وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی قیادت میں امتحانات کے تعلق سے منعقدہ اعلیٰ سطحی میٹنگ میںریاستوں کے وزرائے تعلیم نے اپنے مشورے دئیے ،سی بی ایس ای بورڈ نے امتحانات کیلئے ۲؍ متبادل تجویز کئے ، فیصلے کا اختیار ریاستی بورڈز پر،راجناتھ سنگھ نے ریاستوں سے ۲؍ دن میں جواب مانگا
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این
کورونا وائرس کی دوسری لہر کے شدت اختیار کرجانے کے سبب ملک میں۱۲؍ ویں بورڈ کے امتحانات منسوخ کر دئیے گئے۔ اس صورتحال میں طلبہ انتظار کر رہے ہیں کہ آیا یہ امتحان لیا جائے گا یا نہیں۔ اسی کشمکش کی صورتحال میں اتوار کو مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کی سربراہی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی جس میںریاستوںنے اپنی رائیں دیں۔ اس ورچوئل ڈیجیٹل کانفرنس کے دوران متعدد ریاستوں کے وزرائے تعلیم نے۱۲؍ ویں امتحان کے انعقاد پر اپنی رائے دی ۔ میٹنگ کے بعد ذرائع نے بتایاکہ سی بی ایس ای ۱۲؍ بورڈ کے امتحانات منعقد ہوسکتے ہیں۔ میٹنگ بے نتیجہ رہی لیکن سی بی ایس ای نے امتحانات منعقد کرانے کے ۲؍ متبادل تجویز کئے ۔ بتا دیںکہ یہ میٹنگ بے نتیجہ رہی لیکن ان میں اس فیصلے کا اختیار ریاستی بورڈز کو ہی دیاگیا ہے کہ وہ امتحانات کس طرح اور کب منعقد کریں گی ۔ ادھرسینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن(سی بی ایس ای) نے اس سال دو مرتبہ بارہویں بورڈ کے امتحانات کے انعقاد کی تجویز پیش کی ہے۔ تجاویز کے مطابق جہاں بھی حالات سازگار ہوں گے، وہاں امتحانات منعقد کیے جائیں گے۔ سی بی ایس ای کے مطابق ایسے علاقوں میں جہاں حالات سازگار نہیں ہیں، وہاں امتحانات پہلے مرحلے کے ۱۵؍ دن کے بعد شروع ہوں گے۔مزید یہ کہ اگر کووڈ سے متعلقہ معاملات کی وجہ سے کوئی طالب علم طے شدہ امتحان میں شرکت کرنے سے قاصر ہے، تو اسے بعد کے مرحلے میں امتحانات میں شرکت کا ایک اور موقع فراہم کیا جائے گا۔
بورڈ کے ذریعہ تجویز کردہ یہ واحد آپشن نہیں ہے۔ سی بی ایس ای اس بات پر بھی غور کر رہاہے کہ صرف بڑے مضامین کے لئے امتحانات کا انعقاد ہونا چاہئے۔ عام طور پر ایک طالب علم اپنی بارہویں کے بورڈ امتحانات میں پانچ یا چھ مضامین کے لئے حاضر ہوتا ہے۔ اس سال بورڈ طلبہ کو صرف ایک زبان اور تین اختیاری مضامین کا امتحان دینے کی تجویزپر بھی غورکررہاہے۔ وزارت کو ارسال کردہ تجویز کے مطابق ان مضامین میں طلبہ کی کارکردگی کی بنیاد پر پانچویں اور چھٹے مضامین کے نتائج کا فیصلہ کیا جائے گا۔
سی بی ایس ای بورڈ کے امتحانات کے تعلق سے منعقدہ اس میٹنگ میں تمام ریاستوں کے وزرائے تعلیم نے کہا کہ امتحان ہونے چاہئیں جبکہ دہلی حکومت کے وزیر تعلیم منیش سسودیا نے کہا کہ پہلے امتحان دینے والے طلباء کو ٹیکہ لگے اس کے بعد امتحانات ہوں۔دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر تعلیم منیش سسودیا کا کہنا تھا کہ۱۲؍ ویں جماعت کے۹۵؍ فیصد طلبہ کی عمر ساڑھے۱۷؍ سال سے زیادہ ہے اس لئے اس تعلق سے مرکز کو ماہرین سے بات کرنی چاہیے کہ انہیں ٹیکہ لگوایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر ٹیکہ لگوائے امتحان دلوانا وبا کے اس دور میں ایک بڑی غلطی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہاں تک مشورہ دیا کہ مرکز کو اس تعلق سے فائزر کمپنی سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ دار ی ہے۔عام طور پر ایسے اجلاس یا تو وزیر تعلیم کی صدارت میں بلائے جاتے ہیں یا وزیر اعظم یا وزیر داخلہ کی قیادت میں، لیکن یہ شاید پہلی مرتبہ ہے کہ وزیر دفاع کی قیادت میں تعلیم کے تعلق سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس میں وزیر تعلیم رمیش پوکھریال نشنک، مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی، پرکاش جاوڈیکر کےعلاوہ تمام ریاستوں کے وزرائے تعلیم اور سیکریٹری تعلیم نے شرکت کی۔وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے تمام ریاستوں سے اس تعلق سے ان کے تحریری جواب مانگے ہیں اور ان کو اس کے لئے۲؍ دن کا وقت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ریاستوں کے تحریری جواب آنے کے بعد۳۰؍مئی کووہ پھرایک میٹنگ کریں گے جس میں آگے کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ واضح رہے کانگریس کی جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی وبا کے اس دور میں امتحان کروانے کے حق میں نہیں ہیں۔