ہاتھرس معاملے پر پورا ملک سراپا احتجاج، مظاہرین اور پولیس میں تصادم

Updated: October 01, 2020, 10:34 AM IST | Abdullah Arshad / Agency | Lucknow

اُترپردیش پولیس پر زیادتی کا الزام، رات کے اندھیرے میں خود پولیس اہلکاروں نے متاثرہ لڑکی کی آخری رسومات ادا کردیں۔ اہل خانہ کو انہی کے گھر میں نظر بندکردیا گیا تھا، والدین ناراض، کہا: بیٹی کی شکل تک نہیں دیکھنے دی۔ اہل خانہ دھرنے پر بیٹھے۔پولیس نے کہا، نہ اس کی آبروریزی ہوئی، نہ زبان کاٹی گئی ، نہ ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی توڑی گئی۔ معاملے کی جانچ کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل

Youth Congress Protest - Pic : PTI
ایس یو سی آئی کے کارکنوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ کا پتلا جلایا۔ تصویر : پی ٹی آئی

ہاتھرس میں درندوں کی شکار ایک معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی پر پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ اترپردیش   کے مختلف شہروں کے ساتھ ہی دہلی، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، گجرات، ہماچل پردیش، آندھرا پردیش اور دیگر ریاستوں میں لوگ سڑکوں پر اُترے اورخاطیوں کیلئے قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا۔ جگہ جگہ پر مظاہرین کا پولیس کے ساتھ تصادم بھی ہوا۔ اس دوران اترپردیش پولیس کریہہ چہرہ ایک مرتبہ پھر بے نقاب ہوا جب اس نےرات میں ڈھائی بجے اس کے اہل خانہ کو بتائے بغیر متاثرہ لڑکی آخری رسومات ادا کردی۔اس دوران پولیس پر اس کے گھر والوں کو انہی کے گھروں میں بند کرد ینے کا الزام بھی عائد کیا جارہا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ قدم ثبوت مٹانے کے مقصد سے کیاگیا ہے۔  متاثرہ کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ’’ ہم ہندو رسم و رواج کے تحت دن کے اجالے میں بیٹی کی آخری رسومات ادا کرنا چاہ رہے تھے لیکن پولیس نے ایسا نہیں کرنے دیا۔ رات ڈھائی بجے پولیس نے زبردستی گائوں والوں کو گھر وں میں بند کرکے اس کی آخری رسومات ادا کرا دی۔‘‘ ہاتھرس پولیس پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے لاش کے آس پاس بھی کسی کو نہیں جانے دیا۔اس تعلق سے صفائی پیش کرتے ہوئے ریاست کے اے ڈی جی  نے کہا کہ لاش خراب ہو رہی تھی،اسلئے صبح کا انتظار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دوسری طرف  ضلع کے پولیس کپتان وکرانت ویر نے دعویٰ کیاکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ لڑکی کی زبان کاٹنے اور اس کی کمر کی ہڈی ٹوٹنے کی بات بھی افواہ تھی۔
  ہاتھرس ضلع میں پندر روز قبل عصمت دری کا شکار لڑکی نے گزشتہ روز دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں آخری سانس لی۔اس کے بعد دیر رات ہی میں اس کا پوسٹ مارٹم کراکر لاش کواس کے گھر والوںکے سپرد کردیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی موجوگی میں گھر والے لا ش کو گھرلے جاناچاہ رہے تھے لیکن پولیس نے سختی سے منع کردیا۔ گھر والوںنے جب اس کی مخالفت کی تو پولیس نے گائوں والوں کو گھر وں میں بند کر کے  لاش دکھائے بغیر ہی اس کی آخری رسومات کو ادا کر ادیا۔وہاں پر موجود میڈیا اور سماجی کارکنوںنےبھی اس کی مخالفت کی لیکن ہاتھرس پولیس نے ان کی بھی ایک نہیں سنی۔ لڑکی کے باپ اور بھائی کا الزا م ہےکہ پولیس نے ان کو آخری بار بیٹی کی شکل بھی نہیں دیکھنے دی۔ ان کویہ بھی نہیں معلوم کہ ان کی بیٹی کی لاش کو آگ کس نے لگائی؟ وہیں بھائی کا کہنا تھاکہ پولیس نے گائوں کو چاروں جانب سے گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے ان کے رشتہ داراور گائوں والے ان کے گھر نہیں پہنچ سکے۔ دیر رات جب گھرکی عورتوں نے پولیس کی اس زیادتی کی مخالفت کی تو لیڈی پولیس ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگی۔اتنا ہی نہیں،پولیس نے پوسٹ مارٹم اور میڈیکل رپورٹ بھی نہیں دی ہے۔اس دوران وہاں پر اس طرح کی سرگوشیاں بھی سنائی دیں کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے،اسلئے پولیس ثبوت مٹانے کی کوشش کررہی ہے۔
 پولیس کپتان ہاتھرس وکرانت ویر کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ابھی عصمت دری کی تصدیق نہیں ہوئی ہے تاہم گھر والے پولیس پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ پولیس معاملے کو  رفع دفع کرنا چاہ رہی ہے ۔متاثرہ لڑکی کے بھائی نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ ہم لوگ دلت ہیں ،اسلئے پولیس زبردستی کر رہی ہے ۔پہلے اجتماعی عصمت دری سے انکار کیا گیا بعد میں ملزمین کی گرفتاری میں پولیس نے کوتاہی برتی اوراب اس کی آخری رسومات میں بھی کھیل کھیل رہی ہے۔ اس دوران گاؤں والوں نے الزام عائد کیا کہ متاثر لڑکی کے بھائی اور والد نے پولیس کے خلاف دھرنا دیا تو پولیس انہیں ایک کالی اسکارپیو میں بٹھا کرپتہ نہیں کہاں لے کر چلے گئے۔  
  واضح رہے کہ گزشتہ ۱۴؍ستمبر کو ضلع کے چندپا گائوں میں اعلیٰ طبقات کےچار لڑکے ۱۹؍ سالہ دلت لڑکی کو اغو اکرکے کھیت لے گئے اوراجتماعی عصمت دری کرنے کے بعد اس کی زبان کاٹ دی اور کمر کی ہڈی بھی توڑ دی تھی۔ منگل کو اس لڑکی نے دوران علاج اسپتال میں دم توڑ دیا۔
 سرکاری ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی کو آگ کے حوالے کردینے کے بعد صبح وزیر اعظم مودی نے وزیر اعلیٰ یوگی  سے اس معاملے پر گفتگو کی۔ بات چیت کے بعد وزیر اعلیٰ نے معاملےکی جانچ کیلئے داخلہ سیکریٹری بھگوان سوروپ کی نگرانی میں سہ رکنی ایس آئی ٹی تشکیل کر دی ہے اور انہیں۷؍ دن میںجانچ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔  دریں اثنا وزیر اعلیٰ نے متاثرہ کنبہ کیلئےمزید مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے اس خاندان کو مزید ۱۵؍لاکھ روپوں کے ساتھ  ایک گھردینے  اور کنبہ کے ایک فرد کو نوکری دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK