوں میں سے کم از کم ایک شخص ہنٹا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ امریکی محکمۂ صحت نے پیر کے روز یہ معلومات فراہم کیں۔ امریکہ کے۱۷؍ شہریوں اور امریکہ میں مقیم ایک برطانوی شہری کو ہنٹا وائرس انفیکشن کے خدشے کے پیش نظر پیر کی علی الصبح خصوصی نگرانی اور طبی معائنے کے لیے ریاست نیبراسکا منتقل کیا گیا۔ یہ تمام افراد ایم وی ہونڈیئس کروز جہاز پر سوار تھے، جہاں اینڈیز ویریئنٹ ہنٹا وائرس کے پھیلاؤ کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈبلیوایچ او کے مطابق یہ وائرس عموماً چوہوں جیسے کترنے والے جانوروں سے پھیلتا ہے، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جہاز پر یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوا ہو۔ اب تک اس جہاز سے وابستہ ۳؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ کئی دیگر بیمار ہیں۔ خصوصی طیارہ مقامی وقت کے مطابق پیر کی صبح۳۰:۲؍بجے اوماہا کے ایپلی ایئر فیلڈ پہنچا۔ اس میں۱۷؍ امریکی شہری اور ایک برطانوی شہری سوار تھا جو امریکہ میں ہی رہائش پزیر ہے۔
امریکی محکمۂ صحت و انسانی خدمات (ایچ ایچ ایس) نے اتوار کی رات بتایا کہ مسافروں میں سے ایک شخص کے ٹیسٹ میں وائرس کے لیے ’’کمزور مثبت‘‘ نتیجہ آیا ہے، جبکہ دوسرے مسافر میں ہلکی علامات پائی گئی ہیں۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر دونوں کو طیارے میں خصوصی بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا گیا۔ ایچ ایچ ایس نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ محکمہ بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز (سی ڈی سی) اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ امریکی شہریوں کی وطن واپسی میں تعاون کر رہا ہے۔ بیان کے مطابق مسافروں کو پہلے اوماہا میں واقع یونیورسٹی آف نیبراسکا میڈیکل سینٹر کے ’’ایمرجنگ اسپیشل پیتھوجن ٹریٹمنٹ سینٹر‘‘ منتقل کیا جائے گا۔ اس کے بعد ہلکی علامات والے مسافر کو اس کے آخری مقام پر موجود دوسرے خصوصی علاج مرکز بھیجا جائے گا۔ نیبراسکا میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ جس مسافر کی رپورٹ مثبت آئی ہے، اس میں فی الحال کوئی علامات موجود نہیں، تاہم اسے براہِ راست بایو کنٹینمنٹ یونٹ میں رکھا جائے گا۔ دیگر مسافروں کو قومی قرنطینہ یونٹ میں نگرانی اور ٹیسٹنگ کیلئے رکھا جائے گا۔