اکھلیش یادو نے یوگی حکو مت کو بھی نشانہ بنایا،سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ملک میں سماجی انصاف کی بدتر صورتحال کو’بھاجپائی ایمرجنسی‘ قراردیا، بی جے پی کو ہٹانے کا عزم دہرایا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 1:48 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow
اکھلیش یادو نے یوگی حکو مت کو بھی نشانہ بنایا،سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ملک میں سماجی انصاف کی بدتر صورتحال کو’بھاجپائی ایمرجنسی‘ قراردیا، بی جے پی کو ہٹانے کا عزم دہرایا۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے اترپردیش پولیس پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ’بی جے پی کارکن کی طرح‘ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کےمختلف تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست میں پولیس کی غیر جانب داری پر سوال اٹھایا اور سماجی انصاف کی صورتحال کو ’بھاجپائی ایمرجنسی‘ قرار دیا۔ اکھلیش یادو نے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لئےپارٹی کے منشور میں ۱۹۷۵ءکی ایمرجنسی کے خلاف جدوجہد کرنے والوں کے لئے متعدد اقدامات شامل کرنے کا بھی اعلان کیا۔
سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو اترپردیش پولیس کے طریقۂ کار پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس ’بی جے پی کارکن کی طرح‘ کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے حالیہ سخت تبصروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں پولیس پر عوام کا اعتماد متاثر ہو رہا ہے اور ان کے مطابق اس بحران کا حل بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے میں ہی مضمر ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے متعدد مواقع پر وہی خدشات ظاہر کئے ہیں جنہیں سماجوادی پارٹی طویل عرصے سے اٹھاتی رہی ہے۔ اسی لئے بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانا بہت ضروری ہو گیا ہے۔
ایس پی سربراہ نے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم سے متعلق ایک معاملے کا بھی ذکر کیا، جس میں نیشنل سکیوریٹی ایکٹ کی کارروائی سے متعلق ہائی کورٹ کے حکم پر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ انہوں نے قانونی اخراجات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پانچ لاکھ روپے کے جرمانے کا معاملہ ہے جبکہ دوسری طرف وکلاء کی خدمات پر اس سے زیادہ رقم خرچ ہو رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی سربراہ نے ملک اور اترپردیش میں سماجی انصاف کی صورتحال کو ’بھاجپائی ایمرجنسی‘ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پسماندہ، دلت اور اقلیتی طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آواز اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی آئندہ اترپردیش اسمبلی انتخابات کے منشور میں ۱۹۷۵ء کی ایمرجنسی کےدورکے ’مجاہدین جمہوریت‘ کے لئے متعدد اقدامات شامل کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اگر سماجوادی پارٹی کی حکومت بنتی ہے تو ان مجاہدین کا اعزازیہ بڑھا کر ۵۱؍ہزار روپے کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں ان کے علاج اور ادویات کیلئے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے اور علاج مفت فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے آزادی پسندوں کے مساوی احترام اور ٹرین و بس کے کرایوں میں رعایت سے متعلق مطالبات پر بھی کھل کر گفتگوکی۔
یہ بھی پڑھئے:راجستھان: مدارس سے متعلق رپورٹ ہائی کورٹ میں پیش کرنے کا حکم
سماج وادی سربراہ نے اور کیا کہا ؟
اکھلیش یادو نے ایودھیا میں ہونے والی انہدامی کارروائیوں پر بھی سوال اٹھائے اور الزام لگایا کہ بعض عمارتوں کو زبردستی غیر قانونی قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے پڑوسی ضلع امبیڈکر نگر میں سرکاری کام کے لئے مبینہ طور پر غیر سرکاری زمین کے استعمال کو بھی غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جسے وہ ’’بلڈوزر کلچر‘‘ کہتے ہیں، اس کا خاتمہ حکومت کی تبدیلی کے بعد ہی ہوگا۔ سماجوادی سربراہ نے چند تصاویر دکھاتے ہوئے انتخابی عمل اور جمہوری اداروں سے متعلق بھی سنگین الزامات عائد کئے۔