Inquilab Logo Happiest Places to Work

اُف یہ آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم) !

Updated: June 02, 2026, 1:00 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

سی بی ایس ای کی ویب سائٹ پر اور ایس ایم کی بابت بتایا گیا تھا کہ اس کے بارے میں سب سے پہلے ۲۰۱۴ء میں سوچا گیا تھا مگر لازمی تکنیکی آلات میسر نہ ہونے کے سبب اسے التواء میں رکھا گیا۔

Students.Photo:INN
طلبہ۔ تصویر:آئی این این
سی بی ایس ای کی ویب سائٹ پر اور ایس ایم کی بابت بتایا گیا تھا کہ اس کے بارے میں سب سے پہلے ۲۰۱۴ء میں سوچا گیا تھا مگر لازمی تکنیکی آلات میسر نہ ہونے کے سبب اسے التواء میں رکھا گیا۔ تکنیکی آلات کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جوابی پرچہ کو کٹ کئے بغیر اسکین کرنے کی سہولت نہیں تھی نیز یہ خدشہ تھا کہ جوابی پرچے خلط ملط ہوجائینگے۔ ویب سائٹ پر’’نو اَباؤٹ آن اسکرین مارکنگ (او ایس ایم)‘‘ کے عنوان سے دی گئی تفصیل کے مطابق او ایس ایم کی کارکردگی سنوارنے کیلئے کافی تحقیق (ریسرچ) کی گئی۔ تب ہی یہ بھی علم ہوا کہ بہت سی یونیورسٹیاں اور چند غیر ملکی بورڈ بھی اس کا استعمال کررہے ہیں اور بڑی کامیابی کے ساتھ کررہے ہیں۔
اس تفصیل کا مطالعہ کرنے سے جتنے جوابات نہیں ملتے اُتنے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر کیا ہمارے ملک میں تکنالوجی کے جاننے اور اس میں اختراعی پیش رفت کرنے والوں کا کال پڑا ہے کہ اس کے ایک مظہر کے استعمال پر غوروخوض ۲۰۱۴ء میں ہوا اور اس پر پہلی مرتبہ عمل درآمد ۲۰۲۵ء میں کیا گیا؟ تیزی سے بدلتی ہوئی تکنالوجی کی دُنیا میں کسی ایک سافٹ ویئر کے استعمال کیلئے کیا بارہ سال درکار ہوسکتے ہیں جو کہ ہوئے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو وزیر اعظم کے وِکست بھارت کے سپنے کو ساکار کرنے میں ہمیں کتنی مدت درکار ہوگی اس کے بارے میں سوچنا پڑے گا۔ 
 
 
سی بی ایس ای کی ویب سائٹ پر یہ بھی درج ہے کہ او ایس ایم پرچوں کی جانچ کا ڈجیٹل طریقہ ہے جس میں طلبہ کے جوابی پرچے، جانچ کیلئے ایک اسکرین پر فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس سے قبل جوابی پرچوں کی اسکیننگ کی جاتی ہے۔ اتنی بات تو ہماری بھی سمجھ میں آگئی تھی اور ہمیں صرف اتنا فائدہ نظر آیا تھا کہ جوابی پرچوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لیجانے کی صعوبت اور متعلقہ خطرات (پرچے گم ہوجائیں، کسی وجہ سے تلف ہوجائیں وغیرہ) سے بچا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ تو کوئی میرٹ ہمیں دکھائی نہیں دیا۔ اگر او ایس ایم کے استعمال کی وجہ صرف اتنی ہے تو کیا بورڈ پرچوں کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لے سکتا جو کہ اب تک لیتا آیا تھا؟ اچانک ایسا کیا ہوگیا کہ اس نے پرچوں کی جانچ کے روایتی طریقے کو خیرباد کہہ دیا اور ایک نیا طریقہ اپنایا گیا جو سو فیصد محفوظ نہیں بلکہ طلبہ کے مستقبل کو ہزار خطرات سے دوچار کرسکتا ہے؟خود بورڈ کا کہنا ہے (جو ویب سائٹ پر درج ہے) کہ پرچوں کی جانچ کے روایتی طریقے اور آن اسکرین مارکنگ میں کوئی فرق نہیں ہے (اگر کچھ ہےتو صرف یہ کہ) آن لائن مارکنگ میں جوابی پرچہ مانیٹر پر موجود ہوتا ہے اور نمبرات دینے کیلئے ماؤس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اب کون پوچھے کہ اتنے بڑے بورڈ نے، جس سے دسویں کے ۲۴ء۷؍ ملین اور بارہویں کے ۱۷؍ ملین طلبہ ہوں، روایتی طریقے کو آن لائن طریقے میں کیوں تبدیل کیا جب خود اس کے بقول دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟ اسی لئے ہم نے بالائی سطور میں عرض کیا کہ بورڈ کی پیش کردہ تفصیل سے جتنے جوابات نہیں ملتے اُتنے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ 
 
 
ایک اور سوال جو بعض مبصرین نے اُٹھایا یہ ہے کہ اور ایس ایم نافذ کرنے سے پہلے صرف پانچ اسکولوں میں اس کی مشق (ڈرائی رن) کا اہتمام کیوں ہوا اور پانچ سو اسکولوں میں کیوں نہیں ہوا؟ اس ضمن میں ہماری رائے یہ ہے کہ اگر پانچ سو اسکولوں میں بھی اہتمام کیا جاتا تب بھی ممکن تھا کہ اساتذہ سافٹ ویئر کی خامی یا نقص کو نوک زبان پر نہ لاتے کیونکہ انہیں طلبہ کا مستقبل تو پیارا ہے مگر ملازمت بھی پیاری ہے۔ وہ سوچتے ہیں کہ کوئی اختلافی بات کہہ کر کیوں کسی مشکل میں پھنسیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK