Updated: April 13, 2026, 9:02 PM IST
| New Delhi
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے توقع ہے کہ یہ عالمی سطح پر ۸۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی معاشی پیداوار پیدا کرے گا، جس سے سیاحت، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور خدمات جیسے شعبوں کو فروغ ملے گا۔ یہ ٹورنامنٹ ۱۱؍ جون کو میکسیکو کے ایزٹیکا اسٹیڈیم میں شروع ہوگا اور امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کے ۱۶؍ شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔
فیفا ورلڈ کپ ۔تصویر:آئی این این
فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء سے توقع ہے کہ یہ عالمی سطح پر ۸۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ کی معاشی پیداوار پیدا کرے گا، جس سے سیاحت، ریٹیل، ٹرانسپورٹ اور خدمات جیسے شعبوں کو فروغ ملے گا۔ یہ ٹورنامنٹ ۱۱؍ جون کو میکسیکو کے ایزٹیکا اسٹیڈیم میں شروع ہوگا اور امریکہ، کنیڈا اور میکسیکو کے ۱۶؍ شہروں میں منعقد کیا جائے گا۔ پہلی بار، اس توسیع شدہ فارمیٹ میں ۴۸؍ ٹیمیں شامل ہوں گی جو مجموعی طور پر ۱۰۴؍ میچز کھیلیں گی۔
رپورٹ کے مطابق، اس ایونٹ میں ۶۵؍ لاکھ شائقین آنے کی توقع ہے، جو ۹ء۱۳؍ ارب ڈالر تک خرچ کر سکتے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ۱ء۸۰؍ ارب ڈالر کی معاشی پیداوار اور عالمی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی ) میں۹ء۴۰؍ ارب ڈالر کا حصہ ڈالیں گے، یہ بات فیفا اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ یہ ایونٹ۸؍لاکھ ۲۴؍ ہزار مکمل وقتی ملازمتیں بھی پیدا کرے گا۔
ایک ماہ تک جاری رہنے والا یہ ایونٹ وینکوور، ٹورنٹو، میکسیکو سٹی، گواڈالاخارا، مونٹیرے، اٹلانٹا، بوسٹن، ڈلاس، ہیوسٹن، کنساس سٹی، لاس اینجلس، میامی، نیویارک-نیو جرسی، فلاڈیلفیا، سیئٹل اور سان فرانسسکو میں منعقد ہوگا۔ فائنل ۱۹؍ جولائی کو نیو جرسی میں کھیلا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:جرمن فٹ بال میں تاریخ رقم: میری لوئیس ایٹا بنڈس لیگا کی پہلی خاتون ہیڈ کوچ مقرر
۱۱؍میزبان شہروں کے ساتھ، امریکہ سے توقع ہے کہ وہ معاشی اثرات کا بڑا حصہ حاصل کرے گا۔ امریکہ میں یہ ٹورنامنٹ ۱۸۵۰۰۰؍ مکمل وقتی ملازمتیں پیدا کرے گا، جبکہ معیشت میں ۲ء۱۷؍ارب ڈالر کا حصہ ڈالے گا اور ۴ء۳؍ ارب ڈالر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس ریونیو پیدا کرے گا۔آکسفورڈ اکنامکس کے مطابق، امریکہ میں تقریباً۴ء۱۲؍ لاکھ بین الاقوامی شائقین آنے کی توقع ہے، جن میں سے ۶۰؍فیصد ایسے سیاح ہوں گے جو خاص طور پر اس ایونٹ کے لیے پہلی بار سفر کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:فاتح چنئی کے سامنے کولکاتا کا سخت امتحان؛ پہلی کامیابی کے لیے کے کے آر بے چین
لاس اینجلس آٹھ میچز کی میزبانی سے لاکھوں ڈالر آمدنی حاصل کرنے کا ہدف رکھتا ہے، اور مجموعی معاشی اثر کا اندازہ ۵۸۴؍ ملین ڈالر لگایا گیا ہے، جو ۲۰۲۲ء کے سپر باؤل سے بھی زیادہ ہے۔تاہم، بلند ٹکٹ قیمتوں اور رہائش کے اخراجات کی وجہ سے ورلڈ کپ شائقین کے لیے مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔بین الاقوامی زائرین کا اوسط روزانہ خرچ۴۱۶؍ ڈالر تخمینہ کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ شائقین میزبان ممالک میں اوسطاً ۱۲؍ دن قیام کریں گے اور فی شخص کم از کم دو میچز دیکھیں گے۔ میزبان شہر ریکارڈ سطح پر ہوٹلوں کی بھرائی اور مختصر مدتی کرایہ کی کمی کی توقع کر رہے ہیں۔