موسلادھاربارش سے ٹرین اور بس خدمات بری طرح متاثر

Updated: June 10, 2021, 8:32 AM IST | saeed ahmed khan | Mumbai

تیز بارش نے ریلوے انتظامیہ کے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ چونا بھٹی سائن کرلا سیکشن پر پٹریوں پانی میں ڈوب گئیں ،سی ایس ایم ٹی تھانے مین لائن اور ہاربر لائن کی ٹرین خدمات ٹھپ۔ شہرومضافات کے۱۴؍ نشیبی مقامات پر پانی بھرنے سے بیسٹ کے۷۲؍ روٹس بدلے گئے،۵۰؍ بسیں مختلف خرابیوں کے سبب بند پڑگئیں

The sign station train tracks appear to be submerged in water.Picture:Inquilab
سائن اسٹیشن پرٹرین کی پٹریاں پانی میں ڈوبی نظر آرہی ہیں ۔ تصویر انقلاب

 : تیز بارش  نے  مانسون کی تیاریوں کے ریلوے کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ۔ موسلادھار بارش کے سبب چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمنس (سی ایس ایم ٹی)  تھانے مین لائن اور سی ایس ایم ٹی واشی ہاربر لائن صبح۱۰؍ بجکر۲۰؍ منٹ سے اور سی ایس ایم ٹی مانخورد ہاربر لائن کی ٹرینیں صبح۱۱؍ بجکر۱۰؍ منٹ سے ٹھپ پڑ گئیں اور خبر لکھے جانے تک حالات میں کوئی تبدیلی نہیں‌ آئی تھی  ۔ ٹرانس ہاربر لائن اور اُرن سیکشن پر ٹرین‌ خدمات جاری رہیں‌ جبکہ تھانے کرجت اور واشی پنویل کے درمیان شٹل سروسیز مہیا کروائی گئیں۔ دوپہر کو ہائی ٹائیڈ سے سمندر میں‌ اونچی لہریں  اٹھیں جس سے اور مسئلہ پیدا ہوا۔ اس کے برخلاف ویسٹرن ریلوے کے مطابق ٹرینوں کی رفتار کچھ  دھیمی ضرور ہوئی مگر رکی نہیں۔ احتیاط کے طور پر ڈاؤن سلو لائن کی ٹرینیں خاص طور پر ماٹونگا اور ماہم کے درمیان۲۵؍ کلومیٹر کی اسپیڈ سے چلائی گئیں کیونکہ یہاں پانی زیادہ تھا۔ مضافاتی ریلوے کی مذکورہ صورتحال کے علاوہ سینٹرل ریلوے کی۲؍ طویل مسافتی ٹرینیں سی ایس ایم ٹی  آسنسول اور سی ایس ایم ٹی گورکھپور  اسپیشل، ان دونوں  ٹرینوں کو ری شیڈول کیا گیا‌ اور ان کو مقررہ وقت سے ڈھائی تا تین گھنٹے تاخیر سے روانہ کیا گیا۔
 سینٹرل ریلوے  کے چیف پی آر او شیواجی ستار نے نمائندۂ انقلاب کو بتایا کہ چونکہ مسلسل تیز  بارش جاری رہی اس وجہ سے مذکورہ بالا اسٹیشنوں کے درمیان اتنا پانی پٹریوں پر بھر گیا تھا کہ ٹرینیں چلانا مشکل تھا اس لئے ٹرینوں کو روک دیا گیا۔ان کے مطابق جہاں سیلابی صورتحال نہیں تھی ، وہاں ٹرینیں معمول کے  مطابق چلائی گئیں ۔ انہوں  نے  یہ بھی بتایا کہ حالات کی نگرانی کیلئے عملہ تعینات کیا گیا ہے اور وہ حالات کی اطلاع کنٹرول روم کو وقفے وقفے سے دیتا رہا۔ صبح کے وقت جب تک ممکن ہوا‌ ٹرینیں مین لائن اور ہاربر لائن پر چلائی گئیں ، اس کے بعد۱۰؍ بجے سے روک دی گئیں۔ اس دوران لازمی خدمات پرمامور عملے کو سفر میں یقیناً دشواریاں پیش آئی ہونگی اور بڑی تعداد میں‌ لوگ سفر نہ کرسکے ہوں گے لیکن یہ سب کچھ حالات کے سبب ہوا۔ آئندہ ریلوے کی کوشش ہوگی کہ جن جن مقامات پر پانی جمع ہوا تھا،  وہاں کس طرح ان حالات سے بچا جاسکتا ہے، مزید تیاری کی جائے گی ۔
۹؍ گھنٹے بعد ٹرین سروس بحال
 سی ایس ایم ٹی کلیان اور سی ایس ایم ٹی باندرہ اور گوریگاؤں کے درمیان سلو لائن پر پہلی ٹرین شام کو پونے۷؍ بجے یعنی۹؍ گھنٹے بعد روانہ ہوئی اور سینٹرل ریلوے   کے مطابق اس کی ٹرین خدمات بحال ہوگئیںلیکن۹؍ گھنٹے بعد بھی وڈالا مانخور د ہاربر لائن کی ٹرین خدمات بحال نہ ہونے کا بھی ریلوے نے اعتراف کیا ۔  فاسٹ ٹرین ۱۰؍ گھنٹے بعد بحال ہوئی ۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق چونا بھٹی ، سائن اور کرلا سیکشن میں واٹر پمپ سے پٹریوں پر جمع پانی کی نکاسی کا عمل مسلسل جاری ہے۔اس کے علاوہ مجموعی طور پر۱۱؍ طویل مسافتی ٹرینوں کو ری شیڈول کیا گیا۔
بس چلانے میں کئی مسائل کا سامنا
  شہر و مضافات کے۱۴؍ نشیبی علاقوں میں پانی بھرجانے   کے سبب ان روٹس پر چلائی جانے والی تقریباً ۷۲؍  بسوں کے روٹ بدلے گئے اور انہیں دیگر روٹس پر چلایا گیا جبکہ کچھ روٹس کو بند رکھا گیا۔جن مقامات پر پانی بھرا تھا،  ان میں مانخورد اسٹیشن، سائن روڈنمبر ۱۴، انٹاپ ہل سیکٹر۷، گاندھی مارکیٹ، کمانی سے بیل بازار، شیتل ، کلپنا، ہند ماتا سنیما، ماہم، ایئر انڈیا کالونی ایس وی روڈ، آر سی ایف کالونی، اندھیری مارکیٹ، اجیت گلاس ، دہیسر چیک ناکہ فلائی اوور اور سائی ناتھ سب وے کے علاوہ دیگر علاقے شامل ہیں۔
  مذکورہ بڑی تعداد میں روٹ بدلنے کے علاوہ۵۰؍  بسوں میں خرابی پیدا ہوگئی ۔ کسی کا انجن بند ہوگیا تو کسی کا ٹائر پنکچر ہوگیا تو کسی میں کچھ اور مسائل پیدا ہوگئے جس کی وجہ سے۵۰؍ بسیں راستے میں بند پڑگئیں۔یہ تفصیلات بیسٹ کے پی آر او منوج وراڈے نے بتائیں ۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حالات کے پیش نظر بیسٹ کی جانب سے ممکنہ کوششیں کی گئیں لیکن کئی مسائل کا سامنا ہوا ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK