امن وامان کو بنیاد بنا کر۲۴؍ گھنٹے سے زائد زیر حراست رکھنے پر روزانہ ۲۵؍ہزار روپے معاوضہ دینا ہوگا، رقم گرفتاری کےذمہ دار افسر سے وصول کی جائےگی
EPAPER
Updated: June 09, 2026, 11:08 PM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow
امن وامان کو بنیاد بنا کر۲۴؍ گھنٹے سے زائد زیر حراست رکھنے پر روزانہ ۲۵؍ہزار روپے معاوضہ دینا ہوگا، رقم گرفتاری کےذمہ دار افسر سے وصول کی جائےگی
اتر پردیش میں’نقض امن ‘ کے اندیشے کو جواز بنا کر حفظ ماتقدم کے تحت بے تحاشہ گرفتاریوں کو ’’انتہائی تشویشناک‘‘ قرار دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ۲؍ اہم فیصلوں میں ریاستی حکومت کو متاثرین کو ہر دن کی قید کے عوض ۲۵؍ ہزار روپے ادا کرنے اور یہ رقم گرفتاری کیلئے ذمہ دار افسر اور مجسٹریٹ سے وصول کرنے کا حکم دیا ہے۔ اتناہی نہیں کورٹ نے ریاست میں امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر کی جانے والی گرفتاریوں کیلئے سخت رہنما خطوط بھی جاری کردیئے ہیں اور حکم دیا ہے کہ حفظ ماتقدم کے تحت کسی کو ۲۴؍ گھنٹے سے زائد زیر حراست رکھنے پر حکومت کو اسے یومیہ ۲۵؍ ہزار روپے معاوضہ دینا ہوگا اور بعد میں یہ رقم محکمہ جاتی کارروائی میں قصوروار ثابت ہونے والے متعلقہ مجسٹریٹ یا پولیس افسر کی تنخواہ سے وصول کی جائے گی۔
عدالت میں جب اعدادوشمار پیش کئے گئے تو معلوم ہوا کہ الہ آباد اور غازی آباد میں گزشتہ ۲؍ برسوں میں ۴؍ ہزار ۸۴۷؍افراد کو امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر گرفتار کیاگیا ہے ۔ان اعدادوشمار نے ہائی کورٹ کو حیرت میں مبتلا کردیا۔ بنچ نے کہا کہ قانون کا مقصد امن و امان برقرار رکھنا ہے شہریوں کو بلاوجہ جیل میں رکھنا نہیں ہے۔ عدالت نے اس بات پر بھی ناراضگی ظاہر کی کہ بعض معاملات میں لوگ ذاتی مچلکے جمع کرانے کے باوجود کئی دنوں تک جیل میں رہے، جس کی کوئی معقول وجہ پیش نہیں کی جا سکی۔
منصور کو ۲؍ لاکھ اور چندر پال کو ۷۵؍ ہزار معاضہ
جسٹس سدھارتھ اور جسٹس وِئے کمار دویدی کی بنچ نے یہ ہدایات الہ آباد کے منصور عالم عرف للو اور چندر پال سنگھ کی جانب سے داخل کی گئی حبس بے جا کی پٹیشن پر جاری کیں۔ ،منصور عالم کو تعزیرات ہند (بی این ایس) کی دفعہ ۱۷۰، ۱۲۶؍ اور ۱۳۵؍ کے تحت (سابقہ آئی پی سی میں سیکشن ۱۵۱، ۱۰۷؍ اور ۱۱۶) کے تحت۸؍ دنوں تک عدالتی تحویل میں رکھا گیا۔ منصور عالم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو انہیں ۲؍ لاکھ روپے معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت اور جانچ کے بعد رقم متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سے وصول کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح چندر پال سنگھ بنام ریاست اتر پردیش کیس میں بنچ نے چندر پال سنگھ کو غیر قانونی حراست کے باعث۷۵؍ہزار روپے بطور معاوضہ دینے کا حکم دیا، جو ۲۵؍ہزار روپے یومیہ کے حساب سے طے کیا گیا۔ چندر پال سنگھ، جو الٰہ آباد ہائی کورٹ کے وکیل ہیں، کو۲۲؍فروری کو غازی آباد پولیس نے حراست میں لیا لیکن ۲۴؍گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا اور بعد میں بھارتیہ شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی احتیاطی دفعات کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔کورٹ نے پولیس افسر کے ساتھ ہی مجسٹریٹ کے طرزعمل پر بھی نکیر کی۔